پانچ فٹ کا دیو

irfan hussain

ایک ایسے وطن میں جہاں ہیروز کی کمی ہو، ایک بڑی شخصیت کی موت پوری قوم کو یتیمی کی حالت میں چھوڑ دیتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی اچانک رخصتی کے ساتھ پاکستان نے انسانی حقوق کا ایک بڑا بہادر جنگجو کھو دیا جب کہ عاصمہ کے دوست ایک ہمدرد اور اچھے اور برے وقت میں کام آنے والے ساتھی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔ عاصمہ مذاحیہ اور نقل کرنے کی ماہر تھیں اور لوگوں کی نقل اتار کر اپنے ساتھیوں کو بہت محظوظ کرتی تھیں۔ میں عاصمہ اور ان کے خاوند طاہر جہانگیر سے 70کی دہائی کے وسط میں ملا تھا جب ان کی شادی ابھی ہونے والی تھی۔ تب سے ہم دوست بن گئے تھے۔ میں نے عاصمہ کو ہمیشہ بہادر اور قوت سے بھر پور خاتون کے طور پر دیکھا۔ ایک سال قبل جب انہیں کینسر سرجری ہوئی تو اس کا ان کے خاندان پر گہرا اثر ہوا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور زندگی کی جنگ جاری رکھی۔ جب وہ اپنے خاوند کے ساتھ سری لنکا ہمارے ساتھ رہنے آٗئیں تو مجھے لگتا تھا کہ اب وہ آہستہ ہو گئی ہوں گی لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہ ہمارے ساتھ لمنے سفر پر بھی گئی، رات دیر تک گپ شپ کی اور مکمل صحتیاب اور فریش دکھائی دیں۔ اگلی صبح ہی وہ کولمبو میں ایک میٹنگ کےلیے نکل گئیں۔ آخری بار جب میں ان سے ملا تو یہ ملاقات بھی سری لنکا میں ہی تین ماہ قبل ہوئی تھی۔ وہ تب وہاں ساوتھ ایشیا ہیومن رائٹ آرگنائزیشن کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے آئی تھیں۔ ہم اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ ریسٹورینٹ گئے اور عاصمہ کو بھی وہیں بلا لیا۔  جب وہ دوستوں کے ساتھ ہوتیں تو کوئی سنجیدگی نہیں دکھاتی تھیں اور نہ ہی شہرت کا دکھاوا کرتی تھیں۔ ان کے بہت سے اعزازات کے بارے میں میں نے ان کی وفات کے بعد خراج تحسین پیش کرنے والوں سے سنا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صحافیوں اور حقوق کے لیے لڑنے والوں کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے یہ پہچان بہت اہمیت کی حامل تھی۔ عاصمہ کے ساتھی اور خاندان کے لوگ ان کی سکیورٹی کے بارے میں پریشان رہتے تھے لیکن وہ کبھی بھی اپنے آپ کو بنکر میں چھپا کر رکھنے کی حامی نہیں تھیں۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے ٹی وی شو میں فوجی بغاوت کرنے والے ڈکٹیٹرز کو ڈفرز
کہا جنہیں پاکستانی سیاست کے زمینی حقائق کا کوئی علم نہیں ہے۔ اگرچہ بہت سے پاکستانی یہ رائے رکھتے ہیں لیکن اس رائے کو ایسے کھلے عام بیان کرنا صرف عاصمہ کو آتا تھا۔ اس بہادر خاتون نے ہمیں سچ کی راہ پر چلنے اور سچ بولنے کے بہت سے سبق دئیے۔  اسٹیبلمشنٹ مائنڈ سیٹ جس کے خلاف وہ لڑ رہی تھیں مجھے اس کا اندازہ تب ہوا جب کچھ دن قبل ایک کرنل نے مجھے ای میل بھیجی۔ چونکہ یہ اس خط کی کاپی تھی جو اس اخبار کے ایڈیٹر کو بھیجا گیا تھا اور اسے شائع ہونا تھا اس لیے میں اس کے الفاظ ہو بہو بیان کر دیتا ہوں۔ اس تمام تعریف کے باوجود جو لبرل عاصمہ کےلیےبیان کر رہے ہیں اور ان تمام ایرے غیرے لوگوں کی طرف سے ان کو سراہے جانے کے باوجود جو آرمی کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں، میرے لیے عاصمہ کے بارے میں یہی کہنا مناسب ہو گا؛خس کم جہاں پاک۔ اگر میں ایسا نہیں کہتا تو یہ منافقت ہو گی۔ میں اس فوجی کے جواب میں غصہ میں یہ کہہ گیا کہ اسکے مرنے پر اس
کے رشتہ داروں کے سوا کوئی نظر نہیں آئے گا۔ لیکن اس آرمی جوان کی عاصمہ کےلیے نفرت نے اس گلف کو واضح کر دیا ہے جو ملٹری اور سول سوسائیٹٰی کے درمیان عاصمہ کے جانے سے پیدا ہوا ہے۔  ایسے لوگوں کے بیانات کے جواب میں یہی چند اشعار عاصمہ کےلیے کہہ دینا کافی ہو گا: اسے کوئی ہرا نہیں سکتا۔ جو اس پر حملہ کرتا ہے وہ خودکو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کی طاقت بڑھتی ہی جاتی ہے اوروہ ہر شیر کے ساتھ لڑ سکتی ہیں۔ وہ کسی
دیو سے ٹکرانے سے نہیں گھبراتی۔  عاصمہ نے اکیلے کورٹ روم، ٹی وی سٹوڈیو، اخباری مضامین، اور پاکستان کی گلیوں پر دیو سے ٹکر لی۔ ان کی سچائی کی للکار کا وار ہر جج، جنرل، سیاستان نے محسوس کیا اور انہوں نے ہر غریب، بے بس اور سچائی کا ساتھ دینے والے کے لیے آواز اٹھائی۔  اگرچہ عاصمہ بے نظیر حکومت پر بھی سخت تنقید کرتی تھیں لیکن ذاتی لحاظ سے دونوں خواتین ایک دوسرے کے بہت قریب دوست کی طرح رہیں۔ بے نظیر کے قتل سے بہت سے فرائض عاصمہ کے کاندھوں پر آن پڑے اور انہیں موقع ملا کہ وہ لیڈر شپ کا کردار سنبھالیں لیکن عاصمہ نے یہ کہتے ہوئے ہمیشہ انکار کیا کہ گورنمنٹ کا حصہ بننے کے بعد ان کے لیے حکومت پر تنقید کا جواز ختم ہو جائے گا۔ ہم میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو ملی ہوئی وزارت، طاقت اور دوسری سہولیات کو لات مار سکیں؟  عاصمہ کو خراج تحسین ان کے خاوند کی سپورٹ کا ذکر کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مرد ایسی خاتون سے رشتہ بنانے سے ڈرتے ہیں جو مضبوط، خود مختار ہو، وہاں طاہر جہانگیر نے عاصمہ کی ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا
فرض نبھایا اور ان کی وجہ سے جیلیں کاٹیں اور دوسرے کئی مظالم برداشت کیے۔  جب بے نظیر کو قتل کیا گیا تو میری ماں کی عیسائی دیکھ بھال کرنے والی مائی روئی اور کہنے لگی کہ وہ اور اس کی پوری عیسائی کمیونٹی یتیم ہو گئی ہے۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ وہ مائی اب عاصمہ کی موت پر کیسے رو رہی ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *