مستنصر حسین تارڑ، بسنت اور ژاں پال سارتر

Muhammad-saeed-azhar-3

آسمان کی بلندیوں پر پروازوں کے حسین و جمیل لہریئے لیتے، اٹکھلیاں کرتے، خلا میں ڈبکیاںلگاتے، اسی گھڑی پَر سمیٹ کر اوپر اٹھتے پرندوں اور زندگی کے نشاط انگیز سے مفسر قلمکار مستنصر حسین تارڑ ، ٹی وی چینل پر اپنی ایک حسرت ناتمام کا حوالہ دے رہے تھے۔ ان کےالفاظ اور مفہوم کے امتزاج سے یہ کچھ اس قسم کی حسرت ناتمام تھی ’’یہ فروری ہے، بسنت پر پابندی لگا کر آپ لوگوں نے بے حد ظلم کیاہے۔ ان ایام میں لاہور کے آسمان پر پتنگوں کے جھرمٹوں کا دکھائی نہ دینا میرے جیسوں کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں۔ آپ قانون پر عمل کرائیں بسنت ختم کرنے کا کیا جواز ہے؟‘‘ پھرانہوںنے ایک آدھ اور دلیل دی۔ موضوع گزر گیا!
یہ مستنصر حسین تارڑ وہی ہیں جنہوں نے’’غارِ حرا میں ایک رات‘‘کے حیرت کدہ میں ہم سب سے اپنا مکالمہ شیئرکیا ہے۔ آپ ’’غار حرا میں ایک رات‘‘ کے مطالعہ کو چاروں اور سے جذب کئے بغیر مستنصر حسین تارڑ کے اس مکالمے میں حصہ دار نہیں بن سکتے۔ نہ آپ ان کے الفاظ سن سکیں گے، ہاں ’’غار حرا میں ایک رات‘‘ کے ہر صفحے پر آپ ان کے ساتھ ساتھ چلیں، آپ تارڑ کے ساتھ محو کلام ہو جائیں گے ، ان کا مکالمہ آپ تک اور آپ کے ذہنی ارتعاش کی شعاعیں خودبخود ان تک منتقل ہوتی جائیں گی!
شہزاد احمد شہزادؔ کا شعر ہے:
شہزاد بڑی چیز ہیں لاہور کے گلی کوچے
اور تو نے گھر بیٹھ کے ہی عمر گنوا دی
پاکستان میں ’’نیوایئر نائٹس‘‘ سے لے کر ’’بسنت‘‘ تک اور ’’بسنت‘‘ سے لے کر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ تک، یہاں اس ملک میں کیا کیا ہوتا ہے، ہوتارہا اور اب تو لگتا ہے فطرت کے تھپیڑے کے سواکوئی اس کی روک تھام نہیں کرسکتا۔ لاہور ہی نہیں پورا پاکستان نارمل تھا۔ بس کہیں سے، اب سے برسوں پہلے، کوئی نیک آسیب اس دھرتی پہ اترا، اس سماج کی ہر سرسبز جڑ اور ٹہنی سوکھتی چلی گئی۔ سوکھے کی بیماری میں مبتلا ہوگئی۔ اب پاکستانی اپنا سارا کتھارسس ’’غصے‘‘، ’’ہیجان‘‘، ’’خوراک‘‘ اور ’’لاتعلقی‘‘ کے مربع میں کرتے ہیں۔ یہاں آپ اپنا نقطہ نظر، اپنی حقیقی کیفیت بیان ہی نہیں کرسکتے۔ یہ وہ وطن عزیز ہے جس کے ہر ذرہ پر کچھ لوگوں نے ’’فاتح‘‘ کا لفظ کندہ کردیا۔ دنیا بھر کے خرمن امن کےکناروں پر کھڑے ہوکے اپنے ’’فاتح‘‘ ہونے کے رجزیہ بیانیے سے ماحول کے ہر قدرتی تقاضے اور روح کو خوف کی زنجیریں پہنادی ہیں۔ ویسے بھی ’’سچ‘‘ کوبے حد مشروط کردیاگیا ہے۔ اتنا زیادہ کہ ’’بسنت‘‘ کی بندش پربھی اسباب کا اصل اظہار نہیں ہوسکتا۔ ہمارے اندر یہ جرأت مفقود ہوچکی جو ،’’بسنت کے تہوار‘‘ پربھی غیرت اور عقیدے کے علمبردار ننگی تلواریں سونت کر کھڑے ہیں۔
اکتوبر 1964میں فرانس کے مشہور قلمکار ژاں پال سارتر نے ’’نوبیل انعام‘‘ لینے سے انکار کردیا تھا۔ 28اکتوبر1964کو ژاں کے اس انکار کی تفصیل پیرس کے روزنامہ ’’لماند‘‘  میں شائع ہوئی۔ آغا افتخار حسین کی یورپ میں تحقیقی مطالعے کے عنوان سے لکھی کتاب میں آپ اس تاریخی حق گوئی سے تمام تر آگاہ ہوسکتے ہیں۔ یہاں اس کا محض کچھ حصہ پیش خدمت ہے:
’’میرا نوبیل پرائز لینے سے انکارکرنا کوئی نئی بات نہیں۔ میں نے ہمیشہ سرکاری اعزازات قبول کرنے سے انکار کیاہے۔ جنگ کے بعد 1945میں جب میرے لئے لژاں دونر (Legion D,Honcur) کا اعزاز تجویز کیا گیا تو میں نے انکار کیا حالانکہ حکومت کے افراد سے مجھےدوستی کاشرف حاصل رہا ہے۔ اسی طرح میں نے کالژو فرانس (College de France) میں شمولیت کی بھی کوشش نہیں کی حالانکہ میرے بعض احباب نے یہ تجویز پیش کی تھی۔‘‘
اور ’’میرے اس رویئے کی بنیاد وہ نظریہ ہے جو میں ایک ادیب کے کام کے بارے میں رکھتا ہوں۔ ایک اہل قلم جس کی حیثیت سیاسی، سماجی اور ادبی ہو ، اس کو اپنے کام کے لئے وہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے جو اس کا ذاتی ہو۔ یعنی اظہاربذریعہ تحریر۔ جب ایک اہل قلم کو اعزاز دیئے جاتے ہیں تو اس کی تحریریں پڑھنے والے ایک خاص قسم کے دبائو سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ اگر میں اپنے دستخط کرتے وقت صرف ’’ژاں پال سارتر‘‘ لکھوں تو اس کی الگ حیثیت ہوگی اور اگر میں ’’ژاںپال سارتر صاحب نوبیل پرائز‘‘ لکھوں تو یہ اور بات ہو جائے گی۔ ایک اہل قلم جب اس قسم کا کوئی امتیاز قبول کرتا ہےتو وہ اس انجمن یا ادارے کو بھی ساتھ الجھا لیتا ہے جس نےاسے یہ اعزاز دیا۔‘‘
مستنصر حسین تارڑ جس نجی ٹی وی پر اپنے نظریات لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ اس دوران ہی میں کہیں سے ’’بسنت‘‘ کا موضوع زیربحث آگیا۔ تارڑ اس حوالے سے ’’اپنا آپ‘‘ بتا رہے تھے۔ ادھر ژاں پال سارتر کا نوبیل انعام لینے سے انکار کی یاد بجلی کے کوندے کی مانند لپکی، چنانچہ خیال آیا تارڑ صاحب کو کم از کم کچھ یاددہانی کرانے کی کوشش کی جائے۔ کوشش ہی کہی جاسکتی ہے۔ وہ تو ہم سے کہیں زیادہ ان حقیقتوں کا ادراک کرتے، انہیں پہچانتے اور انہیں جانتے ہیں چنانچہ ان کے سامنے ضیاء الحق سمیت پاکستان کے تمام ڈکٹیٹروں کے پاس حاضر ہو کر اپنے ’’اعزاز‘‘ وصول کرنے والوں کے ناموں کی فہرست پیش کی جائے۔ پھر 2018تک آتے آتے اہل قلم اور اہل اقتدار ودولت کے مابین ایسا رشتہ استوار ہوا جس نے ہر ادیب یاصحافی کا اس طرح کی مارکیٹ سے باہررہنا اس کےلئے ملامت کا عنوان بنا دیا اور پھر انہیں ایک اور تاریخی پہلو سے یہاں کے ’’عوامی فنامنے‘‘ کی جامع سی داستان کی طرف توجہ دلائی جائے۔ وہ یاد کریں یہاں سرسید، غلام احمد پرویز اور اب علامہ جاوید الغامدی جیسے مصلحین قوم کیسے زندہ عذابوں سے گزرے۔ یہاں ترقی پسندوں کو دائیں بازو کی اندھیری للکاروں نے کس کس طرح ریاست کے ساتھ مل کر زندگی کرنے ہی سے دیس نکالا دے دیا۔ دائیں بازو کے اس گروہ نے تخلیق کاروں اور تخلیقی ذہانتوں کا کیسے کیسے بے محابا قتل عام کیا؟ جوشؔ سے لے کر فیضؔ تک ایک ایسی تاریخ ہے جس کی ہر سطر آ پ کو نظریاتی کپکپاہٹ کے لڑکھڑاتے دائروں میں لے جاتی ہے!
تارڑ صاحب سے سوال ہے کہ ژاں پال سارتر کے اعزازسے انکار کرنے کے بعد یہاں اس ملک میں کسی بھی الجھن کے بارے میں مجرد سچ بول سکتا تھا؟ کیا ژاں پال سارتر فرانس میں ان پاکستانی ظاہری اور باطنی مسلح جتھوں کی موجودگی میں اپنے نظریات کا پرچار کرسکتا تھا؟ کیا ژاں پال سارتر نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہوتے فرانس جیسے سچ بول سکتا تھا؟ کیا ژاں پال سارتر گمشدہ لوگوں کے خیالات اور انہیں ایذائیں دینے والوں کے نام لے سکتا تھا؟ کیا بطور ادیب وہ پیپلزپارٹی سے لے کر ایم کیو ایم تک، ایم کیو ایم سے اے این پی تک اور اے این پی سے ن لیگ تک ان تمام پس پردہ کارروائیوں اور ان کے کارپردازوں کا، معلوم ہونے پر بھی، نام لے کر افشا کرسکتا تھا؟ لیاقت علی خان، قائداعظم کی ایمبولنس، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی موت، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، کیا ژاں پال سارتر ان حوالوں سے اپنے نقطہ نظر کی سچائی بیان کرکے اسی جہان میں موجود رہتا؟
حجاج کے عہد میں ابن زبیر کا ایک شعر ہے؎
ہمارے زخم ہماری ایڑھیوں پر خون نہیں گراتے
ہمارے خون ہمارے پنجوں پر ہی گرتے ہیں
سو تارڑ صاحب جانتے ہیں ہمارے زخم بھی ہماری ایڑیوں پر خون نہیں گراتے۔ ہمارے خون ہمارے پنجوں پر ہی گرتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم ریاست ِ پاکستان کے آئین کی بالادستی کے دشمن خفیہ کرداروں، مذہبی جنونیت کے علمبرداروں، دائیں بازو کے اہل قلم اور عوام کے ساتھ اظہار ِ رائے کی آزادی کا معرکہ عزت و ذلت کا نقارہ بجادیتے ؟ لیکن ایک بات یقینی ہے، ژاں پال سارتر، ریاست تو رہی ایک طرف یہاں کے عوام، خصوصاً پنجابی پہلے ’’سچ‘‘ پر ہی کردارکشی کی سان پر چڑھا کر دوسری دنیا کا باشندہ بنا دیتے؟
مستنصر حسین تارڑ ’’غارحرا میں ایک رات‘‘ کی نہ ختم ہونے والی برکتیں سمیٹتے رہیں۔ ادھر پاکستان میں قائداعظم کی ایمبولنس سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تک کوئی ایک قلمکار بھی ’’مجرد سچ‘‘ نہیں بول سکتا۔ ’’بسنت‘‘ بے چاری کی کیا اوقات ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *