پاکستان کی بہادر ترین خاتون

5

پاکستان کی مختصر تاریخ  میں کوئی چار فوجی ڈکٹیٹر عاصمہ جہانگیر کا پبلک سروس کے لیے وقف ہونا ، ان کا قانون پر یقین،  ان کا لگاتار جمہوریت پر زور دینا  اور بلکل آذاد اورشفاف الیکشن کے حصول کی تگ و دو  کرنا دیکھ چکے ہیں۔ وہ پاکستان کے تمام ہمسایوں کے ساتھ  امن اور عدل کی بنیاد پر تعلقات چاہتی تھیں۔  ہندوستان سمیت پوری دنیا کو ان کی موت کا غم ہے۔ ہزاروں لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے مخالف ان کی عزت کرتے تھے۔ جب پاکستان ایک بار پھر اپنے ہمسایوں اور امریکہ کے ساتھ تناؤ اور سیاسی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہا تھا تو عاصمہ نے امن اور ہوشمندی کے لیے آواز اٹھانے کا نہایت اہم کردار ادا کیا۔ افسوس اب وہ آواز خاموش ہو گئی ہے اور ان کی جگہ لینے والا کوئی خواہشمند نہیں ہے۔  اپنی پوری زندگی انہوں نے بہت سے رسک لیے۔ وہ بہت بہادر تھیں۔  وہ1952 میں  لاہور میں پیدہ ہویئں اور اسی شہر میں تعلیم حاصل کی جب تک ان کو 1980 میں لاہور ہائی کورٹ نے نہیں بلا لیا۔پہلی بار 1983 میں وہ گرفتار ہویں۔ اس وقت ان کا جرم جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مہم میں حصہ لینا تھا۔انتظامیہ کے ہاتھوں متاثر لوگوں کے کیس لڑنے کے باعث کئی بار وہ گرفتار ہوئیں اور گھر میں نظر بند بھی ہوئی۔  1987میں انہوں نے پاکستان کے انسانی حقوق کمشن کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا اور اس مہم میں سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے۔ HRCP  عورتوں کے حقوق دلوانے ، اقلیتوں کو مذہبی تحفظ دلانے، بچوں اور غریب عوام جن کا پیسے نہ ہونے پر قانون تک پہنچنا ممکن نہیں تھا،  ان کو ان کا حق اور انصاف دلانے پر انہیں پوری دنیا میں شہرت اور پہچان ملی۔  اس کی غیر ریاستی آرگنائزیشن کے ذریعے ملنے والی ملک میں حقوق العباد کے متعلق سالانہ رپورٹ  اب بھی بہت اہم مانی جاتی ہے ۔ یہ رپوٹ پاکستان میں حقوق العباد کے نفاذ کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے  غیر ملکی گورنمنٹ کے استعمال میں بھی آتی ہے۔  اپنی بہن حینا جیلانی کے اور دو اور وکلا کے ساتھ مل کر  انہوں نے پاکستان میں  پہلا قانون بنایا جو خواتین نے خواتین کے لیے بنایا ۔ اس فرم میں ان حراساں خواتین کے کیس لیے جاتے جو فیس نہیں دے سکتی تھیں جبکہ یہ قانونی فرم بہت جلد پریس اور دوسرے معاشرتی کیسز کی مرکزی تحفظ گاہ بن گئی۔  عاصمہ جہانگیر شاید بہت عزت دار پاکستانی شہری تھیں، جن کو کئی انسانی حقوق کے متعلق ایوارڈ، اعزازی ڈگریاں ملیں اور کئی ایوارڈ امریکہ، لندن، سوٹزر لینٖڈ، بیلجیم، ندر لینڈ اور کئی اور ملکوں کی یونیورسٹیوں اور گورنمنٹ سے بھی ایوراڈ ملے۔  ان کو سب سے بڑا انعام دلانے والے کیس سب سے خطرناک بھی ہوتے تھے۔ ان میں مذہب اور توہین رسالت کے ملزموں کے تحفظ کی لڑایاں بھی شامل  تھیں۔ انہوں نے 2005 میں میڈیا کو بتایا کہ ؛ '' یہ سراسر منافقت ہے کہ ایسے قانون کا تحفظ کی جائے جس میں ۔ سزائے موت ، توہین رسال کا قانون، عورتوں کی مخالفت کا قانون، اور بچوں کے مزدوری کرنے کی ایجازت کا قانون شامل ہیں۔  ''  اب بھی عاصمہ کو ان کی کامیابیوں کی لمبی فہرست کے ساتھ یاد کیا جائے گا اور ان کی ریاست؛ جو ہر وقت راسخ الاعتقادی اور لبرل ازم سے گھری رہی کے لیے خدمات بھی یاد رکھی جائیں گی۔ وہ بہترین انسان تھین اور بہت خوش مزاج بھی، ایک جان نثار کرنے والی ماں اور بیوی اور بعد میں اپنے بچوں کے بچوں کے لیے محبت سے سرشار تھیں۔  ان کا گھر ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ ہر وقت ان کے دوست، سائیلین، متاثرہ خواتین اور بچے ، سیاست دان، اور میڈیا کے لوگ ان کے گھر میں آئے رہتے۔ قد میں چھوٹی لیکن روح سے پری، ان کی انگلی ٹی – وی میں کسی میزبان ، کسی وکیل پر  یا کسی کورٹ میں موجود فرد پر جارحانہ ہلتی ہوئی، بہت ساری نشانیوں میں سے ایک خاص پہچان ہے۔  ان کی کبھی بھی کسی پر بھی کسی بھی موضوع  پر تنقید یا تقریر کرنے کی قابلیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ان کو میڈیا نے جتنا ڈرایا دھمکایا اتنا ہی چاہا بھی۔ وہ سچائی بیان کرنے میں سیاست دانوں، جنرلز اور بیوروکریٹس  کے سامنے بھی کبھی نہیں گھبرائیں۔
ان کا قانونی نظام اور قانون کا تحفظ سینیئر ججوں، وکیلوں اور صاافیوں سے بھی کئی گناہ ذیادہ مضبوط تھا۔ ملک کا تین تہائی حصہ قانون اور جمہورہت  سے محروم ہے ، اور عاصمہ کا قانونی تحفظ لا جواب تھا۔  برے حالات ، بے یقینی خوف اور ڈر میں لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ بلند حوصلہ، طاقت اور ہمت لے کرپوری دنیا سے نمٹنے کے لیے تیار واپس آتے۔ وہ سب کے لیے جدو جہد کرتی تھیں اور خود غرضی نہیں دکھاتی تھیں۔ وہ اپنے شاندار کردار کے ذریعے لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر آمادہ کرتی تھیں۔ ان کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا

courtesy : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *