عمران خان، ہیرو سے زیروہوتا ہوا انسان

کچھ اریٹیشن محسوس کر لیجیے۔ ایک منٹ کے لیے محبت اور نفرت کو بھول جائیے۔ یہ بھی بھول جائے کہ آپ اسے ہی ووٹ دیں گے یا زندگی بھر اسے ووٹ نہیں دیں گے۔ تھوڑی دیر کےلیے عمران پرغصہ محسوس کر لیجیے۔ کیونکہ وہ اس قابل ہیں کہ ان پر غصہ نکالا جائے۔ لودھراں میں ہونے والی شکست ایک علامت ہے کہ عمران جیت نہیں سکتے یا انہیں جیتنے کا گر نہیں آتا۔ یہی حقیقت ہے۔  دنیا میں اقتدار کی خواہش بہت لوگوں نے کی لیکن اس کے حصول میں بہت کم لوگ کامیاب ہوئے۔ عمران اتنے عرصہ سے وعدے زیادہ اور کارکردگی کم دکھا رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں شکست ان کے لیے حیران کن نہیں ہو گی۔ بلکہ اگر عمران جیت جاتے ہیں تو یہ زیادہ بڑی حیران کرنے والی بات ہو گی۔  لیکن شکست سے بھی ایک مثبت نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی حکومت یا اکثریت نہ بھی لے پائے ہوں تو بھی آپ نیشنل ڈسکورس کے گوررنس ایجنڈا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جو پی پی نے ساوتھ پنجاب میں کی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ شکست کھانے والے ہیں اس لیے انہوں نے نسل کا کارڈ استعمال کیااور کہا کہ تم لوگ ہمیں ووٹ دو ہم تمہیں نیا الگ صوبہ دیں گے۔  یہ احمقانہ حکمت عملی تھی۔ کیونکہ دو پنجابی صوبوں سے پنجاب میں سی سی آئی، ای سی پی، این ایف سی اور دوسرے فیڈرل اداروں میں پنجاب کا حصہ ڈبل ہو جاتا۔ پنجاب کو دو ہائی کورٹ مل جاتے اور سپریم کورٹ میں پنجابی ججوں کی تعداد بڑھ جاتی۔  اگر آج چھوٹے صوبے محرومی کا رونا رو رہے ہیں تو اس صورت میں پنجاب کے دوصوبوں سے سر درد مزید بڑھ جاتی۔ لیکن پی پی کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا اور سرائیکی ووٹ کے ذریعے ہی وہ الیکشن میں کچھ بہتر توقع رکھ سکتے تھے۔  اس سے کچھ فائدہ ضرور ہوا۔ اس ڈر سے کہ جن اگر بوتل سے باہر آ گیا تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، ن لیگ حکومت نے ساوتھ پنجاب کو سنجیدگی سے لینے کا عمل شروع کیا۔ پچھلے چار سال میں اس علاقے میں بہت پیسہ لگایا گیا۔ اگرچہ ساوتھ پنجاب کو لاہور جیسا تو نہیں بنایا گیا اور شاید کبھی بن بھی نہ سکے لیکن ساوتھ پنجاب اور لاہور کے بیچ کا سیاسی فاصلہ کافی حد تک کم ہو گیا۔  ضمنی الیکشن میں ہیوی ٹرن آوٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا جیسا کہ مسلم لیگ ن میں زیادہ ونر ایک ہی جگہ موجود ہونے سے پرابلم پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک ہی حلقے میں زیادہ ونرز کا موجود ہونا ایک مسئلہ بن سکتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس سے تو بہتر ہے کہ آپ کے پاس کوئی ونر ہی نہ ہو۔ پوائنٹ یہ ہے کہ پی پی نے جب صوبائی کارڈ کھیلا تو ن لیگ نے اس کے جواب میں صوبے کو زیادہ توجہ دینے کی ٹھانی اور وہی کیا جس کی وجہ سے اس کی پہچان ہے۔ اس علاقے میں انفراسٹرکچر کو تیزی سے بہتر کیا گیا۔ واپس عمران کی طرف چلتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ عمران خان کہیں چلے جاتے ہیں اور ان کی پارٹی اچانک ٹوٹ جاتی ہے۔ ایسا کچھ ہی دیر میں ممکن ہے۔ اس صورت میں اس پارٹی کو کن خدمات کی وجہ سے یادرکھا جا سکتا ہے؟  یہی سوال عمران کے بارے میں سب سے زیادہ اشتعال دینے والا ہے۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر پارٹی کو یاد رکھا جائے۔  اس پر مزید افسوس اس لیے ہوتا ہے کہ عمران کو سیاست میں اتنا زیادہ عرصہ گزر
چکا ہے۔ ایک شخصی پارٹی سے انہوں نے پی ٹی آئی کو ملک کی دوسری بڑی پارٹی بنا ڈالا۔ اب وہ اقتدار کے کافی قریب نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے کوئی ایسی قابل قدر خدمت سر انجام نہیں دی جس کی بنا پر اسے تادیر پہچان مل سکے۔ پی ٹی آئی کی سیاست بس کرپشن کے خلاف بیان بازی کے گرد گھومتی ہے۔  مان لیتے ہیں کہ کرپشن ختم کرنا عمران کا واحد ایجنڈا ہے لیکن اپنے حمل صرف نواز اور کبھی کبھار زرداری تک محدود رکھتے ہوئے عمران خان نے سسٹم کے اندر سے کرپشن کے خاتمہ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اپنے مخالف کو کرپٹ قرار دینا کوئی خاص
سیاسی پیغام نہیں مانا جاتا۔ پی ٹی آئی کے مخالفین یہی کہتے رہیں گے کہ پی ٹی آئی نے کوئی کام نہیں کیا۔ یہ سچ ہے کہ عمران سیاست میں نئے ہیں اور پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا گیم میں بھی مخالفین پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔ لیکن جو حال بے نظیر کا آئی جےآئی اور شریف برادران کے ہاتھوں ہوا اس کی روداد ابھی مکمل طور پر بھولی نہیں ہے۔ اور سوشل میڈیا کی گندی گیم سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت کے لیے بھی ایسے حالات پیدا ہونے کو ہیں۔
*آپ پی ٹی آئی کے سارے ایجنڈوں کو کنگھال کر دیکھ لیں لیکن آپ کو کوئی قابل فخر کارنامہ نظر نہیں آئے گا جو کسی اہمیت کا بھی حامل ہو اور تا دیر قائم
رہنے والا بھی ہو جو عمران نے پاکستان کی سیاست میں متعارف کروایا ہو۔ یہاں تک کہ عمران نے شریفوں کو بھی اس حد تک مجبور نہیں کیا کہ وہ کوئی حکمت عملی ہی تبدیل کر لیں۔  ایک ہی کام جو عمران کرتے آئے ہیں وہ نواز شریف پر تنقید ہے۔ لیکن اس کے باوجود جو کامیابیاں نواز شریف سمیٹ رہے ہیں، اگر آپ پی ٹی آئی کے کارکن ہوتے تو آپ دیکھ لیتے کہ نواز کو عمران کے جلسہ کے جواب میں جلسہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ الیکشن اصلاحات پر اگر کام کرتے تو یہ ایک اچھی چیز ہوتی اور یہ عمران خان کے کھاتے میں جاتی کیونکہ انہوں نے پچھلے الیکشن کے نتیجہ کو ماننے سے انکار کیا تھا۔ لیکن جب یہ واضح ہو گیا کہ ن لیگ کو باہر نہیں کیا جا سکتا تو عمران خان نے الیکشن اصلاحات پر بھی زور دینا بند کر دیا۔ پھر اس نواز شریف کو پارٹی صدارت کا مسئلہ زیر بحث آنے لگا اور پھر فیض آباد کا معاملہ۔  الغرض آپ عمران کو ووٹ دیں یا نہ دیں، اس سے پیار کریں یا نفرت کریں، اپنے آپ کو جذبات کے اظہار کا بھی وقت دیں۔ کیونکہ عمران نے جتنا بھی شور ڈالا ہے، جتنے بھی ووٹ جیتے ہیں، جتنے بھی مسائل کھڑے کیے ہیں، ان سب کا حاصل یہ ہے کہ
انہیں کچھ نہیں حاصل ہوا۔ وہ نہیں جانتے کہ جیتا کیسے جاتا ہے نہ ہی انہوں نے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے اور اس سے ہر شخص کو پریشانی ہے جو کہ جائز ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *