ناول کی مشکل زبان اور نظریات کو کیسے سمجھا جائے

1

عزیر شہید اسلام

جیف وینڈر ایک مایہ ناز مصنف ہیں جنہوں نے حال ہی میں اپنے تین ناولوں Inhalation, Authority, اور Acceptance کے ساتھ ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ کچھ عرصہ وہ اینتھولوجی کے بارے میں لکھتے رہے۔ ان کا ٹریڈ مارک New Weirdہے یعنی یہ نہ صرف horror تک محدود ہےنہ سماجی مسائل تک اور ہر طرح کے عنوانات کو زیر بحث لایا جاتا ہے اس ٹریڈ مارک نے سائنس فکشن کی حدیں توڑدیں اور ماحولیاتی فکشن پر بحث شروع کی جسے ایکو فکشن بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستان کے پہلے قابل تعریف افسانہ نویس کے لیے منعقد کردہ ''سلام ایوارڈ'' تقریب کے جج بھی تھے۔ 'Borne' وینڈر میر کا آخری شاہکار ہے، جو ایک گمنام، مستقبل کے، آسمانی شہر کے بارے میں ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار 'ریچل' ہے جو منتشر علاقوں میں گھومتی ہے، کھانے کے لیے شکار کرتی ہے اور غلہ اگاتی ہے، ذرائع تلاش کرتی ہے اور ان سے لڑتی ہے جو اسے مارنا چاہتے ہیں اور ان کو مار ڈالتی ہے جو جھگڑتے ہیں۔اور کچھ اور بھی ہے اس کی زندگی میں اور وہ ہے اپنی بقا۔ وہ گھر اپنے ساتھی کے پاس جاتی ہےـــــــ جو اس کا محبوب ہے اور اس کمپنی میں بھی جاتی ہے جہاں بیچنے کے لیے ادویات بنائی جاتی ہیں ریچل اس کے لیے ایک حیاتیات پر مبنی ادویات بنا نے کا علم سیکھتی ہے ۔وہ اپنے تجربے سے چھوٹے چھوٹے کیڑے اور سنڈیاں بناتی ہے جو انسان پر حملہ کر سکیں اور انہیں ٹھیک کر سکیں حتی کہ وہ ایسے کیمیائی مرکبات دیتی ہے جو ان کو اپنی دنیا بھلا دے۔ وہ دونوں اپنا ذیادہ وقت اونچی اور ڈھلوان والی چٹانوں میں موجود عمارت کی بالکنی میں گزارتے ہیں۔ اوروہ وہاں سے سارے شہر کو دیکھا کرتے ہیں، اور کتاب
کا زیادہ حصہ اسی جگہ کے متعلق ہے۔ یہ ہمارے ہیرو کی توقف کی جگہ ہے۔ اور یہ سب جاننا ہی ہمارے ضروری تھاـــــــ شہر کا جغرافیائی ڈھانچہ ہے ۔ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ شہر دو طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔ شہر کا ایک حصہ جادوگر، برے کرداروالوں کے زیر قبضہ ہے اور اس کی ویکسین بڑے دشمن کے قابو میں ہے۔ یہ حصہ ان جنگلی بچوں کا ہے جن کو اس جادو نے پنجوں والا بڑی آنکھوں والا جانور بنا دیا ہے۔ دوسرا حصہ اس کمپنی کا ہے جس میں گندگی ہے۔ ' مشکل الفاظ اور نظریات ایک جدید ادب کا اہم حصہ ہیں جس کو سمجھنے کے لیے تحمل کی ضرورت ہے ۔ اور اس میں ایک بہت بڑا اڑنے والا بھالو بھی ہے۔' جب میں نے کور پر مورڈ پڑھا تو مجھے لگا مورڈ ایک بہت بڑا اڑنے والا بھالو ہے جو استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے پر میں غلط تھا۔ مورڈ کمپنی کی ایک باغی پیداوار ہے ۔ حالانکہ مورڈ حساس ہے اور اپنی آپ بیتی دہراتا ہے اور سوال یہ ہے کہ و ہ شکاری ہے وہ مارتا ہے، کھاتا ہے اور سوتا بھی ہے۔ حتی کہ اڑتا بھی ہے۔ اور مورڈ کے پس منظر سے ہی ریچل وہن دریافت کرتی ہے۔ اور یہ ہماری کہانی کا مرکز ہے۔ جادوگر کون ہے؟ جنگلی بچے کیسے وجود میں آئے؟ بائیوٹیک کیسے شاخیں نکال کر پھر خود اپنے آپ جینے لگتا ہے؟ اس کا کیا کردار ہے؟ وِک کا ماضی کیا ہے؟ ریچل کا
ماضی کیا ہے؟مورڈ کا کیا ہوتا ہے؟ اس کے نائب کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور ہمارے ہیرو کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ ان سب سوالات کے جوابات کتاب کے صفحات کے اندر ہیں اور انسانی ساخت پر بحث سے مل جاتے ہیں اور یہی سب مل کے 'Borne' کا مرکز بنتے ہیں۔ ایک سوچ ، بائیوٹیک کا بولتا نمونہ، ہم نے بنایا، ہم نے سیکھایا لیکن وہ ہم مہں سے نہیں۔ ایک سفارتی نمائیندہ جو ہمارے اور اس دنیا کے بیچ میں ایک پل ہے جسے ہم روز تباہ کرتے ہیں۔ 'Borne سب کے لیے نہیں ہے۔' یہ صفحوں کے الٹنے کے لیے نہیں جو ہم اتوار کی شب بیٹھ کر کرتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کی اس میں کتنی گہرائی اور سنجیدگی ہے ۔ جب آپ وینڈر میر کا سوچیں تو جارج اورویل اور ہیروکی موراکمی کا ساچیں۔ Borneتازہ ترین ادب کا ایک بہترین شاہکار ہے اور اس میں مشکل زبان اور نظریات بیان کیے گئے ہیں جن کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے اور یہ صرف انہیں لوگوں کو سمجھ آ سکتی ہے جو تحمل اور برداشت کے ساتھ مشکلات سے نمٹنا بھی جانتے ہوں

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *