پاکستان میں عدلیہ حد سے زیادہ متحرک

download

سلمان مسعود

اسلام آباد۔ جب جسٹس میاں ثاقب نثار چیف جسٹس بننے والے تھے تو انہوں نے اپنی ایک بہت ہی اچھے اور قانون سے اعلی درجہ کی واقفیت کی ایک شناخت بنا رکھی تھی اور وہ عدلیہ کے اپنے کام سے ہٹ کر دوسرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے سخت خلاف تھے لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ ایک ایکٹوسٹ بن گئے ہیں۔ انہوں نے ایک ہسپتال کا دورہ کیا تا کہ سہولیات کا معائنہ کیا جا سکے، ایک مقتول کے والد کو کہا کہ وہ پولیس کے عدم تعاون کی صورت میں ان سے براہ راست رابطہ کریں اور حکومت کو پنجاب میں انسانی سمگلنگ پر قابو نہ پانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہر معاملے میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ حکومتی پارٹی کرپٹ اور نا اہل ہے۔ ان واقعات کے بعد یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا چیف جسٹس حکومتی پارٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں یا واقعی انصاف کی فراہمی میں تیزی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس پھرتی کی وجہ سے عدلیہ اور حکومتی پارٹی کے بیچ مسلسل مقابلہ بازی کا رجحان بڑھتا کھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر یہ چپقلش وزیر اعظم کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد سے زیادہ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ نواز شریف اور ان کے اتحادی سپریم کورٹ کو سرعام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ موقف اپناتے ہیں کہ سپریم کورٹ فوج کے حکم پر یہ سب کر رہی ہے۔ فوج اور سپریم کورٹ دونوں اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔ ن لیگ کا یہ بھی الزام ہے کہ سپریم کورٹ خاص طور پر حکومتی پارٹی کے خلاف تعصب سے کام لے رہی ہے۔ ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ یہ انصاف نہیں مذاق ہے۔  سپریم کورٹ کا دفاع کرتے ہوئے 64 سالہ جسٹس نثار نے کہا: ہم پر الزام لگایا
جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت مخالف مہم کا حصہ بنتے ہوئے کچھ کیسز پر کاروائی کر رہے ہیں لیکن ججوں کو چاہیے کہ ہو اس طرح کی باتوں سے دباو میں نہ آئیں۔ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ سپریم کورٹ اور ماتحت عدالتوں نے تنقید کرنے والے رہنماوں کو توہین عدالت کے الزام میں عدالت میں پیشی کے آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔  نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم میں 1 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ نہال ہاشمی نے جے آئی ٹی ممبران کو ایک پارٹی میٹنگ کے دوران دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا: جو لوگ نواز شریف کے احتساب کے متلاشی ہیں وہ کان کھول کر سن لیں، ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ بعد میں نہال ہاشمی نے اس بات پر معذرت بھی کر لی تھی۔ اس کے بعد مزید 2 وزرا کو توہین عدالت کے سمنز جاری کیے گئے۔ ماتحت عدالتوں نے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو عدلیہ پر تنقید پر نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس چپقلش کا فائدہ نواز اور ان کے اتحادیوں کو ہو گا۔ ایک سینئر تجزیہ کار مشرف زیدی کہتے ہیں: جولائی میں جب نواز شریف نا اہل ہوئے تب سے وہ عدلیہ کو مسلسل الجھا رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے لیے واپسی کا واحد راستہ عدلیہ پر تنقید کرنا ہے۔ اور عدلیہ کو الجھانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اسے ایسے دکھایا جائے جیسے یہ کسی خاص ایجنڈے پر کام کر رہی ہو نہ کہ انصاف کی فراہمی کے لیے۔  نواز شریف اور ان کے ساتھی عدلیہ کے حکومت مخالف ایجنڈا کو فوج کے ایجنڈا سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک تاریخی حیثٰیت رکھتا ہے۔ نواز اور فوج کے بیچ کافی عرصہ سے تعلقات تلخ ہو چکے ہیں کیونکہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ خارجہ اور
سکیورٹی پالیسی کا اختیار حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کیا جس کی وجہ سے بھی فوج ان سے خوش نہیں تھی۔  کچھ تجزیہ کار عدالت کو گناہ گار مانتے ہیں۔ مطیع اللہ جان جو ایک صحافی اور ٹالک شو کے میزبان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جوژیشل ایکٹوزم سے عدلیہ کی بدنامی ہو رہی ہے اور ادارہ زیادہ سیاسی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ فوج اور عدلیہ دونوں شہرت کی خاطر حکومت سے ٹکر لیے ہوئے ہیں۔ دونوں حریف آئین اور قانون کی بجائے پبلک سے اتھارٹی کے حصول کی کوشش میں ہیں۔  پاکستانی عدلیہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں عدلیہ نے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر فوجی ڈکٹیٹروں کو آئین کے تحت غیر جمہوری اقدام کرنے کی اجازت دلوائی۔ لیکن 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مشرف کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں ایک وکلا تحریک شروع ہوئی جس کا انجام
مشرف کی اقتدار سے محرومی نکلا۔  ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سویلین حکومت کے خلاف تو کیس لینے میں ایک منٹ نہیں لگاتے لیکن زیادہ اہم مسائل جن میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں جیسے لوگوں کو لاپتہ کرنا، آرمی پر تنقید کرنے والوں کو حراساں کرنا وغیرہ ایسے معاملات پر چیف جسٹس بلکل ایکشن لینے میں پھرتی نہیں دکھاتے۔ پچھلے ماہ جسٹس نثار نے فیصلہ کیا کہ حسین حقانی کے میموگیٹ کیس کو دوبارہ کھولا جائے۔ حسین حقانی پاکستانی فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے والے سیاستدان ہیں جن پر ملک میں حکومت کے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لیے امریکی مدد طلب کرنے کے الزامات
ہیں۔ اپنی سکیورٹی کو وجہ بنا کر حسین حقانی نے پاکستان واپس آنے سے انکار کر دیا ہے اور امریکہ اور پاکستان کے بیچ افراد کو زبردستی ملک سے نکال باہر کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔  لیکن چیف جسٹس نے ابھی تک مشرف کو واپس لانے کے معاملے میں کوئی اقدام نہیں کیا جو اپنے خلاف کیسز بھگتنے کی بجائے ملک سے فرار ہو گئے تھے اور ان پر غداری کے الزامات تھے۔ 2016 میں مشرف نے سر عام اعتراف کیا کہ جنرل راحیل نے عدالتوں پر دباو ڈال کر انہیں ملک سے باہر جانے میں کامیاب کروایا۔ فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ اور حکومتی پارٹی کے بیچ چپقلش بڑھ رہی ہے اور اس میں صرف تیزی ہی آئے گی۔ 88 سالہ ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ ابن عبد الرحمان کا کہنا ہے کہ ایک لڑائی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ عدالت حد سے زیادہ دلچسپی لے رہی ہے جب کہ ججز کو ہر معاملے پر خود ہی فیصلے کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب وہ ماہرانہ رائے دینے سپریم کورٹ میں جسٹس نثار کے سامنے پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ وہ انہیں چائے پر بلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ رحمان نے جواب دیا: جج صاحب، چائے پر بلانے کی بجائے بس آپ انصاف کی فراہمی یقینی بنا دیجیئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *