زینب قتل کیس کے مجرم کوچاربارسزائے موت سنادی گئی

zainab

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت کا حکم دے دیا۔فیصلہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں سات سال قید، دس لاکھ روپے جرمانے سزا بھی شامل ہے۔فیصلے پر زینب کے والد امین انصاری نے مجرم کو سزا سنانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سماعت کے بعد پراسکیوٹر جنرل احتشام قادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرم عمران کو بدفعلی پر عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے،ہم ان ممالک میں شامل ہو گئے ہیں جہاں سائنسی بنیادوں پر ثبوتوں پر سزا دی جا سکتی ہے۔ عمران کوننھی زینب کے اغوا پر سزائے موت دی گئی،عمران کو7اےٹی اےکےتحت سزائے دی گئی ۔قصور کی کمسن مقتول زینب کے والد محمد امین کہتے ہیں کم سے کم وقت میں مقدمے کا فیصلہ آنا اچھی کوشش ہے، اس کے لیے وہ چیف جسٹس پاکستان کے شکر گزار ہیں۔گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اہم کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ زینب کے قاتل کے خلاف جج سجاد احمد نے 4 روز تک روزانہ 9 سے 11گھنٹے سماعت کی،56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ساڑھے گیا رہ سو افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد22 جنوری کو عمران علی پکڑا گیا جو اس کےمحلے میں رہتا ہے۔ملزم عمران کا ڈی این اے زینب سمیت 8 بچیوں سے مل گیا،جو کہ گزشتہ 2سالوں میں قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی تھیں۔پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹس کے مطابق عمران ہی زینب کا قاتل ہے۔گزشتہ دنوں ملزم عمران کی جانب سے قصور کی کمسن بچی زینب کو درندگی کا نشانہ بنانے کے اعتراف کے بعد ملزم عمران کے وکیل نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا تھا۔عمران کے وکیل کا کہنا تھا کہ اقرار جرم کے بعد ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ سفاک ملزم کا کیس لڑوں۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلے سنانے کے موقع پر قصور کی کمسن مقتول زینب کے والد محمد امین بھی موجود تھے۔ جیل آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کم سے کم وقت میں مقدمے کا فیصلہ آنا اچھی کوشش ہے۔ اس کے لیے وہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے شکر گزار ہیں۔واضح رہے کہ قصور کی 6 سالہ زینب4 جنوری کو اغواء ہوئی اور 9 جنوری کو لاش اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر خالی پلاٹ سے ملی تھی۔زینب کے میڈیکل سے یہ بات سامنے آئی کہ اسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیاتھا ۔لاش ملتے ہی قصور کے شہری مشتعل ہو گئے تھے اورشہر بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں2 افراد جان سے گئے۔ اہل علاقہ کے احتجاج اور میڈیا پر خبر کے بعد یہ ہائی پرو فائل کیس بن گیا ۔سپریم کورٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *