برفانی قبریں

ایف ایس اعجاز الدین

ایک سو سال قبل ممبئی میں ایک شادی کی تقریب ہوئی۔ یہ بہت سادہ تقریب تھی، یہ خفیہ اور ڈرامائی تقریب بھی ثابت ہوئی۔ 18 اپریل 1918 کو ایک پارسی کی لاڈلی بیٹی نے اپنا پیار پانے کے لیے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اگلے روز پھر والدین سے اجازت لیے بغیر ایک چھاتا اور اپنا پالتو کتا ساتھ لیے یہ لڑکی اپنے مسلمان ہم سفر جو ایک وکیل تھے اور جن کا گھر ماونٹ پلیزینٹ ہل پر واقع تھا وہاں پہنچی۔ ایک عام اور سادہ سی تقریب جس میں رشتہ دار کم اور غیر لوگ  زیادہ تھے میں رتی بائی مریم جناح بن گئیں۔  جناح اور رتی کی یہ شادی جس نے تمام رسمیں اور رواج توڑ کر اپنا راستہ بنایا تھا 11 سال تک چلی۔ جناح کی زندگی پر لکھنے والے لوگ جن میں بلیتھو اور جسونت سنگھ جیسے لکھاری شامل تھے، انہوں نے بھی اسے ایک اہم مسئلہ کے طور پر بیان کیا اور لکھا کہ ایک 14 سال کی بھولی بھالی لڑکی اپنے سے 24 سالہ بڑی عمر کے شخص کے عشق میں مبتلا ہوئی جو ایک مشہور وکیل تھے انسانی جذبات ان کے لیے کوئی معنی نہ رکھتے تھے۔  قائد اعظم کی 1948 میں موت کے بعد اگرچہ ہم ان کے مجسمے تو جگہ جگہ نصب کرتے ہیں لیکن اپنی قومی یاد گار کے طورے پر دیکھا جائے تو ہم انہیں ترک کر چکے ہیں۔ لوگوں نے ان کی شخصیات کو اپنی مرضی کے مطاب بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر برطانوی بائیو گرافر پوپ ہینیسی قائد اعظم سے ملے ہوتے تو وہ ان کے بارے میں ایسا ہی تجزیہ پیش کرتے جیسا انہوں نے ونڈسر کی ڈچیس کی آبزرویشن کے
بعد پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ ایسی شخصیت کی مالک تھیں کہ انہیں کسی بھی رول میں ڈھالا جا سکتا تھا۔  مس شیلا ریڈی نے اپنی کتاب ۔مسٹر اینڈ مسز جناح، ایک ایسی شادی جس نے بھارت کو ہلا دیا۔ کے ذریعے پاکستانی قارئین کو قائد اعظم کی شخصیات کے دونوں رخ سے واقفیت دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر میں اہم ثبوت اور حوالہ جات کے زریعے اپنے خیالات کو وزنی بنا دیا ہے۔  ان کی تحقیق ان خطوط کے گرد گھومتی ہے جو رتی نے اپنے دوست کو لکھے اور اپنی خفیہ ہمراز پدماجا کے ہاتھ بھیجے تھے جو کانگریس کے ایک فریڈم فائٹر اور شاعرہ سروجنی نائیدو کی بیٹی تھیں۔ نائیدو نے1916 میں انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیا تھا اور وہ جناح کے بہت بڑے پرستار تھے۔ یہ واضح ہے کہ رتی کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے ذاتی خطوط شائع ہوں۔ اگر وہ انہیں شائع کروانا چاہتی ہوتیں تو ان کی تحریر کا انداز بہت مختلف ہوتا۔ انہوں نے جو کہا وہی لکھا اور جیسا چاہا ویسی زندگی گزاری۔ ان کی موت 1929 میں ان کی 29ویں جنم دن پر ہوئی۔ انہوں نے اپنے آخری خطوط میں سے ایک میں لکھا: میرے محبوب مجھے یاد رکھنا اس پھول کی طرح جسے تم نے باغ میں سے لیا ہو نہ کہ اس پھول کی طرح جسے تم نے مسل دیا ہو۔  یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ ٹمپرامنٹ کے لحاظ سے قائد اعظم ایک خاموش طبیعت اور احساسات سے عاری انسان تھے۔ ورنہ کوئی شخص اپنی بیوی کا شادی کے بعد پہلا برتھ ڈے اور شادی کی سالگرہ کیسے بھول سکتا ہے۔ اور رتی کے گھر میں منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی بہن کو گھر خالی کرنے کا حکم کیسے دے دیا؟ لیکن رتی کے لیے ان کا پیار گہرا، اخلاص پر مبنی اور مستقل تھا۔ 1929 میں رتی کے جنازہ پر ان کی افسردگی اور 1947 میں ممبئی سے کراچی منتقل ہوتے وقت رتی کی قبر کا آخری دیدار ان کے پیار کو ثابت کرتا ہے۔ ایک سیاستدان کی حیثیت سے سیاسی شکستوں کے بعد جناح مضبوط سے مضبوط تر انسان بنتے گئے۔ لیکن شادی کی ناکامی کے بعد وہ
کبھی نہ سنبھل پائے۔  اب سو سال بعد ایک پاکستانی سیاسی لیڈر نے تیسری شادی کی ہے جسے عجیب، خفیہ اور ڈرامائی کہا جا سکتا ہے۔ کئی ہفتے کی غیر ضروری ہاں نہ کے بعد پی ٹی آئی کے لیڈر نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی روحانی پیشوا سے شادی کر لی ہے۔ یہ خاتون اوسط عمر کی ہیں جنہیں ان کے خاوند نے اس لیے طلاق دی کہ وہ عمران خان سے شادی کر سکیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس روحانی پیشوا نے عمران کو یقین دلا دیا تھا کہ ان کی عمران کی زندگی میں شمولیت سے عمران کے سیاسی کیرئیر میں بہتری آئے گی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مستقبل کے بائیو گرافر اس عجیب و غریب شادی کا تجزیہ کیسے کریں گے۔  عمران خان کے ناقدین اس فیصلے پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایک انفرادی شخصیت کے طور پر ان کا حق ہے کہ ان کے ذاتی معاملات کو سیاست سے پاک رکھا جائے۔ ایک سیاستدان کے طور پر البتہ ان کی ہر حرکت، ہر بیان، ہر وعدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر عمران خان کی شادی نے عوام کو مایوس کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام یہ توقع کر رہے تھے کہ عمران اس طرح کے اہم فیصلے میں زیادہ اعتماد اور صاف گوئی کا مظاہرہ کریں گے۔ پاکستان میں ہیروز کی کمی تو پہلے ہی ہے۔ جو تھوڑے بہت بچے ہیں وہ خود کو برف کے قبرستانوں میں کھڑے بت ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں:۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *