فلاح سے جڑے بیانئے کی قوت

گھر کی مرغی کو ہم واقعتاً دال کے برابر سمجھتے ہیں اور اس حقیقت کا احساس مجھے ثمینہ یاسمین کی نئی کتاب کو دیکھ کر بہت شدت سے ہوا ہے۔ لندن کے کتابوں کے حوالے سے کافی معتبر اور مشہور شمار ہوتے اشاعتی ادارے،Hurst Companyکی جانب سے شائع ہوئی اس کتاب کا عنوان ہے"Jihad and Dawah"۔ جیسا کہ عنوان ہی سے عیاں ہے اس کتاب کا مقصد لشکر طیبہ اور جماعت دعوةٰ کے مستقل ارتقاءپذیر بیانیے کو خالصتاًََ عملی انداز میں سمجھنا ہے۔ 315 صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمرانیات اور سیاسیات کے علوم سے جڑی مختلف تھیوریوں کو زیر بحث لاتے ہوئے کسی تحریک کے ”بیانیے“ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوةٰ کے ”بیانیے“ کو سمجھنے کے لئے ثمینہ یاسمین نے ان تمام کتابوں، جرائد، تقاریر کے مجموعوں حتیٰ کہ ان دونوں جماعتوں کی جانب سے شائع ہوئے پراپیگنڈہ اور پبلسٹی مٹیریل کا بھی بغور مطالعہ کیا۔ نظر بظاہر کئی برسوں تک پھیلی یہ تحقیق کافی محنت طلب رہی ہوگی۔
اس کتاب کا اصل ہدف شاید وہ بین الاقوامی محقق اور پالیسی ساز ہیں جو لشکر طیبہ اور جماعت الدعوةٰ کو علمی حوالوں یا اپنی حکومت کی پالیسی بنانے کے لئے سمجھنا چاہ رہے ہیں۔ مجھ ایسا عام اور علمی حوالوں سے تقریباًََ جاہل رپورٹر بھی اسے پڑھتے ہوئے لیکن کئی چشم کشا جہتوں سے روشناس ہو پایا۔ کاش اس کتاب کا اُردو ترجمہ بھی ہوجائے اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے اخبارات کے روایتی قاری بھی ان جہتوں سے آشنا ہوسکیں۔ علمی اعتبار سے میں ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کتاب میں تحقیق کے لئے اپنائے Method اور اس کے ذریعے ہوئی تحقیق کی بدولت اخذ کئے نتائج پر مناسب انداز میں تبصرہ آرائی کر سکوں بات ویسے بھی گھرکی مرغی کو دل برابر سمجھنے سے شروع ہوئی تھی۔ اسی تک محدود رہتے ہوئے ہی اپنی کم علمی کو چھپا سکتا ہوں۔ ثمینہ یاسمین میرے لئے ہمیشہ ”مینا “رہی ہے بیگم سرفراز اقبال کی بیٹی۔ بیگم صاحبہ سے واجبی سا تعلق 1975کے بعد استوار ہوا تھا۔ اس برس اسلام آباد آیا تو فیض احمد فیض سے ملاقات کے لئے راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ سے آگے واقع ایک گھر جانا ہوتا تھا۔ غالباًََ 1980کے وسط میں بیگم صاحبہ اسلام آباد کی میلوڈی مارکیٹ کو شاہراہ دستور سے ملانے والے بازار روڈ پر کورڈ مارکیٹ کے عین سامنے تعمیر کئے ایک مکان میں منتقل ہوگئیں۔ ان کے ہاں نامور شاعروں اور ادیبوں کا جمگٹھا لگا رہتا تھا۔ قدرت اللہ شہاب، ابن انشاءاور جمیل الدین عالی جیسے بڑے ناموں سے میرا تعارف اسی گھر میں ہوا تھا۔ مجھے ہمیشہ بہت حیرت رہی کہ فیض احمد فیض اور احمد فراز جیسے ”انقلابیوں“ کے بہت قریب تصور ہوتی بیگم سرفراز اقبال بیک وقت قدرت اللہ شہاب جیسے ”دین پرست“ صوفیوں کی دوست بھی کیسے ہوسکتی ہیں۔ بیگم صاحبہ کو محنتی اور اپنے شعبے میں جونیئر سمجھے رپورٹروں میں چھپے ہنر اور لگن کو دریافت کرنے والی آنکھ نصیب ہوئی تھی۔ وہ ان کی تحریریں پڑھنے کے بعد ان سے بذاتِ خود رابطہ کرتیں اور اس بات پر مجبور کرتیںکہ وہ ان کے گھر کو اپنا ہی گھر سمجھیں۔ روزمرہّ زندگی کے حوالے سے کوئی مشکل پیش آئے تو اس کے حل کے لئے ان سے رجوع کریں۔ میں نجانے کیوں ان کا چند ہی دنوں میں کافی لاڈلا بن گیا۔ منہ اٹھائے بغیر پیشگی اطلاع کے ان کے ہاں چلاجاتا۔ لاہوری پنجابی میں ان کے ساتھ انتہائی ڈھٹائی سے قدرت اللہ شہاب جیسے افراد کی ذات اور نظریات کے بارے میں یاوہ گوئی میں مصروف رہتا۔ وہ محض مسکراتی رہتیں اور کھانے کے وقت اپنے ہاتھ سے توے سے گرم چپاتی اتار کرکھلاتیں۔ ثمینہ یاسمین ان دنوں طلب علم تھیں۔ دھان پان سے خود میں مگن کافی منکسراور خاموش سی مینا۔اعلیٰ تعلیم کے لئے آسٹریلیا چلی گئیں اور پھر خبر آئی کہ اس ملک کے شہر پرتھ کی ایک معتبر گردانی ”یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا“ میں پڑھانا شروع ہوگئی ہیں میرے لئے مگر مینا کی یہ حقیقت ”جنگل میں مورناچا....“ جیسی ہی رہی۔جنرل مشرف جب 2001 میں آگرہ سمٹ کے لئے بھارت روانہ ہوئے تو موصوف کی وہاں آمد سے کئی ہفتے قبل ہی میں وہاں پہنچ چکا تھا۔ قیام دہلی کے ان ہی دنوں میں یہ خبر ملی کہ ایک سیمینار ہو رہا ہے جہاں پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل کرامت بھی پہلی بار کسی پبلک تقریب میں نمودار ہوں گے۔ رپورٹر والے تجسس کے ساتھ میں وہاں نازل ہوگیا۔ وقفہ ہوا تو دریافت کیا کہ ثمینہ یاسمین بھی وہاں موجود ہے۔ سیمینار میں موجود کئی بھاری بھرکم محقق اور علمی جرائد کے لئے لکھنے والے پروفیسر حضرات اسے ڈاکٹر صاحبہ کہہ کر پکاررہے تھے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں اس کی شہرت سے بہت متاثر ہوا۔ فخر بھی ہوا کہ ”اپنی بچی“ نے ایسا مقام حاصل کرلیا ہے۔ یہ دریافت کرلینے کے بعد بھی مگر اس کے ساتھ ”مینا“ والا تعلق ہی برقرار رکھا۔ ایک سیمینار کے لئے اس کی دعوت پر تین دنوں کے لئے پرتھ گیا تو بھی وہ میرے لئے ”مینا“ ہی رہی۔ ”جہاد اور دعوةٰ“والی کتاب مجھے منگل کی سہ پہر ملی۔ اپنا Live پروگرام کرکے رات کو گھر لوٹا تو سونے سے قبل اسے سرسری انداز میںدیکھنا چاہا۔ ابتدائیے کے درمیان ہی مگر اس میں ڈوب گیا۔ تقریباًََ آدھی کتاب ختم کرنے کے بعد اسے زبردستی بند کرکے سرہانے محض اس وجہ سے رکھا کہ صبح جلدی اُٹھنا اور یہ کالم لکھنا تھا۔ انگریزی زبان میں عالمی ریڈرشپ کے لئے لشکر طیبہ اور جماعت الدعوةٰ پر کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ امریکہ اور بھارت نے ان دونوں جماعتوں کو ”دہشت گرد“ بناکردنیا بھر میں متعارف کروا رکھا ہے۔ ثمینہ یاسمین نے توجہ مگر ”دہشت گردی“ والی شہرت پر نہیں دی ہے۔ اس کی تحقیق کا اصل مقصد دنیا کو یہ سمجھانا ہے کہ پاکستان ایسے معاشروں میں لشکر طیبہ یا جماعت الدعوةٰ جیسی تنظیمیں اچانک یا محض مبینہ ریاستی سرپرستی کی بدولت ہی نمودار نہیں ہوتیں۔ مسلم معاشروں میں مختلف وجوہات کی بناءپر بے چین و پریشان ہوئے افراد کو دل کی تسلی اور چند خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک ”بیانیہ“ درکار ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ اگر دینِ اسلام کی مبادیات اور تاریخ کے حوالوں کی مدد سے تشکیل دیا جائے تو بہت طاقت ور بن جاتا ہے۔ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوةٰ نے بنیادی طورپر ”بیانیے“ کی اس قوت ہی کو استعمال کیا ہے۔ اہم پیغام اس کتاب کا یہ بھی ہے کہ ریاست کی جانب سے عائد کی ہوئی پابندیاں لشکرطیبہ یا جماعت الدعوةٰ کو معدومیت کی طرف نہیں لے جاسکتیں۔ جماعت الدعوةٰ کی سوچ ہرگز جامد نہیں ہے۔ اس کا ”بیانیہ“ بہت لچکدار اور مسلسل ارتقاءپذیر ہے۔ ”جہاد“ کے بجائے ”فلاح“ بتدریج اس کا ترجیحی پیغام بن گیا ہے اور ”فلاح“ سے جڑے پیغام کو ریاستی قوت کے ذریعے دبانا تقریباًََ ناممکن ہے۔ جماعت الدعوةٰ کے ”جہاد“ سے ”فلاح“ کی طرف ہوئے سفرکو ثمینہ یاسمین نے بہت مہارت کے ساتھ کلام پاک کی سورة یوسف کو اس تفسیر کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے حافظ سعید نے ”صبر“ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تفسیر سے قبل Dominant Discourse کلام پاک ہی کی سورة توبہ کی روشنی میں بُنا جا رہا تھا۔ سورة توبہ اور کلام پاک میں بیان ہوئی حضرت یوسفؑ کی داستان سے لشکر طیبہ نے جماعت الدعوةٰ کی سمت بڑھتے ہوئے اپنی ترجیحات کے تعین کے لئے جو نتائج اخذ کئے انہیں ثمینہ یاسمین نے ٹھوس حوالوں پر انتہائی تخلیقی ذہن کے ساتھ غور کرتے ہوئے دریافت کیا ہے۔ سچی بات ہے یہ کتاب پڑھتے ہوئے میں ثمینہ یاسمین کے رُعب تلے دب گیا ہوں۔ اب شاید اسے ”مینا“ کی آواز لگاکر پکارتے ہوئے اپنے پاس بلانا بہت مشکل ہوجائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *