قصہ نواز شریف اور بیجنگ کی بطخوں کا

fazil jameeli

فاضل جمیلی

چین سے بلاوا توچائنا پبلی کیشن پروموشن ایسوسی ایشن (سی پی پی اے) سے آیا تھا لیکن جیسے ہی ہم بیجنگ ایئرپورٹ کی بھول بھلیوں سے باہر نکلے، بلند و بالا عمارتوں کے بیچ سردی سے ٹھٹھرتے ٹنڈمنڈ درختوں کو ہاتھ باندھے کھڑے دیکھا تو احساس ہوا کہ ہم کسی ایک ایسوسی ایشن کے مہمان نہیں بلکہ چین کے جتنے موسم ہیں، سب کے سب ہمارے منتظر ہیں۔

ایسے میں کون کافر ہوگا جسے فیض صاحب کی نظم ’’پیکنگ‘‘ یاد نہ آئے۔

’یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ

اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے

دل مرا کوہ و دمن، دشت و چمن کی حد ہے

میرے کیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال

میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں

میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری

میرے مقدور میں ہے معجزۂ کُن فَیَکُوں‘

فیض صاحب کی اس نظم کے علاوہ چین کے کئی ایک رنگ تو ہم سی پیک کی شکل میں دیکھ چکے ہیں لیکن ان رنگوں کی گہرائی اور گیرائی کابھرپور اندازہ چین جائے بغیر نہیں لگایاجا سکتا۔

بیجنگ شہر میں داخل ہوتے ہی بہت سے فکری مغالطے دل و دماغ کی دیواروں سے اُدھڑتے روغن کی طرح اُترتے چلے جاتے ہیں۔ نظر سے دل کا غبار اُترا تو سوچا فیس بک یا ٹوئٹر پر پہلا اسٹیٹس یہی لگائیں گے لیکن یہ کیا، یہاں تو ایسی کوئی سہولت سرے سے دستیاب ہی نہیں، واٹس ایپ اور یوٹیوب بھی ندارد ہیں۔

 گوگل کی پہنچ سے بھی چین اتنا ہی دُور ہے، جتنا کیلی فورنیا اور بیجنگ کے درمیان کا فاصلہ ہو سکتا ہے۔

آواز کے فاصلے ناپے جا سکتے تو دیوارِ چین پر کھڑے ہو کر آوازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ’’اے صدیوں کی محافظ دیوار! تیری شان و شوکت ہمیشہ رہے برقرار۔ بیرونی حملہ آوروں کو روکتے روکتے، آخر برقی رابطوں کی راہ میں کیوں دیوار بن گئی ہے تُو؟‘‘ہوسکتا ہے کہ بازگشت میں یہ صدا بھی سنائی دیتی کہ ’میں دیوارِ برلن نہیں جو دل کے شیشے میں بال پیدا کرتی تھی۔

میں تو ایران سے شروع ہونے والی ’’دیوارِ مہربانی‘‘ کی طرح ہوں۔ رنی کوٹ کی عظیم دیوارِ سندھ ہوں جس کی رگوں میں پوتر دریا بہتا ہے۔ محسوس کروتو دیوارِ گریہ بھی میں ہی ہوں۔ چاہو تو اپنی قسمت کا ماتم کر لو۔ چاہو تو عبادت کرتے جاؤ۔‘

دیوارِ چین ہی کیا پورا بیجنگ ہی عبادت گاہ جیسا ہے۔ عمارتیں جیسے مراقبے میں پڑی ہوں۔ سڑکوں پر دوڑتی پھرتی زندگی انتہائی مصروف لیکن اتنی ہی پرسکون۔

مہمان نوازی ایسی کہ جام کانبھو خان کی سخاوت بھول جائے۔ نیم گرم پانی اتنا پینے کو ملتا ہے کہ پیٹ کے جملہ امراض جاتے دکھائی دیتے ہیں اور بلند فشارِ خون کے سب آثار رفع ہونے لگتے ہیں۔ سبزیاں اُگانا، سبزیاں پکانا اور سبزیاں کھانا بھی کوئی چینیوں سے سیکھے۔

بھنی ہوئی بطخ کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے خاص مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

بیجنگ میں لگ بھگ 150 سالہ قدیم ایک ہوٹل ایسا بھی ہے جو بھنی ہوئی بطخ کے لیے خاصا مشہور ہے۔ پرانے زمانے میں چینی حکمران بیرون ملک سے آنے والے خاص مہمانوں بالخصوص سربراہانِ مملکت کی ضیافت کا اہتمام اسی ہوٹل میں کرتے تھے، نوازشریف بھی دو مرتبہ اس ہوٹل کی بھنی ہوئی بطخ کا لطف اُٹھا چکے ہیں۔

تیسری بار بھی چلے جاتے تو اپنی حکومت کی تیسری مدت ضرور پوری کرتے۔ چینیوں کا خیال ہے کہ اس ہوٹل کی بطخ کھانے کے بعد صحت مندی و دولت مندی کے ساتھ ساتھ تیسری چیز جو آپ کا مقدر بنتی ہے وہ قومی رہنما کے طور پر آپ کی شناخت ہے۔

ایک لمحے کے لیے ہمارے دل میں بھی قومی رہنما بننے کی خواہش مچلی اور پھر شکیب جلالی کا یہ شعر ہمیں واپس اپنی اوقات میں لے آیا۔

’قریب تیر رہا تھا بطوں کا اِک جوڑا

میں آب جو کے کنارے اُداس بیٹھا تھا‘

بیجنگ کی گلیوں اور باغوں میں گھومتے ہوئے جوڑے اور اُن کے چہروں پر کھلتی ہوئی خوشی دیکھ کر دل کچھ اور اُداس ہو جاتا ہے کہ ایسی دائمی شادمانی پاکستان کے کسی شہر میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

ہمارے بہت سے شہروں میں ریشم گلیاں تو موجود ہیں لیکن جو رونق بیجنگ کی قدیم ریشم گلی میں دیکھنے کو ملتی ہے، اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ گراں خواب چینی پچھلے انہتر برسوں کے دوران ایسے سنبھلے ہیں کہ ہمالےکے چشمے ہی نہیں اُبلے، رہتی دُنیا کے لیے چین ترقی واستحکام کا سرچشمہ بن گیا ہے۔

چینی تہذیب کا شمار دُنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے جس کے مظاہر چین کے وسطی صوبے ہنان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ دُنیا کی واحد تہذیب ہے جو اپنے قیام سے لے کر آج تک کبھی بھی بیرونی اثرات سے آلودہ نہیں ہوئی۔

چینیوں کے خیال میں ان کی تہذیب، ثقافت، رسم و رواج، روایات اور اقدار کا بہتر ادراک وسطی چین میں جائے بغیر نہیں ہوسکتا۔ سو بیجنگ کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ ہنان کا دارالحکومت ژینگ ژو تھا۔ بیجنگ سے ژینگ ژو کا فاصلہ لگ بھگ ایک ہزار کلومیٹر ہے جو بُلٹ ٹرین نے صرف ڈھائی گھنٹے میں طے کیا۔

یہی ٹرین اگر پاکستان میں چل پڑے تو کراچی سے لاہور کا فاصلہ بھی تین گھنٹے میں طے ہونے لگے۔

چین کے کسی بھی شہر میں چلے جائیں، لال پیلے رنگوں کے امتزاج سےپیدا ہونے والی روشنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کو بھی آسودہ کرتی جاتی ہے۔ لال رنگ خوشی، خوبصورتی، کامیابی اور خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پیلا رنگ شاہی طمطراق اور طاقت کا مظہر ہے جب کہ سبز رنگ کو دولت اور استحکام کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

پرانے زمانے میں پیلا رنگ صرف بادشاہوں سے منسوب تھا۔ انہی پیلے بادشاہوں کی وجہ سے چین کو کبھی پیلی سرزمین بھی کہا جاتا تھا جس کے سینے پر بہنے والا پیلا دریا آج بھی اُس کے فطری جاہ و جلال اور ابدی حسن و جمال کا پتہ دیتا ہے۔

پیلے دریا کے کنارے سفر کے دوران رہ رہ کرچینی کہاوتیں یاد آتی ہیں۔ یہی وہ مسافت ہے جو آپ کو بتاتی ہے کہ آہستہ چلنے والا زیادہ دُور تک جاتا ہے۔ آدمی کو ٹھوکر پہاڑ سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے پتھروں سے لگتی ہے جو شخص یہ کہے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا، اُسے چاہیے کہ دوسروں کو نہ روکے۔

چینی تہذیب ہی یہ تعلیم بھی دیتی ہے کہ ایک انچ سونے کے بدلے ایک انچ وقت نہیں خریدا جا سکتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آپ کو مسکرانا نہیں آتا تو دُکان مت کھولیں۔

چین کے ہونٹوں پر مسکان بھی ہے اور اب اُس نے ایسی دُکان بھی کھول لی ہے جس میں سجی اشیاءکے آگے دُنیا کے بڑے بڑے دُکانداروں کے پکوان پھیکے پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔


Courtesy:https://urdu.geo.tv/latest/179940-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *