ساقی۔ زندگی سے بھی اہم

مہر افشاں فاروقی

مجھے ساقی فاروقی نام میں شاعرانہ اور موسیقانہ معیار پسند ہے۔ کون اپنے لیے اتنا عجیب نام چنتا ہے؟ غصیلہ اور تنگ مزاج شاعر جو 1980 سے1990 میں گرجا اور اس کا چرچا ہوا اور پھر بھسم ہو گیا۔  قاضی محمد شمشاد نبی فاروقی 1936 میں ہمالیہ پہاڑوں کی وادی گورخ پور میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں ان کے والدین مشرقی پاکستان کی طرف اور پھر کراچی میں ہجرت کر گئے۔ وہاں نبی نے اپنی بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک باغی روح کے مالک تھے۔ انہوں نے اپنے طیش و غصے کا اظہار اردو اور معاشرتی ماحول کے مطابق شاعری کے ذریعے کیا۔ وہ لندن گئے جہاں انہوں نے کمپیوٹر سیکھا۔ کچھ عرصہ ہسپتال میں علیل رہے پھر گھر میں بھی ان کی بیمار بیوی ان کی بیماری اور علاج کی سختیوں کو ٹھیک سے نہیں دیکھ پائیں وقت بہت قریب تھا لیکن کس کو پتہ تھا کہ کون سا لمحہ ان کا آخری لمحہ ہو گا۔ جب 19 جنوری کو ان کے انتقال کا پتہ چلا تو میں بہت غمگین ہوئی اور بے حد بے چین رہی۔ وہ میرے والد کے دوست اور حریف تھے ۔ میں دعوی نہیں کرتی کہ میں ان کو جانتی اور تعریف کرتی ہوں لیکن تقریبا دو بار میں نے جو ان کے ساتھ وقت گزارا اس کا مجھ پر گھرا اثر ہوا۔ ان کی وفات نے مھجے ان کی پر جوش ، نرم دل شخصیت کی یاد دلا دی۔ ان کی خاصیت تھی کہ وہ دنیا کی تمام مخلوقات انسانوں،
جانوروں،پودوں، پرندوں، کیڑوں غرض ہر جاندار کے ساتھ برابری کا تعلق قائم کر لیا کرتے تھے۔ ان کی اسی بات نے مجھے ان کی تمام یادویں لکھنے پر اکبھارا۔ 1994 میں ان کا الہ آباد کا دورہ میری یادوں میں آج بھی بسا ہوا ہے۔ ۔ ہماری والدہ نے ہمیں ان کی اونچی آواز، تنک مزاج اور اعلی جذبے سے خبردار کر دیا تھا۔ وہ پریشان تھیں کہ ہمارے والد اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بہتر ہو رہے ہیں اور نبی انہیں پریشان نہ کر دیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کے لندن سے آنے کی ایک تجسس بھری خوشی بھی تھی۔ مجھے ان کے منتظر خوشآمدید کہنے والے لوگوں میں شامل ہونا چاہیے تھا کیوں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے ان کا بڑی سی کار میں سے نمودار ہونا جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ انہوں نے سفید نفیس شرٹ پہنی تھی اور ٹرؤزر پر شرابی سرخ رنگ کی بریسز لگی ہوئی تھیں۔  سب سے پرتپاک طریقے سے ملنے کے بعد سیدھا ہمارے والد کے کمرے کی طرف لپکے۔ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد انہوں نے جو نوٹ لکھا تھا اور ماڈرن اردو ادب پر ان کی برابر پر جوش اور اونچی آواز میں گھنٹوں بحث کی آوازیں سننے کو ملیں۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے پر جوش طریقے سے ہمیں اپنے آپرین کا نشان دکھایا۔ اور میرے والد کا واضع گہرہ نشان ایسے لگتا تھا جیسے بہت بڑا بچھو ان کے سینے میں دھنس رہا ہو۔ شام کوساقی کی خاطر ایک مشاعرہ ہوا۔ انہوں نے خرگوش، زخمی بلی، مینڈکوں، کتوں، ہنسوں، خنزیروں، اور مکڑیوں پر لکھی کہانی نما نظمیں پڑھیں۔ وہ اپنے انداز میں واہ واہ کرتے وجد میں آئے حاضرین کے سامنے دو گھنٹے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ساقی کی نظمیں واضع طور پر شب خون کی خاصیت رکھتی تھیں کیوں کہ مجھ جیسی
نوآموز جانتی تھی کہ وہ ایک لا جواب شاعر ہیں جو اصل موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ان کو پڑھتا سننے سے بہت گہرہ اثر پڑتا تھا کیوں کہ ان کا انداز بیان اور لفظوں کا چناؤ بہت اعلی تھا جو کہانی کو زندہ کر دیتا تھا۔ جب 1995ـــــ96 میں میں پینسیلوانیا یونیورسٹی میں پڑھاتی تھی ، ساقی کو اکثر یہ دیکھنے بلایا جاتا کہ میں کیسا پڑھا رہی ہوں۔ میری ہندوستان واپسی کے دوران میں لندن میں رکی۔ ساقی نے مجھے اپنی فیملی کے ساتھ دن گزارنے پر بہت زور دے کر راضی کیا۔ اس دن انہوں نے مجھے کچھ جگہیں دکھائیں؛ وہ درخت جہاں جون کیٹ نے بلبل کو گاتے سنا تھا اور یوں انہوں نے 'اوڈ ٹو آ نائیٹانگیل 'لکھی۔ اور
وہ مے خانہ جہاں ولیم ورڈزورتھ ایک کونے میں بیٹھتے تھے اس سیٹ پر سجاوٹی تختی بھی لگی ہوئی ہے۔ اور وہ قبرستان جہاں کیرل مارکس دفن ہیں۔ ساقی کا گھر بے ترتیب مگر پر سکون تھا۔ ہلکے نیلے ڈرائینگ روم میں تصاویر کا ہجوم تھا۔ کھانے کی میز لمبے ہرے بھرے باغ میں تھی مجھے یاد نہیں کہ میں نے دوپہر کا کھانا کھایا تھا کہ شام کی چائے لی تھی لیکن ساقی کھانا خود بناتے تھے۔ ان کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں تھے۔ وہ کھوئے ہوئے تھے میں بتا نہیں سکتی کہ اس کی وجہ ان کے گھروالوں کی مسلسل تنقید تھی یا وہ تھکے ہوئے تھے ۔ قاضی محمد شمشاد نبی فاروقی ساقی تو بن گئے جس کا بوجھ انہوں نے خود ہی اٹھائے رکھا ۔ وہ ایک ہندستانی مسلمان لڑکے تھے جو ایک نئی جگہ چلے گئے کیوں کہ پاکستان میں ہندو مسلم ثقافت بے چین تھی اور آزادی سے کچھ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کی آزاد انہ آواز کی تلاش انہیں لندن لے گئی۔ انہوں نے مغربی طور اطوار اپنا لیے* * لیکن اپنی اردو کی ثقافت اور تخلیقی مہارت کو پس پشت نہیں ڈالا۔ ان کی پہچان ان کے نام سے ہے جو آج بھی ان کا تعاقب کرتا ہے۔ دو بہت ہی معیاری نظمیں 'خالی بورے میں زخمی بلی' اور' شیر امداد علی کا مینڈک' ۔ دونوں نطموں میں آدمی اپنے گزرے وقت کی یادوں میں غرق اپنی غلطیوں کے نتائیج بھگتتے دکھائے گئے ہیں۔ شیر امداد علی کا مینڈک ایک مجازی نظم ہے جس میں آدمی ایک خوبصورت کنول کے پھول کے لیے تالاب میں جاتا ہے۔ اس دوران وہ مٹی اور کیچڑ میں گر جاتا ہے اور ایک ٹیڈپول نگل لیتا ہے۔ اس کے اندر مینڈک بڑا ہو جاتا ہے اور باہر آنے کے لئے ہنگاما کرتا ہے۔ کیچڑر پانی میں اس کے ارد گرد پیلے رنگ کے مینڈک نظر آتے ہیں لیکن کافی کوششوں کے با وجود وہ اپنے اندر پلنے والا مینڈک نہیں نکال پاتا۔  ''دن گزرے، موسم بدلے، عمریں ختم ہوئیں ، ایک آواز اس کا پیچھا کرتی رہی 'مجھے باہر نکالو! ، مجھے باہر نکالو! ' اور یہ ہی آواز اس کے ؒخون سے بھی آئی کہ مجھے باہر نکالو مجھے اس قید سے باہر نکالو!''۔ ان کے شاندار وقت مین انہوں نے صرف آدھا درجن نظمیں لکھی ہوں گی۔ لیکن ان کے کام کا اصل وقت 80ء سے 90ء کے درمیان ہے ۔ ان کی اس دورانیا کی منتخب نظموں کو خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ جیسے؛ رات کے مسافر جسے انور سجاد نے ایڈٹ کیا جو سات شاعروں میں سے مختصر تعارف کے ساتھ چنی گئی۔ ساقی کی نظموں میں جدت اور عکس اندازی پائی جاتی ہے:" معزز خواتین و حضرات !میں اکیلا ہوں اور میری تنہائی آپ سے مخاطب ہے۔ یعنی میری کوتاہیاں دوہری ہیں: میں کیسے خود تک اور آپ تک آواز پہنچاؤں درد سے ہمکنار ہونا اور الفاظ کی ڈور سب مصنفوں کی تقدیر ہے۔ لیکن جو تشبیہات میں اپنی نظموں میں استعمال کر کے بتانا چاہتا ہوں وہ ضرور کسی نہ کسی میں اور کبھی نہ کبھی شعلہ بھڑکایں گی۔ یہ خوشگوار احساس مجھے خاموشی سے مر جانے سے بچاتا ہے، یا پھر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے الفاط پر اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ "ساقی آپ جہاں بھی ہیں، ہم سن رہے ہیں آپ جو بھی کہنے کو ہے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *