ن لیگ کیوں نہیں ختم ہورہی؟

صح افی کئی بار ہائی نون کا لفظ کسی بڑے حادثے یا ایسی چیز کی طرف اشارہ کے لیے استعمال کرتے ہیں جو آنے والے وقتوں کے بارے میں بتا رہا ہو۔ ہفتہ کے روز جب نواز شریف نے لودھران میں اپنی سیٹ سنبھالی تو وہ اپنی مسکراہٹ روک نہیں پا رہے تھے۔ صرف چھ ماہ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف
کا سیاسی کیریر ختم ہو چکا ہے۔ لیکن لودھراں کے انتخابات کے نتائج تو کوئی اور ہی تصویر پیش کر رہے تھے۔ یہاں کے عوام نے سخت ترین حریف کو شکست دے کر نواز شریف کی پارٹی کو سرخرو کیا تھا۔  اچانک معلوم ہوا کہ ہارنے والا وہ شخص ہے جو 2018الیکشن جیتنے کے لیے پر امید ہے۔ کیا یہ ن لیگ کے لی ہائی نون تھا؟ لودھراں کے الیکشن میں ن لیگ کی فتح سے معلوم ہو رہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ قوت پکڑ رہی ہے اور پی ٹی آئی کمزور سے
کمزور تر ہو رہی ہے۔ الیکشن کو جب اتنا کم عرصہ رہ گیا تو بھی وقت عمران کے ساتھ نہیں ہے۔ سیاست کی دھند نے ان لوگوں کو ایک بار پھر چقمہ دے دیا جو اسے اپنی فتح مقابلے سے قبل ہی قرار دے چکے تھے۔ لیکن اسی دھند میں بہت سی چیزیں واضح طور پر سامنے بھی آ گئی ہیں۔ لودھراں الیکشن کے اثرات صرف اس حلقے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس اپ سیٹ شکست کے بعد یہ بحث چل رہی ہے کہ وہ کیا چیز تھی جس نےفتح ن لیگ کی جھولی میں ڈال دی۔ کیا یہ نواز کا بیانیہ تھا، شہباز کے ترقیاتی کام تھے یا بہترین لوکل مینیجمنٹ تھی؟ ہر پوزیشن کے حق میں ہزاروں دلائل دیے جا سکتے ہیں لیکن اہمیت کسی کی بھی نہیں ہے۔  سچ یہ ہے کہ شریف برادران نے ایک فتح سمیٹ لی ہے۔ لودھراں ایک علامت کے طور پر ایک حلقے کے مقابلے میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی جیت جاتی تو یہ ایک نارمل سی بات ہوتی کیونکہ یہ سمجھا جارہا تھا کہ یہ حلقہ جہانگیر ترین کا ہے۔ن لیگ کے جو امیدوار تھے وہ بھی علی ترین کے مقابلے میں بہت کمزور تھے اور اتنے ووٹ لینے کی انہیں خود بھی امید نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے کچھ دن جشن منانے کے بعد وہ ایک بار پھر عوام کی یادداشت سے اوجھل ہو جائیں لیکن لودھراں کے اس الیکشن نے ملکی سیاست میں جو ہلچل پیدا کی ہے اس کا دیر پا اثر ہونے والا ہے۔  اس سیاسی لہر سے یہ ثابت ہو گا کہ الیکشن جیتنے کا گر ن لیگ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ لودھراں میں نواز اور مریم کا بیانیہ اپنا رنگ دکھانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شہباز کے خاموشی سے کیے گئے ترقیاتی کاموں کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لودھراں میں ن لیگ کی لوکل مینیجمنٹ اتنی مضبوط ہے کہ اس نے اتنے ووٹرز کو ن لیگ کےلیے ووٹ کرنے پر آمادہ کیا۔  اگر یہ لوجک لودھراں میں چل سکتی ہے تو پنجاب کے دوسرے حلقوں میں کیوں نہیں؟ شریف کی کپکپاہٹ کے بہت سے پہلو ہیں۔ نواز مریم کا عدلیہ مخالف بیانیہ، شہباز شریف کا ڈیلیور کرنے کا امیج، الیکٹیبلز کی پارٹی میں موجودگی اور شاندار ووٹ بینک، بہترین پارٹی تنظیم، اور بہترین الیکشن مینیجمنٹ۔ اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے یہ بہت ہی اہم ہتھیار ثابت ہوں گے۔ تو پھر اگلے 100 دن کے اندر شریف برادران کے لیے بہترین کیا چیز واقع ہو سکتی ہے؟ پہلی یہ کہ نواز اور مریم کو ٹرائل میں خلاصی مل جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو شریفوں کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ سب سے برا کیا ہو سکتا ہے یہ مزید اہم سوال ہے۔ نواز اور مریم کو عدالت سزائیں سنا کر جیل بھیج دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کو ہتھکڑیاں لگ جاتی ہیں، گاڑی میں بٹھایا جاتا ہے اور جیل میں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ اصل چیز
یہ ہو گی کہ انہیں امیرانہ طرز کے ہاسپٹل نما جیل میں نہیں بلکہ اصل جیل میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد عدالت کا نواز شریف کی پارٹٰی صدارت کے خلاف فیصلہ آجاتا ہے اور ساتھ ہی انہیں تا حیات نا اہل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ سب ہوتا ہے تو باپ بیٹی دونوں نہ صرف لاک اپ میں ہو ں گے بلکہ الیکٹورل پراسس سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے۔  توپھر کیا ہو گا؟  اس وقت دو بیانیے آپ میں ٹکرائیں گے اور بڑا دھماکہ ہو گا۔ نواز شریف کا بیانیہ یہ ہو گا کہ عدلیہ نے ان کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کیا۔ یہی بیانیہ نواز شریف اپنی نا اہلی کے بعد سے لے کر چل رہے ہیں۔ اس بیانیہ کے ذریعے وہ اپنی مہم تیز کرنے کی کوشش کریں گے جو مکمل طور پر مظلومیت کا رونا رونے پر مشتمل ہو گی۔ اگر نواز اور مریم کو ہتھکڑیاں لگا لی گئیں تو یہ شریف خاندان کے لیے ایک گفٹ ہو گا جو وہ خوشی خوشی قبول کر لیں گے۔ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اس طرح کا واقعہ ان کے ووٹر کو مشتعل کر دے گا۔ کم از کم ان کی تو یہی امید ہو گی۔ عمران کا بیانیہ یہ ہو گاکہ ان کا بیان سچ تھا کہ نواز شریف چور ہے۔ اس بیانیہ کے ذریعے عدلیہ کے فیصلے کی توثیق کی جاتی رہے گی اور عمران کا مستقل بیانیہ مستحکم ہو جائے گا اور انہیں جیت کی امید ہو جائے گی۔ اس بیانیہ کے بعد عمران خان واحد کرپشن کے خلاف لڑنے والے سپاہی ہونے کا اعزاز سمیٹیں گے اور یہ امید رکھیں گے کہ نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دینا اور کرپشن سے جد و جہد ان کو حقدار بناتی ہے کہ وہ وزیر اعظم بنا دئیے جائیں۔ اگر مارچ کے وسط میں فیصلہ آیا تو دونوں پارٹیوں کے پاس بیانیے کی جنگ کے لیے چار ماہ کا وقت ہو گا۔ قانونی عمل ختم ہو چکا ہو گا اور سیاسی عمل شروع ہو جائے گا۔ جس کا بیانیہ زیادہ طاقتور ہوا وہی الیکشن بھی جیت جائے گا۔  لیکن کیا ایسا ہو گا؟  اب تک نواز اور مریم کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی ہے کہ انہوں نے اپوزیشن سے بیانیہ چھین لیا ہے۔ پچھلے سال جولائی تک عمران صرف اینٹٰی نواز ایجنڈا پر مہم چلا رہے تھے۔ وہ وہی تھے جو نواز نہیں تھے۔ پھر نا اہلی کا فیصلہ آیا اور نواز کو نکال باہر کیا گیا۔ عمران خان کے پاس کوئی بیانیہ باقی نہ رہا جب کہ نواز شریف نے نیا بیانہ مجھے کیوں نکالااپنا لیا۔ لیکن عمران نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اب بھی نواز کو ہی اپنی مہم کا محور بنائے رکھا بجائے اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے۔  عمران کے پاس پانسہ پلٹنے کے لیے چار ماہ کا وقت موجود ہے۔ اگر جون تک معاملہ یہی رہا کہ نواز کتنے اچھے یا کتنے برے ہیں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ الیکشن نواز شریف سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ جس زاویہ سے بھی اس کو دیکھیں یہ عمران کے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔ ہائی نون آپ کو روشنی میں نہلا سکتی ہے اور گرمی میں پگھلا سکتی ہے۔

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *