فاروق ستار نے الطاف حسین کو زندہ کردیا 

syed arif mustafa

            پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے راج سنگھاسن پہ قبضے کی جنگ میں گھمسان کا رن پڑگیا ہے اور یہ شاید بلکہ یقینناً اس کے ماضی کے گناہوں کی سزا ہے لیکن اس کی سزا سندھ کے شہری عوام کو بھگتنی پڑسکتی ہے کیونکہ ایک طرف لندن گروپ کے موقع پرست ہیں اور دوسری طرف پی ایس پی جسے ملک کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے تشکیل دیا گیا ہے اور جو کہ وفاقیت کے نعروں کی آڑ میں شہری سندھ کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں دفن کردینے اور جانے مانے قاتلوں اور بھتہ خوروں کو چھڑانے کے دو نکاتی ایجنڈے کے ساتھ میدان میں سرگرم عمل ہے اور آج اس کے ساتھ مل جانے والوں کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں کہ جو ماضی کی متحدہ کے تھے-ایسے میں اگر جون ایلیا کا یہ شعر پڑھیے  تو یوں لگتا ہے کہ جیسے آج کے فاروق ستار کے لیے  ہے ۔

میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس......خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں!

اس شعر میں اگر یہ ذرا سی تبدیلی کردی جائے کہ خود کو تباہ کرلیا کی جگہ پارٹی کو تباہ کردیا کے الفاظ ڈال دیئے جائیں توسارا شعر حسب حال ہوجائےگا ، ایک ہفتے سے اس ایک شخص نے روزتماشا لگا رکھا ہے صبح و شام نت نئے پینترے بدل رہا ہے اور اس کی وجہ محض ایک ہی ہے اور اس کا نام کامران ٹیسوری یعنی وہ گھس بیٹھیا کہ جسے سینٹ کا ٹکٹ دینے کے لیے  فاروق ستار نے پارٹی کی تباہی کی بھی پرواہ نہ کی اور جس کی اس 39 سالہ جماعت میں موجودگی کی مدت محض ایک برس ہے اور کئی پارٹیاں بدلنے کے باوجود جس کے سیاسی دودھ کے دانت ابھی تک نہیں ٹوٹے ہیں اور جسے حیرت انگیز اور قطعی پراسرار وجوہ کی بناء پہ فاروق ستار اپنے اور پارٹی کے سر پہ بٹھاتے بٹھاتے وہاں لے آئے کہ جس تیزرفتارشخصی ترقی کی مثال شاید دنیا بھر میں کوئی دوسری نہ مل پائے ۔

کہا جاتا ہے کہ ٹیسوری نامی اس تحفے کو وہ رینجرز آفس سے واپسی پہ ساتھ لائے تھے ورنہ کوئی سوچے کہ آخر ایسا کیا رازچھپا ہے فاروق ستار کی ضد میں کہ اس ایک شخص ٹیسوری کی خاطر ساری پارٹی برباد کرڈالی کیونکہ یہ سب معاملہ ہمیشہ سے ہی بہت ہی پراسرار نظر آتا ہے اور خاص طور پہ عین سینٹ کے الیکشن کے موقع پہ یہ کھٹراگ کھڑا ہوجانے سے صاف عیاں ‌ہے کہ اصل معاملہ کچھ اور ہی ہے اور سارا کھیل بذریعہ ٹیسوری، کسی اور کی پچ پہ کھیلنے کے لیے  کھیلا جارہا ہے –

یہ وہ بات تھی جو بڑی دیر سے بہادرآباد گروپ کہلائے جانے والے نادانوں کو بڑی دیر میں سمجھ آئی ورنہ تو وہ فاروق ستار کو مسلسل طرح دیتے رہے اور ان کے غلط فیصلوں کو نظرانداز کرتے رہے ۔ ان کی جانب سے اپنے سربراہ پہ اتنا اعتماد کرنے اور اس قدر کشادہ چھوٹ ملنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کھلی اور قطعی من مانی کرنے پہ اتر آئے اور بالآخر اس غافل رابطہ کمیٹی کی اکثریت کی برداشت بھی جواب دے گئی اور وہ فاروق ستار کی من مانیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پہ مجبور ہوگئے ۔۔آج فاروق ستار جن لوگوں کے لیے  یہ شعر پڑھتے سنے گئے ہیں کہ ” دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف ۔۔۔ اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔۔۔” تو درحقیقت یہ شعر ان سے اختلاف رکھنے والوں کو پڑھنا بنتا ہے کہ انہوں نے پارٹی کی سالمیت کی خاطر اپنے جس سربراہ کو بھرپور اعتماد دیا بڑھ چڑھ کے ساتھ دیا اس نے ان کی مفاہتی سوچ کی کس قدر توہین کی اور اسے ان کی مجبوری بلکہ معذوری باور کرلیا اور باہر سےایک اجنبی کو لاکے ان کے سروں پہ مسلط کردیا ۔۔۔

کوئی ذرا دیکھے تو سہی کہ فاروق ستار آج جنہیں برادران یوسف کہہ  رہے ہیں‌، درحقیت انہوں نے تو ان کو راضی رکھنے کے لیے  وہ کچھ برداشت کرلیا تھا کہ جو کسی اور سیاسی جماعت میں قبول کیا جانا کسی طور ممکن ہی نہیں ۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ماضی قریب میں ایسے کئی مواقع آئے کہ جب انہیں فاروق ستار کے نہایت غلط اور آمرانہ فیصلوں کی شدید مزاحمت کرنی چاہیے  تھی مثلاً انہیں تو اسی وقت شور مچانا   چاہیے  تھا کہ جب ٹیسوری کی شمولیت کے صرف دو ہفتوں کے بعد انہیں پارٹی کے سب سے اہم ادارے رابطہ کمیٹی میں شامل کرلیا گیا تھا، اس کے علاوہ انہیں ٹیسوری کو پارٹی میں آنے کے صرف 4 ماہ بعد ہی پی ایس 118 کا ٹکٹ دینے کا آمرانہ فیصلہ ماننے سے بھی انکار کردینا چاہیے  تھا اور اس کے کچھ ہی روز بعد جب ٹیسوری کے درجات ڈپٹی کنوینر کی سطح تک بڑھائے گئے تب تو انہیں دو ٹوک انداز میں علم بغاوت بلند کرڈالنا چاہیے  تھا کیونکہ اس نووارد کی یہ شرمناک پذیرائی پارٹی کے پرانے قربانی دینے والے کارکنوں کی شدید تذلیل کے مترادف تھی لیکن یہ مبینہ ‘برادران یوسف’ کسی نہ کسی طور فاروق ستار کے ساتھ کھڑے رہے اور پارٹی کی سالمیت اور مصلحت کے نام پہ ان غلط فیصلوں کا بوجھ اپنے سروں پہ بڑھاتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ہردرد کی دوا ٹیسوری کو بنا ڈالنے کے عمل نے بالآخر ا ن کی چیخیں ہی نکال دیں اور پھر سارا اختلاف صرف ایک نام پہ ہی تو رہ گیا تھا۔

خود فاروق ستار کے مطابق پہلے تین ناموں پہ تو دونوں گروپوں کا اتفاق تھا۔۔کوئی ان سے یہ تو پوچھے کہ جب ٹیسوری کے نام پہ تنازع ہوا تو انہوں نے ایک نام کے بجائے چاروں نام ہی بدل ڈالنے کی بات کیوں کرڈالی اور اس اختلاف کی سزا پہلے 3غیرمتنازع لوگوں کو بھی دینے کی کیوں ٹھان لی ۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے ان کی جانب سے پہلے 3 ناموں  پہ  اتفاق کی بات بھی محض فریب ہی تھا لیکن اصولی ناراضگی کے باوجود برادران یوسف کا لقب پانے والی یہ رابطہ کمیٹی انہیں منانے روز پی آئی بی میں آستانہء فاروقیہ ستاریہ کے چکر پہ چکر لگاتی رہی ،گھنٹوں سمجھانے کی کوششیں کرکے دیکھ لیں ٹھوڑیوں میں ہاتھ ڈال دیئے مگر اسے ہر بر ناکام لوٹا دیا گیا اور دوسری طرف خود فاروق ستار نے کئی بار بہادرآباد آنے کے پکے وعدوں کے ڈرامے کیے  لیکن فاروق بھائی کی موٹر سوئے بہادرآباد چل کے نہ دی ۔۔۔ پم پم پم ۔۔۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے ذہن میں مفاہمت کے بجائے کچھ اور چل رہا تھا اور وہ سمجھ چکے تھے کہ وہ اب تک رابطہ کمیٹی کو جتنا دبا چکے ہیں اب وہ دیوار سے جالگی ہے لہٰذا اب اسے مزید پیچھے ہٹانا ممکن ہی نہیں رہا تو کیوں نہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مخالفین کو باہر کرکے الطاف حسین پارٹ ٹو  بننے کی کوشش کی جائے۔۔۔

سو انہوں نے نہایت عیاری سے جنرل ورکرز اجلاس  طلب کرلیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یوسی کے بلدیاتی ارکان اور ناظمین کی بدولت وہ ہر وقت وہاں کے کثیر تعداد میں برسرملازمت دفتری عملے اور خاکروبوں کو طلب کرکے وہ کسی بھی وقت ‘ جزوی طور پہ کامیاب جلسے’ کا سوانگ رچاسکتے ہیں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا ، یہ ایک فضول مشق سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیونکہ قانونی طور پہ ایسے مشکوک اور بے ضابطہ جلسوں سے انٹراپارٹی الیکشنوں کا کوئی لینا دینا ہی   شمار نہیں ہوتا-

دلچسپ بات یہ ہے کہ کے ایم سی پارک میں 11 فروری کی شب کے کنونشن میں انہوں نے اپنے مخالفین کو حقیقی ٹو کا طعنہ مارا ہے اورجبکہ خود یہ بھول گئے وہ عوام کے سامنے جس حقیقی کو نہایت بڑی برائی کے طور پہ پیش کررہے ہیں تو ابھی دو روز پہلے  ہی انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کھلے بندوں حقیقی والے آ فاق احمد سے تعاون کی بھیک مانگی ہے تو آخر انہوں نے اس طعنے سے الٹا خود ہی کو رسوا کرنے کے سوا اور کیا کیا ، یوں ان کی یہ الٹی دلیلوں اور طعنوں کے تیر خود انہی پہ چل رہے ہیں ۔۔

عوام بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اس کی بڑی وجہ وہ شرمندگی ہے جو انہیں الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھانی پڑی ہے کیونکہ ایم کیوایم کے آئین کے مطابق رابطہ کمیٹی ہی فیصلے کرنے کا مجاز فورم ہے اور اس کی جانب سے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی کو کنوینر بنانے اور ٹکٹیں دینے کے اختیار کو الیکشن کمیشن نے تسلیم کرلیا ہے اور اسی وجہ سے فاروق ستار کو وہاں منہ کی کھانی پڑی تھی اور اب اسی بوکھلاہٹ میں ان کی جانب سے الٹے سیدھے بیانات اور غیر معمولی بڑے اقدامات کے اعلانات کا تانتا سا بندھ گیا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ یہ حقیقت اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ چونکہ وہ پارٹی کے مجاز ادارے کی جانب سے باضابطہ طور پہ سابق کیے  جاچکے ہیں تو ان کے پاس اب وہ کنوینر والا منصب ہی نہیں رہا کہ جس کے تحت وہ پارٹی کے معاملات سے متعلق کوئی بھی حکمنامہ جاری کرسکیں اور کسی طرح کا فیصلہ کن اقدام کرسکیں چنانچہ ایک سابق کیے  جاچکے کنوینر کی جانب سے طلب کردہ ورکرز کنونشن کی حیثیت کچھ بھی نہیں رہ گئی ہے – اور نہ ہی اب ان کے اس اعلان کی کوئی قانونی اہمیت ہے کہ وہ اگلے ہفتے پارٹی کے الیکشن کروارہے ہیں –

کیونکہ وہ جس کام کے مجاز ہی نہیں وہ ہو بھی جائے تب بھی اس کی قانونی حیثیت صفر سے زیادہ ہرگز نہیں ہوگی اور ایسا کوئی بھی الیکشن پیسے توانائی اور وقت کے فضول زیاں سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اسکی پشت پہ کوئی قانونی بنیاد نہ ہونے کے باعث اسے چیلنج کرکے مجاز عدالت سے باآسانی مسترد کرایا جاسکے گا۔۔۔ ایک ستم ظریفانہ بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ فاروق ستار کو اب اچانک ہی یاد آگیا ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والے ارکان رابطہ کمیٹی میں چند سرکاری ملازم بھی ہیں ،

سوال یہ ہے کہ ابھی دو روز قبل تک انہیں قانون کے یہ ضابطے کیوں نہیں یاد آئے کہ جب وہ ڈیڑھ برس سے اسی نقص والی رابطہ کمیٹی کی سربراہی کررہے تھے۔۔۔ یہ تو سراسر ابن الوقتی اور بدیانتتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فاروق ستار نے اپنی حرکتوں سے اس پارٹی کا حشر نشر کرکے الطاف حسین کے بھوت کو پھر زندہ کرڈالا ہے اور یوں ان کی سیاسی بحالی کے رستے کے کانٹے چن کے ان کے سچے چیلے ہونے کا واضح ثبوت دے دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *