قیامت سے پہلے قیامت کیوں؟

bilal ghauri

نوع انسانی نے جتنے مظالم سہے ان میں سے مذہبی استبداد بدترین ہے۔برطانوی نژاد امریکی فلاسفر تھامس پین
17فروری1600ء
کیمپو دے فیوری اسکوائر،روم (اٹلی)
آگ کا الائو دہک رہا ہے ،52سالہ شخص کو پکڑ کر آگے لایا جاتا ہے ،پادری کہتا ہے ’’جردانو! اب بھی وقت ہے اپنے ملحدانہ نظریات اور باغیانہ خیالات سے رجوع کر لو ،ہم تمہاری جان بخش دیں گے‘‘ وہ شخص موت کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر مسکراتا ہے اور کہتا ہے ’’میں اپنی تمام باتوں پر قائم ہوں ‘‘ پادری غصے سے پھنکارنے لگتا ہے اور چلا کر کہتا ہے اس گستاخ کو جلا کر بھسم کر دو ۔حکم ملتے ہی چرچ کے کارندے اس شخص کے ہاتھ اور پیر باندھ کر دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں اور چاروں طرف تماشا دیکھتے لوگوں پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔یورپ کے عہد تاریک میں برسہابرس اس طرح کی انکوزیشن کورٹس لگتی رہیں ۔جو شخص سوال اٹھانے کی جسارت کرتا اس کا ایمان مشکوک قرار دیتے ہوئے چرچ میں طلب کر لیا جاتا ۔اگر ملزم موت کے خوف سے اپنی بات سے مکر جاتا یا پھر معافی کا طلبگار ہوتا تو اسے تجدید ایمان کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا وگرنہ دہکتی ہوئی آگ کے الائو میں پھینک کر نشان ِعبرت بنا دیا جاتا ۔جردانوبرونو اطالوی سائنسدان تھا جس نے پادریوں کی خدائی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور عقیدے کو عقل کی کسوٹی پر جانچنے کی غلطی کی تو اسے حرف غلط کی مانند مٹا دیا گیا۔ ہاں البتہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اسے مٹانے اور نشان عبرت بنانے کا دعویٰ کرنے والے تو صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور آج ان کانام تک کوئی نہیں جانتا مگر جردانوبرونوآج بھی زندہ ہے ۔اٹلی کے دارالحکومت روم میں عین اس جگہ پر جردانوبرونو کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جہاں اسے زندہ جلا دیا گیا۔
اطالوی سائنسدان جردانوبرونو عرب ماہرین فلکیات سے متاثر تھا اور اپنا سچ خود تلاش کرنے کی جستجو میں تھا۔وہ وحدت الوجود کا قائل تھا ،اس کا خیال تھا کہ فطری مظاہر کے اعتبار سے انسان کی روح سانحہ ارتحال کے وقت جسم سے پرواز کر جاتی ہے مگر انسان مرنے کے بعد نئے روپ میں واپس آ جاتا ہے۔جب اسے چرچ کے کارندوں نے گرفتار کیا تو اس کے پاس آریان اِزم کی وہ متروک کتابیں برآمد ہوئیں جنہیں مذہبی پیشوا قابل ضبطی قرار دے چکے تھے اور ان کا مطالعہ کرنا توہین مذہب کے زمرے میں آتا تھا ۔ٹرائل کے دوران جردانوبرونو کے سائنسی و فکری نظریات کو چارج شیٹ کا حصہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ شخص بعد از مرگ جزا یا سزا کے عقیدے کو جھٹلاتا ہے ، مسیحی عقیدہ تثلیث کے حوالے سے اس کا ایمان مشکوک ہے ،یہ یسوع مسیح کی معبودیت کا قائل نہیں ،یہ قلب ماہیت کی طرف مائل نہیں اور اپنے ملحدانہ افکار سے لوگوں کو گمراہ کرکے انتشار پھیلانے کا مرتکب ہوا ہے۔یہ تمام جرائم ثابت ہو گئے تو جردانوبرونو کو اپنی سوچ اور فکر سے منحرف ہونے کاموقع فراہم کیا گیا اور جب وہ رجوع کرنے پر تیار نہ ہوا تو اسے نذر آتش کر دیا گیا ۔جردانو برونو نے چونکہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر پھینکا اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے اپنی جان قربان کر دی اس لئے اسے ’’شہید سائنس ‘‘ کہا جاتا ہے اور مہذب دنیا میں اس کی خدمات و تعلیمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
جب میں اپنے معاشرے میں مذہبی شدت پسندی کو ناسور کی مانند پھیلتے دیکھتا ہوں تو یورپ کا عہد تاریک یاد آتا ہے اور یہ سوچ کر اطمینان ہوتا ہے کہ شاید ہم زوال کے عروج اور پستی کی بلندی کے دور سے گزر رہے ہیں اور اس کے بعد ایک نئے مہذب دور کاآغاز ہو گا۔ مردان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے مار ڈالا ،یہ حادثہ بھی کچھ کم کربناک نہ تھا مگر اس سے کہیں دردناک سانحہ یہ ہوا کہ شک کی بنیاد پر رہا ہونے والے اس کے قاتلوں نے اجتماعات میں اعتراف جرم کیا اور معاشرے کے چند سو افراد نے انہیںپذیرائی بخشی ۔اسی طرح مزاحمت کا استعارہ بن جانے اور غاصبوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے والی عاصمہ جہانگیر کی موت بھی انسانیت پر یقین رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوئی مگر اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ وہ معاشرتی رویے ہیں جن کی رو سے ٹھگنے اور ناٹے قد کے بونے ان کی موت سے خوشیاں کشید کرتے اور کرب کی اس کیفیت میں جشن طرب برپا کرتے دکھائی دیئے ۔ہاں البتہ یہ کمال بھی عاصمہ جہانگیر کے ہی حصے میںآیا کہ وہ بوقت رخصت نہ صرف اخلاق و اقدار کے ان دعویداروں کو بے نقاب کر گئی بلکہ اپنے الوداعی سفر سے بھی بغاوت کی نئی رسم شروع کر گئی۔
ہمارامعاشرتی المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگوںنے بہت سی ذمہ داریاں ازخود اپنے کندھوں پر لے لی ہیں۔مثال کے طور پراپنے بندوں کی نگرانی کرنا خدائی صفت ہے اسی لئے اللہ کے 99ناموں میں سے ایک المہیمن بھی ہے ۔اسی طرح البصیر ،الحکم ،العدل کا مفہوم یہ ہوا کہ اپنے بندوں کو اچھی طرح دیکھنا ،فیصلہ کرنا اور عدل کرنا بھی اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے،الہادی یعنی بھٹکے ہوئوں کو ہدایت دینے والا بھی وہی پروردگار ہے اور الممیت یعنی مارنے والی ذات بھی اسی کی ہے۔کون کس درجے میں آتا ہے ،بعد از مرگ اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ،وہ جنت کا طلبگار ہے یا جہنم کا حقدار،یہ تمام فیصلے خالق کائنات نے اپنے پاس رکھے ہیں جسے یہ اہل ایمان اپنا رب مانتے ہیں مگر اس رب کی ایک نہیں مانتے اور خود نعو ذ باللہ خدا بننے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔روح قبض کرنا عزرائیل کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے لیکن ماشااللہ غازیوں نے یہ کام بھی خود سنبھال لیا ہے ۔کون شہید ہے ،کون ہلاک ،کسے جاںبحق لکھا جائے اور کون جہنم واصل ہوا،یہ طے کرنے کا استحقاق بھی ایک گروہ نے اپنے پاس رکھ چھوڑا ہے۔ جب کسی کو نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے یا کوئی خوش قسمت باغی اپنی طبعی موت مر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی اخروی زندگی کا فیصلہ بھی ہاتھوں ہاتھ ہی کر دیا جاتا ہے۔گاہے یوں لگتا ہے جیسے یہ لوگ جو اپنے ایمان کے بجائے دوسروں کے عقیدے درست کرنے کی فکر میںگھلے جاتے ہیں ،جودوسروں پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں ،مذہب کے نام پرلوگوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بناتے ہیں،مسلک کی بنیاد پر نفرت کی خاردار فصل اُگاتے ہیں،نظریاتی اختلافات کے پیش نظر مخالفین کو مار ڈالنے پر اُکساتے ہیں ،مجھے لگتا ہے ان کا اپنا ایمان پختہ نہیں اور یہ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں ۔اگر انہیں اپنے رب کے عدل پر یقین ہے ،سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ روز محشر پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر قیامت سے پہلے قیامت برپا کرنے کیوں لگ پڑتے ہیں؟ اور گناہ گاروں کو اپنے ہاتھوں سے سزا دینے یا کم از کم ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟کیا ایمان ِکامل کا تقاضا یہ نہیں کہ مذہب یا خدا کے نام پر جبر و استبداد کا بازار لگا کر اپنے تئیں قیامت برپا کرنے کے بجائے یہ فیصلے روز محشر پر چھوڑ دیئے جائیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *