سعودی خواتین کو سانس لینے کی آزادی مل گئی

6

حنان النفائی

مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے تین سال پہلے یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی تھی۔ میرے لیے ہر شعبہ کا دروازہ  صرف ایک خاتون ہونے کی وجہ سے  بند تھا۔ کیونکہ ٹیچنگ کے علاوہ تمام جابز خواتین کے لیے نا مناسب مانی جاتی تھیں۔ خواتین کی ہر خواہش اور جذبہ کے سامنے رکاوٹیں تھیں۔ یہاں تک کہ سانس لینا بھی کئی بار شرم کا باعث ہوتا تھا۔  اس طرح کی بے تکی سماجی قدغنیں نسل در نسل چلتی آ رہی تھیں۔ لیکن 2017 کے آغاز سے بہت سے حالات بدل چکے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتدار میں آ کر خواتین کو با اختیار بنانے پر کام کا آغاز کیا ہے۔ خواتین کو اپنی ساری طاقت اپنے گھر
والوں کو منانے پر لگ جاتی تھی کہ انہیں ان کے متعلقہ شعبہ میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ اگر گھر والے اجازت دے دیتے تو بھی معاشرہ انہیں قبول نہ کرتا۔ مجھے وہ ہیش ٹیگ یاد ہیں جن کے ذریعے کام کرنے والی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ہیش ٹیگ کے ذریعے مردوں کو خبر دار کیا جاتا کہ وہ  فیمیل ڈاکٹر کے ساتھ شادی نہ کریں کیونکہ ایسی خواتین مردوں کے ساتھ ہسپتال میں گھل مل کر کام کرتی ہیں۔اس کا اثر 12 سے 14 سال کے بچوں پر بھی پڑتا اور وہ اپنی بہنوں اور ماوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ وہ اپنی کام کرنے والی رشتہ دار خواتین پر نظر رکھیں۔  ان دنوں  خواتین صبح سویرے اپنے دروازے پر بس کا انتظار کرنے کھڑی ہو جاتی تھیں کیونکہ سکول بس کے ڈرائیو کچھ سیکنڈ ز سےزیادہ انتظار نہیں کرتے تھے۔ اگر ٹیچر کی بس مس ہو جائے  تو وہ ڈیوٹی پر نہیں جا پاتی تھی کیونکہ اسے ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔ میں ان دنوں کی مشکلات پر ایک کتاب لکھ سکتی ہوں۔ محمد بن سلمان نے اقتدار میں آ کر اپنے نئے مائنڈ سیٹ اور وِل پاور کی وجہ سے خواتین کی زندگی بدل دی ہے ۔ انہوں نے سعودی عرب کو ایسا ملک بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے جہاں خواتین کو اہمیت حاصل ہو گی۔ انہوں نے خواتین کو ہر شعبہ میں طاقتور بنا دیا ہے۔  انہیں خواتین کی قابلیتوں پر بھروسہ تھا۔ انہوں نے فیصلہ کرنے سے پہلے ایسے لوگوں کی رائے کا انتظار نہیں کیا جن کی وجہ سے ہمارا ملک دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے ۔ انہوں نے خواتین کو اپنے ویژن میں شامل کیا اور بتایا کہ خواتین ملک کی جی ڈی پی میں کردار ادا کریں گی۔ اس سے خواتین کو بہت اعتماد ملا   کہ وہ ملک کی ترقی میں اہم ستون کا کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔  اس سے فوری طور پر معاشرے کوتبدیلی قبول کرنا پڑی  جو ایک حقیقت بن چکی تھی۔ اب خواتین ایسے عہدوں پر کام کر رہی ہیں جن تک پہنچنے کا انہوں نے سوچا تک نہ ہو گا  جیسا کہ کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں، ائیر پورٹ پر، پولیس میں اور دوسرے بہت سے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی شامل ہے۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف بھی قوانین تیار کیے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ اب خواتین پورے جوش اور جذبے سے تعلیم کے حصول اور نوکری میں مشغول دکھائی دیتی  ہیں کیونکہ وہ جان گئی ہیں کہ سعودیہ میں ان کا ایک مقام ہے۔ جی ہاں اب یہاں خواتین کو ایک فرسٹ کلاس انسان کی طرح رہنے کا اور خوشحال اور صحت مند زندگی گزارنے کا حق مل رہا ہے۔ ملازمت کے شعبہ میں خواتین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تفریحی انڈسٹری میں بھی خواتین کی نمائندگی میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب خواتین کام کرتی ہیں، رضا کار بنتی ہیں اور خوشحال زندگی گزارتی ہیں۔ لیکن میں جانتی ہوں کہ کہیں کہیں اب بھی اس اقدام کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور مردوں کو اچھا نہیں لگتا کہ ان کی خواتین ایک خود مختار انسان کی حیثیت سے زندگی بسر کریں لیکن یہ مزاحمت بہت معمولی نوعیت کی ہے۔ سعودیہ کی خواتین اس بدلاو پر حکومت کی بہت شکر گزار ہیں  کیونکہ اب ہمیں معلوم ہے کہ ہم کبھی واپس ماضی والے حالات میں واپس نہیں جا ئیں گی۔  شہزادہ محمد بن سلمان نے خواتین کو آزادی دلوانے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

source : http://saudigazette.com.sa

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *