سوشل میڈیا کے شاہکار

waqar-khan

اپنے علم میں اضافے اور زمینی حقائق سے آگاہی کی خاطر فیس بک، ٹویٹر اور یو ٹیوب کے نمونے کے چند شہ پارے ملاحظہ فرمائیے۔
جن قدر دانوں نے مجھے ویلنٹائن ڈے پر تحائف ارسال کئے تھے، وہ سارے مجھے مل گئے ہیں۔ چونکہ فرداً فرداً سب کو رسید دینا ممکن نہیں، لہٰذا بذریعہ پوسٹ ہذا میں ان تمام اہل دل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں‘ جن کی غیرت عشق نے اس مبارک دن کے حوالے سے جوش مارا۔ نیز عشوہ و ادا پر فریفتہ جن نووارد مہربانوں نے پہلی مرتبہ اس کارِ خیر میں حصہ لیا، انہیں بھی میں نے ازراہ التفات اپنی محبت کی مالا میں پرو لیا ہے۔ یہ قیمتی تحائف آپ کے دریا دل ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ امید واثق ہے کہ آپ آئندہ بھی محبت کے فروغ کے لئے ایسے فراخدلانہ اقدامات اٹھاتے رہیں گے، نیز اپنے بے پایاں خلوص کے اظہار کے لئے محض ویلنٹائن ڈے تک محدود نہیں رہیں گے۔ یاد رہے کہ ہر سال 9 جنوری، 30 مارچ، 10 جون اور 15 دسمبرکو آپ کی خادمہ کی سالگرہ ہوتی ہے۔
...............
ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ویلنٹائن ڈے منانا ہے، جس نے ہماری جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ یہ غیر مہذب تہوار یہود و نصاریٰ کی دین ہے، جس کا مقصد جذبات کو ابھارکر بے راہ روی کو فروغ دینا ہے۔ علمائے کرام نے اغیار کی طرف سے اسلامی ممالک میں بے حیائی پھیلانے کی اس سازش کو بے نقاب کر دیا ہے مگر افسوس کہ عاقبت نااندیش کرائے کے دانشور اسے بے ضرر سا تہوار اور لوگوں کا ذاتی معاملہ قرار دے کر نوجوان نسل کو مسلسل تباہی اور بربادی کا رستہ دکھا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی شاندار تہذیبی اقدار کو ہندوئوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانا ہے تو سخت اور جرأت مندانہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ہمیں دنیا کی پروا کئے بغیر غیر مسلموں کے تخریبی ذہن کے نام نہاد جدید علوم اور ان کے ناپاک ہاتھوں کی پیداوار تمام مصنوعات کو اٹھا کر باہر پھینکنا ہو گا اور ان اشیاء کے استعمال کو جرم قرار دے کر سخت سزائیں نافذ کرنا ہوں گی۔ جب ہماری زندگی غیر ضروری دنیاوی علوم، بجلی، موٹروں، جہازوں، میڈیا، موبائلوں، کمپیوٹروں، انٹرنیٹ اور اس قماش کی تمام خرافات سے پاک ہو جائے گی، نیز مغربی حیا سوز لباسوں کی جگہ شٹل کاک برقعوں اور دھوتیوں کی بہار آ جائے گی تو ہماری اصل تہذیبی اقدار پورے جوبن کے ساتھ جلوہ افروز ہو جائیں گی اور جابجا عقل و شعورکی ندیاں بہہ نکلیں گی۔ پھر ہر دن حیا ڈے ہو گا اور معاشرہ ویلنٹائن ڈے جیسی غلاظتوں سے خود بخود پاک ہو جائے گا (اس پوسٹ کو لائیک اور شیئر کرکے اپنی ملی غیرت کا ثبوت دیں)
............
کالے علم اور کالے علم کی کاٹ کے ماہر کالے شاہ سرکار کا اعلان ہے کہ دنیا میں ہر مصیبت کا حل موجود ہے، چاہے وہ کالے علم کے اثرات ہوں یا کالے دھن کے۔ ایک رات کے عمل سے آپ پر کالا علم کرنے والے کا منہ کالا اور اگر آپ کالا دھن اکٹھا کر کر کے اپنا منہ کالا کر چکے ہیں‘ تو شرطیہ ایک ہفتے میں آپ کا دھن اور منہ چٹا سفید۔ کالا دھندا کرنے والوں کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے یا رام کرنے کے تیر بہدف نسخے، مخالفین اور رقیبوں کو کالے پانی کی سزائیں دلوانے کے کامیاب گُر، سرکاری محکموں کی کالی بھیڑوں کا گارنٹی شدہ تحفظ، کالی راتوں کی شرمناک وارداتوں پر پردہ ڈالنے کے حیرت انگیز ہنر، کالے کرتوت میڈیا سے چھپانے کے موثر عملیات اور کالا من کسی پر ظاہر نہ ہونے کے آزمودہ تعویذات۔ امتحان میں ناکامی، محبت میں ناکامی، دھرنوں کے مقاصد میں ناکامی یا دھرنا بازوں کو منتشر کرنے میں ناکامی، ہر ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا کام بذریعہ عملیات و تعویذات و جنات و چکریات کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سائیں کالے سرکار کے قبضے میں جنات کا پورا ریوڑ ہے جو سرکار کے حکم پر کسی بھی دھرنے کو چشم زدن میں کامیاب یا تہس نہس کر سکتا ہے (پہلے آئو، پہلے پائو کی بنیاد پر) جنات سے دشمنوں کی ٹانگیں تڑوائیں، اسمبلیاں تڑوائیں، ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنوائیں، اپنے حق میں ووٹ ڈلوائیں، عوام کو بے وقوف بنوائیں، قرضہ معاف کروائیں، رقم ڈبل کروائیں یا کوئی بھی دو نمبر کام کروائیں، ہر کام آپ کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ سنگدل محبوب اور وزیر اعظم کا استعفیٰ آپ کے قدموں میں، دل پھینک شوہر منٹوں میں تارک العورات، ساس آپ کی اگلے جہان، دولت کی دیوی آپ پر مہربان، کفیل آپ کا غلام، بجلی چوری آپ کی دسترس میں، انعامی رقم آپ کے کھیسے میں، شہرت آپ کی لونڈی اور کھایا پیا آپ کا ہضم۔
نوٹ نمبر1: خالص دودھ کے شائقین رابطہ نہ فرمائیں۔ اس سلسلے میں کالے شاہ کے جنات بے بس ہیں اور خود قبلہ کا زہریلے کیمیکلز ملے دودھ پر گزارہ ہے۔
نوٹ نمبر2: ہر کام بغیر لالچ اور نذرانے کے کیا جاتا ہے، البتہ جنات کے قیام و طعام پر کافی خرچہ اٹھ جاتا ہے۔ عاقل را اشارہ کافی است۔
............
سوشل میڈیا پر گز گز بھر لمبی زبانیں عاصمہ جہانگیر کو ہیرو قرار دے رہی ہیں۔ ان پڑھ اور جاہل لوگ اس کی موت کو قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا واویلا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عاصمہ جہانگیر کا بیانیہ ایک فتنہ ہے۔ وہ ایک بغاوت شعار اور ادنیٰ مقاصد کا علم اٹھانے والی خاتون تھیں، جن کا کوئی عمل ہمارے لئے قابل فخر نہیں ہو سکتا۔ اس کی محدود سوچ عورتوں کے غیر فطری حقوق، ناممکن صنفی مساوات، اقلیتوں، مظلوموں اور بے سہاروں کو زبان دینے کے ڈراموں، آزادیٔ صحافت، انصاف، جمہوریت، احترامِ انسانیت، راست گوئی اور بلا جواز آمریت دشمنی کے گرد گھومتی تھی۔ ایک گناہگار اور اندھی عورت صفیہ بی بی کا مقدمہ لڑ کر بھی اس نے وطن عزیز کی نیک نامی کو نقصان پہنچایا۔ وہ مغرب سے مرعوبیت کے مرض میں مبتلا تھی، جسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کسی عورت سے زیادتی کی اصل وجوہات خود عورت کا کردار اور ہیجان خیز لباس ہوتی ہیں۔ خدا عاصمہ جہانگیر کے گناہ معاف فرمائے، اس نے ملک میں بے پردگی کو فروغ دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ وماعلینا الالبلاغ (اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئرکرکے ثواب دارین حاصل کریں)
............
لالی وڈ کی مایہ ناز '' بے ڈھنگ پروڈکشن‘‘ نے مچا دی ایک دفعہ پھر دھوم۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کے فلم سازوں نے حیرت سے دبا لیں منہ میں انگلیاں۔ کامیاب رومانی فلموں ''سجن کرارا‘‘ ''پیار تے اچار‘‘ ''گھگو ماہی‘‘ اور قتل و غارت سے بھرپور شاہکاروں ''جٹ دی سٹ‘‘ اور ''جٹ دا لنگوٹا‘‘ کے بعد نئی دھماکہ خیز فلم ''ناممکن‘‘ کی نمائش جاری ہے۔ فلم نے کھڑکی توڑ رش کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ''ناممکن‘‘ ایک ایسے پُر عزم، انتھک اور باہمت ہیرو کی کہانی ہے، جسے دیکھ کر شائقین کی عقل دنگ رہ جائے گی۔ سب سے پہلے ہیرو نے بغیر چائے پانی کے اپنا ڈومیسائل بنوا لیا، پھر اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا لیا۔ حیرت انگیز طور پر اس نے دو گھنٹے میں اراضی مبیعہ کی رجسٹری اپنے نام منظور کرا لی اور پھر اگلے دن مکان کا نقشہ بھی منظور کروا لیا۔ بی اے کی ڈگری میں اس کا نام غلط درج ہو گیا تو شیر کے بچے نے گھر بیٹھے اسے درست کرا لیا۔ بے جرم پکڑا گیا تو پولیس نے اسے مفت میں رہا کر دیا۔ اس نے اپنے دیوانی مقدمے کا فیصلہ محض چار ماہ میں کرا کے قانون کی دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے اس نے بجلی اور سوئی گیس کے میٹر بھی لگوا لیے۔ ڈریکولا سے زیادہ خوفناک اور حیرت انگیز فلم، جس کے ہر سین پر شائقین بے اختیار پکار اٹھتے ہیں ''نا ممکن... نا ممکن‘‘ صبر و ہمت کے لازوال مظاہرے۔ علاوہ ازیں بے ڈھنگ پروڈکشن نے منی بیک گارنٹی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اداکارائوں کے شرمناک ڈانس دیکھ کر شائقین کو شرم نہ آئے تو ان کے پیسے واپس۔
............
میرا بیٹا روزانہ شام کو میری گاڑی لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے جاتا ہے۔ بذریعہ ٹویٹ ہذا بچے کے ''دوستوں‘‘ سے اپیل ہے کہ وہ اس کے ساتھ سیر کو ضرور جائیں مگر اپنی لپ اسٹک اور نیل پالش وغیرہ گاڑی میں چھوڑ کر نہ جایا کریں۔ شکریہ!
............
مجھے کسی کا زیورات سے بھرا ہوا بکس ملا ہے۔ میری اس فیک آئی ڈی کی مدد سے مجھے تلاش کر کے اپنا بکس لے جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *