سویڈن کے فنڈ سے پاکستان کے مسائل کے حل کی تلاش

بلال میمن

ٹنڈرا فونڈر جو سویڈن کے ایسٹ مینیجر ہیں اپنی کاوش سے کچھ انوسیٹرز کو پاکستان بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ پاکستان کے امیج کو بہتر کیا جا سکے۔ ٹنڈرا فونڈر خود اس ملک میں سٹاک مارکیٹ کے زریعے 100ملین ڈالر سے زیادہ کی انویسٹ منٹ کر چکے ہیں۔ اس نئے اقدام کا مقصد اپنے ملک کی مارکیٹ کو پاکستان کے حالات سے روشناس کرنا ہے  کیونکہ یہ تمام مارکیٹر ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کی سکیورٹی، انرجی اور معاشی کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ جان شیبر جو ٹنڈرا فونڈر میں ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اور 400ملین ڈالر کے اثاثوں کے نگران ہیں کے کہنا ہے کہ پاکستان کے اچھے حالات کے بارے میں دنیا کو بتایا جانا چاہیے۔ پاکستان میں تبدیلی لانے کےلیے یہ ایک مثبت اقدام ہے  کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال اتنی بری نہیں جتنی مغربی میڈیا بتا رہا ہے اور پاکستان میں بہت اچھی اچھی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں۔ معاشی انڈسٹری سے 15 سال سے جڑے شکیبر نے یہ باتیں ایکسپریس ٹریبیون کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔ یہ وفد کچھ سویڈش انویسٹرز اور بزنس کمیونٹی ممبرز پر مشتمل ہے جو لاہور، کراچی اور اسلام آباد کا دورہ کرے گا اور دیکھے گا کہ کمپنیاں کیسے کاروبار کر رہی ہیں اور ریگولیٹر کیسے کام کرتے ہیں۔  ہم ایسے مزید کئی اقدامات کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان میں مارکیٹنگ کو بڑھانے کے خواہاں ہیں بشرطیکہ اگلے 6 ماہ میں حالات خراب نہ ہوں۔ شکیبر کا اشارہ اگلے عام انتخابات کی طرف تھا جس میں پہلی بار دوسری جمہوری حکومت بدلنے والی ہے۔ پاکستان کی اکانومی 5.3 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے، انرجی اور سکیورٹی میں بھی بہتری آئی ہے اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور بھی بن رہا ہے۔ لیکن آگے ایک عجیب صورتحال بھی ہے۔ اگلے الیکشن کے قریب ہونے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام
کا خدشہ ہے۔ یہ انویسٹر کےلیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔  شکیبر نے یہ بیان ا س وقت دیا جب خواجہ آصف کے مطابق پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ہاتھوں گرے لسٹ میں آنے سے بال بال بچا ہے۔ اگرچہ ابھی تک پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے پر اتفاق نہیں ہوا ہے لیکن ملک پر معاشی تلوار
ضرور لٹک رہی ہے۔ ٹریڈ خسارے میں وسعت آنے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت دباو میں ہے  اور ملک کے فارین ایکسچینج ریزرو میں بھی 12.8 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ ابھی ایک سال قبل 19 بلین ڈالر کے قریب تھے۔ پاکستان کا امپورٹ بل بھی اس سال جنوری میں 5.6 بلین ڈالر تھا جو تاریخ میں سب سے زیادہ رقم تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرنسی کی قیمت میں 5 فیصد کمی کی جس سے انڈیکس میں 15 فیصد اضاہ ہوا لیکن تجزیہ کاروں اور مینیجرز کا خیال ہے کہ روپے کی قیمت مزید گرے گی۔ شامون طارق جو ٹنڈرا فونڈر کے پورٹ فولیو مینیجر اور پارٹنر ہیں نے بتایا: پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 120 روپے تک چلا جائے گا۔ موجودہ حکومت کے دور میں یہ کمزور نہیں ہو گا لیکن اگلے چند ماہ میں روپے کی قدر میں کمی آنے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ انویسٹرز ایک سائیڈ پر بیٹھ کر روپے کی قیمت گرنے کا انتظار کرتے ہیں، اس کے باوجود 2018 میں پاکستان میں ایک بڑی سرمایہ کاری دیکھنے میں ملی ہے۔ غیر ملکی خریداروں نے21 فروری کے کارباری دن کے اختتام تک 53 ملین ڈالر کے شئیر خریدے ہیں جو پچھلے تین سال میں بیرونی سرمایہ کاری میں بہتری کی ایک واضح علامت ہے۔  خود ٹینڈرا فونڈر نے بھی پچھلے تین سال میں اپنی سرمایہ کاری کی رقم 160 ملین
ڈالر سے کم کر کے 100 ملین ڈالر تک محدود کر دی تھی۔ اگرچہ اس فیصلے کے پیچھے بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن طارق کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بہت اہمیت کی حامل مارکیٹ ہے۔  انہوں نے کہا: پاکستان میں انویسٹمنٹ سے قبل کچھ فیکٹرز پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور صرف جذبات کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا: یہ الیکشن کا سال ہے، حکومت کا فوکس سیٹیں جیتنے پر ہے۔ یہ الیکشن کے رزلت پر بھی منحصر ہے۔ اگر کسی پارٹی کو نمایاں نمائندگی نہیں ملی اور اتحادی حکومت بنی تو پالیسی  اورفیصلوں میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ میکرو اکنامک صورتحال بھی پریشان کن ہے اور پاکستان کو آئی ایم ایف کو بھی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا قرضہ 89 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو فنڈ مینیجرز کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔  شکیبر کا کہنا تھا: پاکستان کا سب سے بڑا رسک قرض کی ادائیگی ہے۔ ویتنام سے پاکستان کا موازنہ کیجیے۔ ویتنام میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں بہت ہموار ہو چکی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے بارے میں عالمی رائے منفی ہے اور پاکستان میں عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ جب اخباوں میں دنگہ فساد اور عدم استحکام کی خبریں آنا بند ہو جائیں گی تو معیشت سے جڑے لوگ اس ملک کا رخ کریں گے۔

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *