قاسمی صاحب 'رائٹ پرسن فار رائٹ جاب'

شفقت محمود

shafqat mehmood

بت پرستی صرف ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو پوجنے کا نام نہیں بلکہ بشر میں خدا ڈھونڈنا بھی بت پرستی ہی کی بھیانک شکل ہے -جن معاشروں میں کرکٹ جیسے ادارے کے سربراہ ریٹائرڈ جج (جسٹس نسیم حسن شاہ)اور ممبر فنانس واپڈا (خالد محمود) یا الیکشن کمیشن کے ادارے کے سربراہ ریٹائرڈ ججز (فخرالدین جی ابراہیم) مقررکئے جانے کی روایات موجود رہی ہوں وہاں عطاالحق قاسمی' رائٹ پرسن فار رائٹ جاب 'کی ابتدا کہاں جڑ پکڑ سکتی تھی حالانکہ وقت نے ثابت کیا کہ بھلے فخرالدین جی ابراہیم بلا کے ایماندار محب وطن ہوں لیکن الیکشن کمیشن کی جاب بہر حال ایک اچھے منتظم کی ڈیمانڈتھی جہاں ووٹنگ مٹیریل کی بر وقت مقرر فراہمی افراد کی سلیکشن فراہمی ایک اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا حامل کام تھا جو محض ایماندار محبِ وطن اچھی شہرت کا حامل جج بہرحال نہیں کر سکتا بلکہ یہ  ایک ٹرینڈ اور اعلیٰ منتظم کا کام تھا اور 2013 کے الیکشن میں بار ہا جگہوں پہ بارہ بجے تک سامان اور عملہ ہی نہ پہنچ پایا-

qasmi qasmi

پی ٹی وی کا ادارہ جس کے عروج کا یہ حال کہ لکھنے والوں میں اشفاق احمد،بانو قدسیہ،منو بھائی،عطاالحق قاسمی،نورالہدیٰ شاہ،حسینہ معین۔اصغر ندیم سید اورامجد اسلام امجد شامل اور سکرین پر ملی نغمے ،موسیقی کے پروگرام،ایوارڈ شوز،ٹیلی ڈراما۔۔۔۔ کیا آباد مناظر تھے- پھر پی ٹی وی ایسا زوال پذیر ہوا کہ ایڈیٹنگ کے مناسب آلات  تک میسر نہ تھے،  ڈرامہ یا پروگرام پروڈیوس کرنے کی صلاحیت وفات پا چکی تھی یہاں تک کے ریکارڈنگ تک کے آلات گھس چکے تھے اسی لیے زیادہ تر پروگرام براہ راست دکھائے جاتے تھے۔ ایسے میں عطاالحق قاسمی صاحب کی بطور چیئرمین تعیناتی ایک صحیح فیصلےکا اشارہ تھا کہ ابھی زندگی کہ آثار باقی ہیں اور' کھوئے ہوئوں کی جستجو' جیسے پروگرام میں عطا صاحب کی خود موجودگی اور دلچسپی ایک واضح اشارہ تھا کہ وہ اس ادارے کو دوبارہ زندہ کر سکییں گے اور زندہ وہی کر سکتا ہے جس نے اس ادارے کا عروج دیکھ رکھا ہو بلکہ 'خواجہ اینڈسن،۔حویلی ،شب دیگ جیسے ڈراموں سے اس میں اپنا حصہ ڈال رکھا ہو ، جو عروج کے زوال کا درد محسوس کر سکنے کی صلاحیت رکھتا ہو- یہ کوئی ایک دن یا لمحے کی کہانی نہیں- جو شخص نصف صدی سے 'روزنِ دیوار سے' لکھتا آ رہا ہو اور اس قدر خوبصورت لکھتا ہو کہ پڑھتے ہوۓ خوشگوار تاثر شگفتگی۔گہرائی۔خوبصورت طنز اور اعلیٰ چوٹ لگانے کی ادبی صلاحیت کا حامل ہو ایسے شخص کا استعفیٰ اس معاشرے کی سوچ  اوراس میں گھسے ہوئے سازشی عناصر پرتمانچہ نہیں بلکہ ٹھڈاہے لیکن افسوس رنج اور دکھ کی تاریخ بھی ہے جو شخص خود ان اشعار کا خالق ہو اس پر کوئی کیا الزام تراشی کرے گا عرض کرنے کا مقصد تھا کہ ادبی شخصیات یا known شخصیات کو جج کرنے کا صرف ایک پیمانہ ہے وہ ہے ان کی علمی ادبی کاوشیں آج میں یا آپ اگر اقبال،فیض احمد فیض کہ بارے میں کوئی آراء قائم کرنا چاہیں تو کیا ان کی تحریر تقریر اور ادبی کاوش کے سوا دیکھنا چاہیے؟

اس درجہ پار سائی سے گھٹنے لگا ہے دم
میں ہوں بشر خطاۓ بشر ہونی چاہیے
وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہے
اس کو میرے غموں کی خبر ہونی چاہیے

اے جہالت زدہ معاشرے اور سازشی وزیرو کبیرو اچھے لکھاری قوموں کا فخر ہوا کرتے ہیں ان کی عزت وقار پزیرائی فرض کی سی اہمیت رکھتے ہیں نہ کہ انہیں اتنا مجبور کر دیا جائے کہ وہ استعفی دے دیں کیونکہ لکھاری کا استعفیٰ ایک ایسینحوست ہے جس کے اثرات معاشروں کو بھگتنا پڑتے ہیں کیونکہ کوئی claim کرے کہ میں فلاں فلاں یونیورسٹی یا ادارے سے پڑھ کر آتا ہوں تو اقبال جیسا شاعر بن جاؤں گا تو ایسا ہو نہیں سکتا ایک دفعہ پھر عطا صاحب کو quote کرتے ہوۓ۔

یا گم ہوا جاتا ہے کوئی منزلوں کی گرد میں
زندگی بھر کی مسافت رائگاں ہونے کو ہے
شام ہوتے ہی عطا کیوں ڈوبنے لگا ہے دل
کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے اور ناگہاں ہونے کو ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *