عاصمہ جہانگیر ــــــ سٹریٹ فائیٹر

2

ساروپ اعجاز

8 اگست 2016 میں کوئٹہ میں خوفناک دہشت گردوں کے حملے کے بعد ڈاکٹر دانش، جو ٹی ـــ وی کے میزبان ہیں نے عاصمہ جہانگیر کی تصاویر اردو میں لکھے عنوان کے ساتھ ٹویٹ کی جس کا مطلب تھآ،"جب وکیلوں کو کوئٹہ میں مارا جا رہا تھا تو شمالی علاقعہ میں لیڈر خوشیاں منا رہے تھے۔"اس ٹویٹ کو پورے جوش و جذبے سے ری ٹویٹ کیا گیا، فیس بک پر بھی شئیر کیا گیا اور وٹس ایپ پر بھی تقسیم کیا گیا۔ ''وہ شمالی علاقوں میں لطف اندوز نہیں ہو رہی تھیں۔ '' جب یہ حادثہ ہوا تو وہ گلگت بلتستان میں حقوق انسانی کی تحقیقات کے مشن پر تھیں اسی دن کوئٹہ جانا مشکل تھا۔تو انہوں نے ٹویٹر پر میزبان صحافی کو جواب دیا:"شرم کرو اب جبکہ لوگ غم میں ہیں تب تم حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہو۔ اپنے جاسوس دوستوں سے پوچھو جو خباثت سے باز نہیں آرہے۔" یہی اضطراب اس تصویر نے بھی پیدا کیا جس میں وہ مارچ 2008 کو بمبئی کے ہندوں کی جنونی پارٹی شیو سینا کے لیڈربال ٹھاکر ے مرحوم کے ساتھ میٹنگ کر رہی تھیں۔ اور جب انہوں نے ایسی ہی میٹنگ پاکستانی فاسق لیڈر سے کی تو میڈیا کے لوگوں نے ان کی مذمت کے لیے ہزاروں باتیں لکھیں۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ایک یونائیٹڈ نیشن کی رپورٹر کے طور پر ٹھاکرے سے مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں تشدد پر تحقیق کرنے اور مذہبی آزادی کی خاطر ملیں۔ حتی کہ بہت سے لوگ ان کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتے ہیں ۔ جیسا کہ ہارون رشید جو کہ ایک اردو لکھاری ہیں نے 2013 میں لکھا کہ اگر نائب وزیر اعظم عاصمہ جہانگیر کو بنا دیا تو وہ اسلام آباد میں مارچ کروائیں گے ۔ جبکہ اس سے پہلے ہی انہوں نے کہ دیا تھا کہ اان کو اس جاب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

courtesy : https://herald.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *