27 سال جیل میں رہ کر عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ۔۔۔نیلسن منڈیلا

سپیشل رپورٹ 

Image result

نیلسن منڈیلا 1918 میں کوسا زبان بولنے والے تھیمبو قبیلے میں پیدا ہوئے جو کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصے میں چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جنوبی افریقہ میں انھیں ان کے خاندانی نام ’مادیبا‘ سے پکارتے تھے۔ان کا پیدائشی نام رولیہلا ہلا تھا جبکہ ان کے سکول کے استاد نے ان کا انگریزی نام ’نیلسن‘ رکھا۔جب نیلسن نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ تھمیبو شاہی خاندان کے مشیر تھے۔ والد کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے بادشاہ، جونگن تابا دلن دائبو، نے نیلسن کو تھمیبو لوگوں کے قائم مقام مشیر کی سرپرستی میں دے دیا۔

نیلسن مینڈیلا فیڈرل کاسترو کے ساتھ۔ —. فائل فوٹو اے ایف پی

نیلسن منڈیلا نے 1943 میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) میں شمولیت اختیار کی۔ پہلے وہ صرف ایک کارکن تھے تاہم بعد میں وہ اے این سی یوتھ لیگ کے بانی اور صدر بنے۔قید کے کئی برسوں کے بعد بھی وہ اس تنظیم کے صدر رہے۔انھوں نے 1944 میں پہلی شادی ایویلن میسی سے کی لیکن 1957 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس شادی سے ان کے تین بچے ہوئے۔منڈیلا نے وکالت پڑھی اور 1952 میں اپنے ساتھی اولیور تیمبو کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں آفس کھولا اور پریکٹس شروع کی۔منڈیلا نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس سے سیاہ فام اکثریت کا استحصال ہو رہا تھا۔1956 میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے۔نسل پرستی کے خلاف مزاحمت اس وقت بڑھی جب ملک میں ایک نیا قانون بنا۔ اس نئے قانون میں سیاہ فام لوگوں کو رہائش اور روزگار سے متعلق ہدایات تھیں۔1958 میں منڈیلا نے ونی مادیکیزلا سے شادی کی جنہوں نے بعد میں اپنے شوہر کی قید سے رہائی کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کیا۔اے این سی کو 1960 میں کالعدم قرار دے دیا گیا اور منڈیلا روپوش ہوگئے۔

۔ —. فائل فوٹو اے پی

نسل پرست حکومت کے خلاف ملک میں تناؤ مزید بڑھ گیا اور 1960 میں یہ اُس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب پولیس نے 69 سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں پُرامن مزاحمت کا خاتمہ ثابت ہوا۔ اس وقت اے این سی کے نائب صدر مسٹر منڈیلا نے ملکی معیشت کے سبوتاژ کی مہم چلا دی۔منڈیلا کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر سبوتاژ اور تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے۔ریوونیا کے کمرہ عدالت میں خود اپنا دفاع کرتے ہوئے منڈیلا نے جمہوریت، آزادی اور برابری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ’میں ایک مثالی جمہوریت اور آزاد معاشرے کا خواہش مند ہوں، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ امن سے زندگی بسر کریں اور انھیں ایک جیسے مواقع میسر ہوں‘۔یہ میرا تصور ہے جس کو مکمل کرنے کے لیے میں زندہ ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کی خاطر مرنے کے لیے بھی تیار ہوں‘۔

انیس سو چونسٹھ کے موسمِ سرما میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔1968 اور 1969 کے بارہ ماہ کے دوران منڈیلا کی والدہ کا انتقال ہوا اور ان کا بڑا بیٹا کار حادثے میں ہلاک ہوگیا، لیکن انھیں ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔انھیں اٹھارہ برس تک جزیرہ رابن کی جیل میں قید رکھا گیا اور پھر انیس سو بیاسی میں پولزمور جیل میں منتقل کیا گیا۔منڈیلا اور اے این سی کے دیگر رہنماؤں کی قید اور جلا وطنی کے دوران جنوبی افریقہ کے سیاہ فام نوجوانوں نے سفید فام اقلیت کی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے اس انقلاب کو دبانے کے دوران کئی لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔انیس سو اسی میں اولیور تیمبو نے منڈیلا کو رہا کروانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔بین الاقوامی برادری نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف انیس سو سڑسٹھ میں لگائی جانے والی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔

ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ مارگریٹ تھیچر کی کنزرویٹیو حکومت کے نزدیک منڈیلا اور ان کی سیاسی جماعت افریقن نیشنل کانگریس دہشت گرد تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب لندن میں پارلیمنٹ اور ویسٹ منسٹر ایبے کے قریب نیلسن منڈیلا مجسمہ نصب کیا گیا۔ —. فائل فوٹو

اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انیس سو نوے میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے اے این سی پر عائد پابندی ختم کر دی اور منڈیلا کو بھی رہا کر دیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک نئی مختلف النسل جمہوریت کے قیام کے لیے بات چیت شروع ہوئی۔منڈیلا نے 1992 میں اپنی بیوی وِنی کو اغوا اور تشدد کے الزامات میں سزا ملنے کے بعد طلاق دے دی۔دسمبر 1993 میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔اس کے پانچ ماہ بعد جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری الیکشن ہوئے، جس میں تمام نسلوں کے افراد نے ووٹ ڈالے اور منڈیلا کو صدر چن لیا گیا۔انھیں اپنے اقتدار میں جو سب سے بڑے مسائل درپیش رہے ان میں غریب افراد کے لیے گھروں کی کمی اور شہروں میں پھیلتی ہوئی کچی آبادیاں تھیں۔انھوں نے حکومتی معاملات اپنے نائب تھابو میبکی کو سونپے اور خود جنوبی افریقہ کی نئی بین الاقوامی ساکھ بنانے میں مصروف ہو گئے۔

وہ ملک میں موجود بین الاقوامی اداروں کو وہیں رہنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔اپنی 80ویں سالگرہ پر نیلسن منڈیلا نے موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ سے شادی کی اور دنیا کے دورے جاری رکھے، اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر عوامی اجتماعات میں اپنے فلاحی ادارے ’منڈیلا فاؤنڈیشن‘ کے لیے کام کی غرض سے نظر آتے تھے۔نیلسن منڈیلا نے اپنی 89 ویں سالگرہ پر دنیا بھر کی نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک گروپ ’دی ایلڈرز‘ قائم کیا تاکہ ’دنیا کو درپیش مشکل ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے‘ ان افراد کی کی مہارت اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن منڈیلا کے ہمراہ۔ —. فائل فوٹو

انھوں نے حالیہ برسوں میں جو سب سے بڑا کام کیا وہ 2005 میں ان کے بیٹے ماکگاتھو کی موت پر تھا۔ایک ایسے ملک میں جہاں ایڈز جیسے وبائی مرض کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، منڈیلا نے اعلان کیا کہ ان کے بیٹے کی موت ایڈز کی وجہ سے ہوئی اور جنوبی افریقہ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایڈز کے بارے میں اس طرح سے بات کریں کہ ’اسے ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جائے۔‘انھوں نے 2010 کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو دلوانے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی اختتامی تقریب میں شرکت بھی کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *