ترکی کے خوار ہوتے ہوئے میخوار

Turkish Prime Minister Recep Tayyip Erdogan`s wife Emine Erdogan (L), Recep Tayyip Erdogan (2nd L), Ecumenical Patriarch Bartholomew (2nd R), and Armenian Orthodox Archbishop Aram Atesyan (R) talk during a dinner on August 28, 2011, at the Archeology Museum Garden in Istanbul. Erdogan hosted religious leaders and the heads of about 160 minority trusts at a fast-breaking dinner for Ramadan. AFP PHOTO/BULENT KILIC (Photo credit should read BULENT KILIC/AFP/Getty Images)

استنبول ۔ کریم ترکی کی قدیم ترین شراب فیکٹری کے قریب رہائش پذیر ہیں لیکن وہ مقامی کمپنیوں ایفیز اور بومونتی کی شراب کا ایک گھونٹ پینا پسند نہیں
کرتے۔ اس کی بجائے انہوں نے اپنے فلیٹ کو ہی شراب خانہ بنا لیا ہے اور اپنی شراب کشید کر مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے ٹیکس اور قیمت سے نجات کا راستہ نکال لیا ہے۔ انہوں نے بتایا: میں نے یہ کام اس لیے شروع کیا کہ قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور پھر میرے لیے یہ ایک تفریح کا ذریعہ بنتا گیا۔ اردگان حکومت کے قیام کے بعد الکوحل کی سیل پر ٹیکس میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ 2003 سے اب تک ترکش سٹیٹسٹکس انسٹیٹیوٹ کے مطابق الکوحل کی قیمت میں 618 فیصدا ضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ راکی جو سب سے مشہور فلیور ہے کی قیمت میں 725 فیصد اضافہ ہوا۔  ترکی کے 80 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شراب نہیں پیتے۔ لیکن جو پیتے ہیں ان کے لیے یہ ایک لگژری کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ لیکن گھر میں شراب بنانا سستا پڑتا ہے اس لیے زیادہ تر ترک شراب نوش گھر پر ہی شراب بنانے لگے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں الکوحل کی سیل میں کمی آئی ہے تو گھریلو شراب کی مارکیٹ میں بے پناہ اضافہ بھی ہوا ہے۔ کریم نے بتایا کہ ایک بوتل اصل قیمت کی ایک چوتھائی قیمت میں گھر پر تیار کی جا سکتی ہے اور شراب بنانے کی کٹس آن لائن سستے داموں خریدی جا سکتی ہیں۔  کریم کے مطابق بہت سے ترک شہری شراب بنانے اور پینے کو ایک غیر مذہبی فعل سمجھتے ہیں اس لیے ان کی نظر سے بچنا پڑتا ہے ورنہ ملک میں ایک سال کے دوران 350 لٹر تک شراب بنانا قانونی ہے اور ایسا کرنے پر جیل نہیں جانا پڑتا۔  اردگان نے شراب نوشی کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: جو بھی شراب پیتا ہے وہ شراب نوش ہی ہے۔ انہوں نے شراب تیار کرنے والے کارخانوں پر ٹیکسز کے علاوہ کچھ پابندیاں بھی لگائی ہیں 2013 کے بعد سے رات 10 بجے کے بعد شراب کی فروخت پر پابندی عائد ہے اور مسجد کے آ س پاس 100 میٹر کے علاقہ میں بھی شراب نہیں بیچی جا سکتی۔  الکوحل کی ایڈورٹائزنگ پر بھی پابندی عائد ہے اور ترکی کے ہر ٹی وی پروگرام میں سگریٹ اور شراب کی تصویر بھی دھندلی کر کے دکھائی جاتی ہے۔

ISTANBUL, TURKEY: A shop keeper shows a legally produced Turkish Raki in Istanbul 03 March 2005. The deaths of nine people from bootleg liquor has sparked panic in Istanbul drinking establishments, with many bar owners blaming higher taxes on alcoholic beverages by a government with Islamist roots for the emergence of illegal liquor factories. AFP PHOTO/Mustafa Ozer (Photo credit should read MUSTAFA OZER/AFP/Getty Images)

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوام کے مفاد کو مد نظر رکھ کر کیے گئے ہیں تا کہ عوام کی صحت کا تحفظ ہو اور بچے شراب نوشی کی لعنت سے محفوظ رہیں۔ لیکن سیکولر طبقہ کے مطابق یہ عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے۔  اردگان کی اپروچ مصطفی کمال اتاترک سے تو بہت مختلف ہے جس کی شراب کے گلاس کے ساتھ تصویر دیکھی جا سکتی ہے اور جس نے انقرہ میں شراب خانہ بھی قائم کیا تھا۔ راکی ترکی کا نیشنل ڈرنک مانا جاتا ہے۔  ترکی میں 70 سی ایل کی راکی کی بوتل جو چار لوگوں کے لیے کافی ہوتی ہے 100ترکی لیرا کی ملتی ہے بشرطیکہ اسے دکان سے خریدا جائے اور ریسٹورینٹ مین اس کی قیمت130 لیرا کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے 2012 سے 2016 کے بیچ اس کی سیل میں شاندار کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن کاونٹر فیٹ پراڈکٹس کی سیل میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس کے نتائج بھی بھیانک ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں کئی لوگ زہریلی اور غیر معیاری شراب پینے کی وجہ سے موت کو گلے لگا چکے ہیں۔ بہت سے ترکوں نے راکی بھی گھر پر بنانی شروع کر دی ہے۔ اس کا طریقہ یہ نکالا گیا ہے کہ ایتھیل الکوحل کو مکس کر دیا جائے اور اسے آئل کے مقابلے میں آدھی قمیت پر بیچا جائے۔ یہ طریقہ بہت مقبول ہوا ہے۔

*کھٹے انگور*

*ترک حکومت اس ٹرینڈ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ نئے ریگولیشن کے مطابق پروڈیسرز کے لیے لازمی ہو گا کہ ہو ترکی میں بیچی جانے والی شراب میں ڈیناٹونیم بینزوویٹ کا استعمال کریں۔ 38 سالہ انجینئر امت کے مطابق شاید حکومت چاہتی ہے کہ اب شراب صرف انگور سے ہی تیار کی جائے۔ یہ لوگ ایتھنول کے استعمال میں بہت سستی دکھاتے ہیں۔ ہماری زمین ایک جنت ہے جہاں انگوروں کی بہترین ورائٹی دستیاب ہے۔  امت کے گھر آنے والے شراب نوش لوگوں کو مقامی شراب بہت پسند ہے۔ انہوں نے اپنےد وسرے باتھ روم کو شراب کے سٹور روم مین بدل لیا ہے اور ٹیلیویژن کے قریب بھی ایک کونا شراب کےلیے مختص کیا گیا ہے۔ امت نے شراب تیار کرنے کا کام ایک سال قبل شروع کیا اور بہت جلد سرخ شراب بنانے میں مہارت حاصل کر لی جو اوکوزوگوزو نامی انگور سے بنتی ہے۔ انگوروں کے بچے ہوئے چھلکوں سے وہ گولڈن رنگ کی راکی بناتے ہیں۔ ان کے مطابق ہوم میڈ پروڈکشن ایک بیک وقت کمائی اور
احتجاج کا ذریعہ ہے۔ الکوحل کی قیمتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں لیکن اسے گھر پر بناناا بھی ایک قسم کی سیاسی چال ہے۔ میں قدامت پرستوں کو ٹیکس نہیں دینا
چاہتا۔  بہت سے گھریلو شراب بنانے والوں کی طرح امت کو بھی خوف ہے کہ اے کے پی حکومت ان پر پابندیاں عائد کر دے گی۔ انہوں نے جو سے بھی شراب بنانا سیکھ لی ہے تا کہ اگر حکومت شراب بنانے کی کٹس پر پابندی لگائے تو ان کا کام چلتا رہے۔  اس سے قبل فروری میں اناڈولو ایفیز کے چئیر مین نے تجویز دی کہ حکومت مقامی شربت ساز کمپنیوں پر زیادہ ٹیکس لگائے جس پر سخت رد عمل سامنے آیا۔ چئیر مین ٹنکے اوزلان کا کہنا تھا: میرے خیال میٰں شراب کی فروخت میں کمی کی وجہ ترکی کی مقامی شراب کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ اور یہ شراب کم قیمت میں بھی دستیاب ہے۔ آج کل کل قیمت کا نصف

Turkish youth drink beers near Gundogdu square in Izmir on June 8, 2013, where Turkish youth have been camping out as part of anti-government protests. Thousands of angry Turks took to the streets on June 8 to join mass anti-government protests, defying Prime Minister Recep Tayyip Erdogan's call to end the worst civil unrest of his decade-long rule. Erdogan, meanwhile, was meeting in Istanbul with top officials of his Justice and Development Party (AKP) to discuss the crisis, and a deputy prime minister was due to make a speech later on June 8. AFP PHOTO / OZAN KOSE (Photo credit should read OZAN KOSE/AFP/Getty Images)

سے زیادہ حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہے۔ اس نئے ٹرینڈ سے ٹیکس انکم میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ ہم نے اس معاملے میں اپنے رائے سے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔ اس کا رد عمل بڑا سخت اور تیز تھا۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایفیز کمپنی کے خلاف بائیکاٹ کی مہم شروع کی۔ اور اگلے ہی دن اوزلان کو اپنے بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکس میں اضافہ کی مانگ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ مقامی شراب میکرز کے ملک کی معاشی ترقی میں کردار کو سراہ رہے تھے۔ کریم کے مطابق بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود مقامی شراب ابھی تک عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام نہیں بنا پائی ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں اور میرا دوست یہ اکثر کرتے ہیں۔ لیکن میرے دوسرے دوست، میں نے انہیں کٹس بھی لے کر دیں اور انہوں نے ایک بار یہ شروع کیا لیکن پھر ٹھنڈے پڑ گئے اور پھر مکمل طور پر ترک کر دیا۔ ترکی میں یہ اب بھی معمولی چیز ہے لیکن جیسے جیسے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ زیادہ لوگ اس کاروبار کی طرف آ رہے ہیں۔

source : https://www.politico.eu

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *