منتشر بیانیہ اور عاصمہ جہانگیر

فی الوقت ہمارے ملک میں ایک سے زائد بیانیے رائج ہیں۔یہی بیانیوں کی بہتات و کثرت ہے جو
ہمیں ایک منتشر گروہ قرار دیتی ہے۔ ہم ایک قوم کی بجائے ایک بِھیڑ ایک انبوہ بے سمت ہیں بس۔
جو ہماری ریاست کا بیانیہ  ہے ہمارے مُلا کا بیانیہ اس سے ایک سو اسی ڈگری متضاد پہ کھڑا ہے۔  ہمارے ادارے و اسٹیبلشمنٹ کسی اور بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمارے دانشور کچھ اور فرماتے ہیں۔ہمارا بایاں بازو کسی اور بیانیے کو جنم دیتا ہے اور ہمارا دایاں بازو کسی اور سمت کا اشارہ بیان کرتا ہے۔ بیچ میں پھنسی یہ عوام کسی ریوڑ کی طرح کبھی اِدھر کو چل پڑتی ہے اور کبھی اُدھر کو۔ ہم کبھی مُلا کی جانب امید سے دیکھتے ہیں کبھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب۔ کبھی روشن خیال دانشور سے امید باندھتے ہیں اور کبھی بَددِل ہو کر انتہا پسندی کی پستی میں اترنے لگتے ہیں۔
موقع دکھ کا ہو یا خوشی کا، ہم اسی انتشارکا شکار ہیں۔ اس قوم نے ایک ایسی بیٹی کو کھویا ہے جو اس قو م کا بیش قیمت اثاثہ تھی۔
ہم اپنے بیانیوں  کے تمام تر تضاد کے باوجود اس ایک شخص کے محتاج تھے جو دنیا کو پاکستان کا چہرہ عاصمہ جہانگیر کی صورت دکھاتی تھی کہ یہاں ایسے لوگ ایسی عورتیں بھی بستی ہیں، جنم لیتی ہیں، جو اپنی دیواروں سےبھی  لڑبِھڑ جایا کرتی ہیں۔
وہ پاکستان کا وہ روشن خیال چہرہ تھی جو بغیر تعصب کے یہ بھی کہہ جاتی تھی گر انسانی حقوق طالبان کے پامال ہوئے تو میں ان کے لئے بھی آواز اٹھاؤں گی۔
وہ میرے لئے روشن خیالی کی وہ مثال تھی جہاں پہنچے کو پَر جل جاتے ہیں۔ وہ بیبظیر بھٹو کی گہری دوست ہونے کے باوجود اس کی مخالفت میں ڈٹ جاتی تھی۔
اور یہ اس کے کردار کی عظمت ہی تو ہے کہ آج ہمارے ملک کااعلی ترین طبقہ اس کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے،کرنے پر مجبور ہے،  وہ عورت جس کو حکومت پاکستان ستارہ امتیاز دینے پہ مجبور پاتی ہے۔
اور وہ عورت جو مُلا کے نزدیک ملعونہ تھی، کافرہ تھی، ملحد و ز ندیق تھی کیونکہ وہ اسلام کے نام پر ہر جاہلیت کی کڑی ناقد تھی  وہ ملعونہ وکافرہ جس پہ کچھ آہنی وسرخ ٹوپیوں والے بغلیں بجاتے نظر آتے ہیں  اس مملکت خداداد کا منتشر بیانیہ  اس کے لئےچوراہے پہ بیٹھا ماتم کناں ہے اس کے عوام نہیں جانتے کہ وہ کسی کافرہ کے جانے پہ خوشیاں منائیں یا پھر ایک ملکی ہیرو جس نے مارشل لاءکی ظلمت کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی اس کی موت کا غم منائیں۔
عاصمہ جہانگیر نے یہ جنگ اس عمر سے لڑی جب لڑکیاں صرف کانچ کی چوڑیوں اور رنگین انچلوں کے خواب دیکھتی ہیں مگر وہ ایک دلیر اور اپنے ڈھب کی روح تھی۔جنرل یحیی خان کے مارشل لاء سے لے کر پرویز مشرف تک وہ نہیں جھکی، وہ اپنے محاز پہ ڈٹی رہی۔
اس نے گالیاں کھائیں، جیل کاٹی، دریدہ لباس ہوئی، سڑکوں پہ غدار کہا گیا، انڈین ایجنٹ کہا گیا مگر اس کا اپنا ایک واضح موقف تھا وہ کہتی تھی دشمن کو مانو مگر بین الاقوامی منڈی میں خود کو تنہا نہ کرو۔ لوگ گمشدہ ہو جائیں یا پھر غیر مسلموں کے حقوق کی بات ہو، اقلیتیوں کی بات ہو  ، وہ ہر جگہ اپنے لوگوں کے لئے ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی تھی۔
یہ وہی لوگ تھے جو ہر روز اسے ایک نئی گالی سے نوازتے تھے اس کے کردار کی دھجیاں بکھیرتے تھے مگر وہ اس سب سے بے نیاز اپنے موقف اپنے نظریے کو پوری قوت سے بیان  کرتی تھی بلکہ وہ تو اس نظریے کواوڑھ چکی تھی۔ یہ شیوا، یہ حوصلہ، یہ جرات، یہ بے نیازی تو خاص بندوں کو ہی عطا ہوا کرتی ہے اس کی یہ رَوش کم از کم اس بات کا تو اظہاریہ ہے کہ وہ منافق نہیں تھی وہ اپنے نظریے کے ساتھ مخلص تھی۔ خلوص و اخلاص پہ فیصلے ہوں گے مگر فیصلے جلدی جلدی سنا دینا، فتوے جاری کر دینا بھی ہمارے بیانیے کا ایک اظہاریہ ٹھہرا ۔ عدلیہ بحالی تحریک کی سرگرم رکن پھر جسٹس افتخار چوہدری کی کڑی ناقد اسے شاید ہماری طرح بت پوجنے کی تربیت ملی ہی نہیں تھی۔
وہ ایک نظریہ تھی ، تحریک تھی۔ آپ اس تحریک اس نظریے کی خامیوں پہ بات کر سکتے ہیں مخالفت کر سکتے ہیں  مجھے بھی کچھ باتوں کچھ چیزوں پہ اختلاف رہا  مگر کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بے مثل بے بدل ادارے ایک روشن چراغ کے تمام محاسن کو نظر انداز کر دیا جائے؟
کیا ہمارا منتشر بیانیہ آج ہمارے لئے ایک سوال نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ تحریک پاکستان میی علیحدگی  کے اسباب میی ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ ہمارے ہیرو ، نظریات ، ہمارا اظہاریہ ہمارا بیانیہ سب مختلف تھا ؟؟ زرا سوچیے آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟!
آج ہم اس منتشر و کثیر البیانیے کے ہاتھوں کہاں کھڑے ہیں زرا سوچئے تو سہی۔
ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *