سیکس اور عقلمندی

کرس کارک

ایک ہفتہ ہوا ایک اور بچے کے جنسی تشدد اور قتل ، عزت کے نام پر قتل اور فلم ریویو میں ماہواری کے لیے بنے پیڈز کے بارے میں سب ایک ہی صفحے پر لکھا تھا۔ ہر ایک میں جنس کے بارے میں مختلف طریقوں سے لکھا گیا تھا۔ یہ الفاظ اس دن لکھے گئے جب ایک نا قابل ذکرحد تک نیک بزرگ کی یاد کا دن تھا اور لیکن ہاں، **St V** کو اس کے بارے میں بھنک تھی کیا اسے نہیں پتہ تھا؟ اسی وجہ سے اس بات کو چھپایا گیا تاکہ ایک دم یہ مدعی فیس بک ، ٹویٹر اور وٹس آیپ سمیت دوسرے میڈیا نیٹ ورکس پر اچھالا جا سکے ۔ تو۔۔۔۔۔۔۔۔ جنس۔ مجھے اس ملک میں ہونے والی جنسی تشدد کی کہانیوں سے بلکل لطف
اندوز ہونے کی خواہش نہیں۔ ایک آدمی نے تسلیم کیا کے اس نے چھ سے ذائد 10 سال سے بھی چھوٹی لڑکیوں کا ریپ کیا اور وہ جنسی تشدد اور قتل کے لیے سزا کاٹ رہا ہے جس نے سختی سے بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے بارے میں لوگوں میں بیداری کی چنگاری جلائی۔ کوئی اور مسئلہ اس سے ذیادہ سنجیدہ نہیں ہو سکتا ۔ لیکن ہمیں اس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ ہم میں سے اس کے بنا کوئی بھی پیدا نہ ہوتا۔دو لوگوں کو بچی پیدا کرنے کے لیے ہم بستر ہونا پڑتا ہے۔ اور وہ آپ کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ لیبارٹری ٹیسٹ ٹیوب کے علاوہ بچی حاصل کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس بارے میں بات کرنا کتنا مشکل ہے۔ اس کا ردعمل ڈر خوف، اور حتی کہ کبھی کبھی تشدد کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔ آج میڈیا کےسب پلیٹ فارم، پرنٹ یاالیکٹرانک میڈیا، پر صرف سیکس کی بات کر رہے ہیں۔ سب اہم کہانیوں میں سیکس کی بات ہے اور یہ مسئلہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ بچوں کو بہت زیادہ دھتکارا، قتل اور حراساں کیا جا رہا ہے۔ سارے ملک کےمدرسے نہیں بلکہ اسکول، روز ان بچوں پر اساتزہ کے ہاتھوں جنسی تشدد کی جائے وقوعہ بن رہے ہیں۔ قاتل اور حراساں کرنے والے نا قابل بیان حرکتیں کر کے بھی ہمارے سامنے گھومتے پھرتے ہیں ۔ تنقید نگار ان کی حرکات کی مزمت کرتے ہیں اور سوائے چند نڈر صحافیوں کے جن کی تحریریں انگریزی اخبارات کے بیچ کے صفحو**ں پر چھپتی ہیں**اور کوئی بھی ان کے بارے میں بات نہیں کرتا۔خاص طور پر ان جنسی نقصانات کے حل کی بات ـــــ اور ہا ں، یہ بحران ہی ہے ـــــ جس نے باتونی عوام کو گم سم پتھر بنا دیا ہے۔ یا شاید سب گم سم نہیں ہیں جیسا کے بیان کرنے والے ہمیشہ ان کی زبان بولتے ہیں ان کی اپنی زبان اور الفاظ نہیں ہوتے۔ ہم ان لوگوں سے ڈرتے ہیں جو جنسی تشدد پر گفتگو کرنے والوں کو خرید لیتے ہیں اور باقی سب کی آواز دبا دیتے ہیں۔ اور یہ اہم مسئلہ اہم ہوتے ہوئے بھی عوام میں ناقابل گفتگو رہتا ہے۔  سب سے خطرناک سیکس کے بارے میں بولنا ہے۔ اور پاکستان میں اگر کوئی چیز ہے جو ہر حال میں دبائی جاتی ہے، خاص طور پر غریب اور محروم لوگوں میں تو وہ ہے تنقیدی سوچ۔ اور یہ پابندی بڑے تعلیمی اداروں میں بھی ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ اس سے ثقافت کے بنیادئ اصولوں اور معاشرتی ڈھانچے پر چیلنج کرنے اور سوال اٹھانے کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اور آپ نوٹ کریں کہ سیکس کی بات کرتے کرتے ہم اچانک جنسی تعلقات کی بحث کرنے لگتے ہیں اور اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے مین آپ
بات نہیں کرنا چاہیں گے وہ ہے جنسی تعلقات کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اس رستے میں تذلیل، گندگی اور ہراساں کیے جانے کے واقعات اور تہذیب کا اختتام ہے اور رشتوں سے دور دراز کا تعلق افق کے اس پار چلا جاتا ہے۔  تو اس تہذیب و تمدن کے اختتام کی کوئی بہت ضرورت نہیں ہے۔ چلو ان لکیر کے فقیروں کو جگایئں، جہالت کی دیواروں کو مٹائیں اور ان بنیادوں کو چیلنج کریں جو قدیم تصورات کا محور ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔  سیکس کی بات کرنا جنگ کا چھوٹا حصہ ہےجو اب نسلوں اور جنسوں میں ایک شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہ بہت طویل، خونی اور بہت تکلیف دہ ہو گا۔ بیچاری زینب مر کر مشہور ہو گئی۔ تو چلو ان جیسے مشہور افراد کو کچھ کر دکھانے کی ہمت بنا لیں ۔ تہذیب آتی اور جاتی ہے کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کی جگہ لینے لائن میں کھڑا ہے۔ سیکس کی بات کریں اس بارے میں بولیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ اس کی معلومات دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں بات کرنا سمجھ میں آتا ہے۔

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *