خاموشی توڑنے کا عمل

2

حارث خلیق

میں بہت بچپن میں جمیلہ ہاشمی سے ملا تھا اور مجھے ان کا فکشن بہت پسند تھا۔ ان کی نثری تحاریر قابل سمجھ بھی ہیں اور جدت سے بھر پور بھی۔ وہ بہت مختلف سٹائلز اور متنوع ترجیحات کے زریعے اپنے تھیم کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ایسے وقت تحریر کے فن میں اپنی قسمت آزمائی جب عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی تھیں اور مرد مصنفین پر بھی سبقت رکھتی تھیں۔  آج کی دنیا میں ہاشمی کو زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ لیکن اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل آرٹ ہمیشہ لوگوں کی امیجینیشن میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور واپس آتا ہے۔  پاکستان میں تقسیم ہند کے فیصلے کے بعد خواتین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ایک کانفرنس میں ڈاکٹر علی نے ایک خصوصی تقریر کی۔ اس دوران انہوں نے ھاشمی کی ایک فلم ۔بن باس۔ کا حوالہ دیا۔ فلم کا نام ہندو متھالوجی کے کردار رام اور سیتا سے تعلق رکھتا ہے جو شہر چھوڑ کر جنگل میں منتقل ہوجاتے ہیں تا کہ تقسیم کے درس سے بچ سکیں۔  ہاشمی کی اس فلم کا مین کردار ایک مسلمان خاتون ہیں جو تقسیم ہند کے وقت بھارتی پنجاب میں محصور ہو کر رہ گئی تھیں اور پھر انہیں ایک سکھ سے شادی کرنا پڑی تھی۔ اس کی ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے جسے وہ پیار سے منی کہتی ہیں۔ کچھ عرصہ
بعد پاکستان اور بھارت ایک کمیشن بناتے ہیں تا کہ پیچھے رہ جانے والی ظلم کا شکار خواتین کو واپس لایا جائے۔ یہ خبر ایسی تمام خواتین کو پریشان اور بے چین کر دیتی ہے لیکن منی کی ماں کا بھائی ان لوگوں میں شامل نہیں ہوتا جو اسے اور دوسری خواتین کو لینے آتے ہیں تا کہ انہیں ساتھ پاکستان لے جائیں۔ ھاشمی نے زیادہ گہرانی میں جائے بغیر یہ کوشش کی ہے وہ لوگوں کو یہ دکھا سکیں کہ ایسی واپس آنے والی خواتین کے لیے کیا کا مشکلات پیش آئیں گی۔ آخر میں منی کی وجہ سے ہیرو رکنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک بار پھر بے حرمتی سے بچا لیتی ہیں اور اس بار یہ بے حرمتی انہیں اپنے خاندان سے ملنے والی ہوتی ہے۔ وہ منی کو باقی زندگی کےلیے ایسے حالات سے بچا لیتی ہیں جو کہ خود ایک اغوا شدہ خاتون کی بیٹی تھیں جسے مجبورا یا مرضی سے شادی کےلیے اسلام قبول کرنا پڑا تھا۔  مجھے یاد ہے کہ سعادت حسن منٹو نے بھی ان خواتین کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جنہیں پہلے تو دوسرے ملک سے واپس لایا گیا اور پھر زندگی پھر اپنے رشتہ داروں پر بوجھ بنا کر چھوڑ دیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی فلم میکر خاتون صبیحہ سمار نے ایسی ہی ایک سکھ خاتون کے بارے میں فلم بنائی جسے اسلام قبول کر کے ایک مسلمان سے شادی کرنا پڑی۔ اس فلم کا نام ہے خاموش پانی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں یہ کردار کرن خیر نے نبھایا۔  کسی حد تک اس معاملے کو یاد رکھا گیا لیکن زیادہ لوگوں نے اسے نایاب اور خاص
سمجھ کر اپنے دماغ سے نکال پھینکا۔ ان خواتین کے بارے میں کوئی بھی معلومات اب دستیاب نہیں ہیں خاص طور پر پاکستان میں۔ ان خواتین کا ذکر ہمارے مطالعہ پاکستان یا تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں ملتا۔ بھارت اور پاکستان نے 80ء کی دہائی میں اس ضمن میں کچھ اقدامات اٹھائے تھے لیکن ایک بھی ملک نے اسے اشاعت میں لانے کو مناسب نہ سمجھا۔  اپنی ایک خصوصی تقریر میں ڈاکٹر علی نے بتایا کہ ہم میں سے کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا تھا جس کی بڑی عمر کی پھوپھیاں گھر پہ رہتی تھیں اور کبھی شادی نہیں کرتی تھیں۔ وہ گھر کے کام کاج میں والدین کا ہاتھ بٹاتی اور خاندان کے اندر بڑے فنکشنز سے دور رہتی تھیں۔ ہم ان کے کمروں سے ان کے درد اور رونے اور ہچکیوں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ یہ وہی **recovered** خواتین ہوتی تھیں۔ جب تک
ہم نسل کشی کا ریکارڈ نہیں رکھیں گے، قتل عام، اغوا، ریپ وغیرہ کے واقعات کو ریکارڈ میں نہیں لائیں گے، آواز نہیں اٹھائیں گے، لوگوں کی تکالیف اور ان کی وجوہات پر توجہ نہیں دیں گے تب تک یہ واقعات بار بار رونما ہوتے رہیں گے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *