نکتہ جو کبھی سمجھ نہ سکے

شریفوں کی سیاسی ٹریننگ اور تھی۔ ضیاء الحق دور کے جرنیلوں نے اِنہیں اُنگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ تب کے گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کی انہیں آشیرباد حاصل ہوئی اور پہلی بار 1981ء میں نواز شریف پنجاب میں وزیر بنے۔
اُس وقت کے جرنیلوں پر بھٹو دشمنی کا بھوت سوار تھا اور اُن کو تلاش ایسے تابعداروں کی تھی جو اُن کی بھٹو دشمنی کے ایجنڈے میں کردار ادا کر سکیں۔ شریف خاندان بھی بھٹو کا زخم خوردہ تھا۔ اتفاق فاؤنڈری اِن کی ملکیت تھی اور اُسے بھٹو نے قومیا لیا تھا۔ نواز شریف کی ادائیں اُس وقت کے جرنیلوں کو اچھی لگی ہوں گی، اسی لئے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پنجاب کی وزارت عظمیٰ کا قرعۂ فال اِن کے نام نکلا۔ تب ایک موقع پر جنرل ضیاء الحق نے یہ تاریخی کلمات ادا کئے کہ میری عمر نواز شریف کو لگ جائے۔
اقتدار کے ایوانوں میں آئے تو اور کچھ سیکھا یا نہیں‘ یہ جان گئے کہ ہر انسان کی ایک قیمت ہے‘ اور قابل اعتماد آدمی وہی ہے جو اپنی قیمت وصول کرنے کیلئے آمادہ ہو جائے۔ پنجاب بیوروکریسی اور پولیس میں وہی کارندے اِنہیں پسند آتے جو اپنی قیمت وصول کر لیتے اور اُس کے عوض آنکھیں بند کرکے ہر جائز و ناجائز حکم بجا لاتے۔ ایک چیز البتہ شریف نہ سمجھ سکے اور وہ تھا فوج کا عمومی مزاج‘ کیونکہ اُن کا پالا ایک خاص قسم کے جرنیلی ٹولے سے پڑا تھا‘ جس نے اُن پہ نوازشات کی بارش کی تھی۔ وہ اِس بھول میں پڑ گئے کہ افسر شاہی کی طرح فو ج بھی مینیج کی جا سکتی ہے۔ شجاع نواز کی پاکستانی فوج پہ لکھی گئی کتاب Crossed Swords میں ایک واقعہ درج ہے کہ جب اُن کے بھائی جنرل آصف نواز بطور آرمی چیف وزیر اعظم نواز شریف سے مری میں ملنے گئے تو ملاقات کے اختتام پہ اُن کے ہاتھ میں ایک چابی تھما دی گئی۔ حیرانی سے پوچھا: یہ کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ جنرل صاحب آپ جس کار میں یہاں تشریف لائے ہیں‘ وہ آپ کے شایانِ شان نہیں۔ چابی ایک نئی بی ایم ڈبلیو کی تھی۔ جنرل صاحب ششدر رہ گئے اور چابی واپس کر دی۔
یہ ہرگز نہیں کہ وردی میں ملبوس ہر شخص پیکرِ پارسائی ہے۔ جیسا ہم جانتے ہیں وردی ملبوسوں نے بھی بڑے بڑے ہاتھ مارے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی فوج ایک الگ کردار رکھتی ہے اورکوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ فوج پنجاب پولیس ہے اور اُس کے سربراہ کو ایسے احکامات دئیے جا سکتے ہیں جیسا کہ آئی جی پولیس کو، تو اس سے بڑی غلطی کوئی نہیں ہو سکتی۔
1990ء میں جنرل اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق خان نے مل کر حالات پیپلز پارٹی کیلئے نا سازگار بنائے اور پی پی پی مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کو بھاری اکثریت سے انتخابات میں جتوایا۔ جنرل بیگ اور صدر غلام اسحاق چاہتے تھے کہ وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی بنے لیکن آئی جے آئی کی زیادہ جیت پنجاب سے ہوئی تھی‘ اور پنجاب کے لیڈر نواز شریف تھے‘ لہٰذا آرمی چیف اور صدر مملکت کی منشا پوری نہ ہو سکی اور نواز شریف وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کامیابی سے نواز شریف کا دماغ خراب ہو گیا‘ اور وہ غلام اسحاق کو‘ جو کئی لحاظ سے اُن کے محسن بھی تھے‘ کو آنکھیں دِکھانے لگ پڑے۔ وہ جنرل بیگ سے بھی چھٹکارا چاہتے تھے‘ اور اسی لئے جنرل بیگ کی مدتِ ملازمت سے چند ماہ پہلے ہی نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان کر دیا۔ قبل از وقت اعلان سے جنرل بیگ کے پَر کٹ گئے۔ اِن واقعات سے دماغ مزید خراب ہوتا گیا۔
نئے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ تھے۔ اُن پہ حاوی ہونے کی کوشش کی گئی‘ لیکن جنرل جنجوعہ کمزور آدمی نہ تھے‘ اور اُنہوں نے پریشر قبول نہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے تعلقات میں تناؤ آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد جنرل جنجوعہ کی اچانک موت واقع ہوئی۔ نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملے پہ صدر اور وزیر اعظم آپس میں اتفاق پیدا نہ کر سکے۔ سینئر موسٹ جرنیل جنرل فرخ تھے‘ لیکن نواز شریف اُنہیں کسی قیمت پر قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ اُن کے کان کسی نے بھر دئیے تھے کہ جنرل فرخ بینظیر بھٹو کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ صدر غلام اسحاق اتنی بات نواز شریف کی مان گئے کہ جنرل فرخ کو چیف نہ بنایا لیکن جو نام نواز شریف چاہتے تھے وہ بھی نہ مانے۔ قرعۂ فال جنرل وحید کاکڑ کے نام کا نکلا۔ اُن کا ایک پرابلم تھا‘ جو بعد میں نواز شریف کیلئے بھاری ثابت ہوا۔ وہ فضول بات برداشت نہ کرتے تھے۔ جب صدر اور وزیر اعظم میں حالات زیادہ بگڑ گئے تو جنرل وحید کاکڑ نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو گھر جانے پہ مجبور کر دیا۔ عبوری حکومت بنی اور نئے انتخابات ہوئے‘ جس میں بینظیر بھٹو کامیاب ہوئیں اور وزیر اعظم بن گئیں۔
1996ء میں بینظیر بھٹو کے اپنے ہی چُنے ہوئے صدر فاروق لغاری نے اُن کی حکومت برخاست کر دی۔ پھر سے انتخابات ہوئے جس میں نواز شریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور وہ دوسری بار وزیر اعظم بن گئے۔
مسئلہ یہ تھا کہ دماغ کی خرابی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ فاروق لغاری نے اِن پہ احسان کیا تھا‘ لیکن پہلا وار اُنہی پہ کیا‘ اور آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اُن کے مؤثر اختیارات سلب کر لئے۔ پھر سپریم کورٹ پہ چڑھائی کی گئی اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو چلتا کیا۔ یہاں رُک جانا چاہیے تھا لیکن اقتدار کے نشے میں سب احتیاط بھول گئے۔ تب آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت تھے اور اُن سے زیادہ کوئی شریف آدمی ہو نہیں سکتا تھا۔ پڑھے لکھے اور مہذب انسان تھے۔ نیول سٹاف کالج میں ایک تقریر کر بیٹھے جس میں رائے دی کہ حکومت اور فوج کے معاملات صحیح چلانے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے۔ آئی ایس پی آر نے اس تقریر پہ مبنی ایک اعلامیہ جاری کر دیا جس سے لامحالہ بھونچال آنا تھا۔ وزیر اعظم کو سارا معاملہ ناگوار گزرا۔ اپنے پسندیدہ مقام مری میں تھے اور وہیں جنرل کرامت کو بلایا گیا۔ آرمی چیف نے استعفیٰ کی پیشکش کی جسے وزیر اعظم فوراً مان گئے۔ ٹارزن بننے کے شوق میں اُن سے یہ ایک تاریخی غلطی سرزد ہوئی کیونکہ فوج میں تاثر پھیلا کہ اُن کے چیف کو بے عزت کیا گیا ہے۔ نواز شریف کے خلاف نفرت کی لہر اُٹھی۔
بظاہر بڑی سمجھداری سے نئے چیف کا انتخاب کیا گیا۔ مفروضہ یہ تھا کہ کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف اُردو سپیکنگ ہیں‘ اور فوج میں اُن کا لمباچوڑا حلقہ ِاثر نہیں ہو گا۔ سمجھاگیا کہ نسبتاً بے ضرر ہوں گے‘ اس لئے اُنہیں چُنا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس رائے میں نثار علی خان پیش پیش تھے۔ کتنے بے ضرر پرویز مشرف نکلے‘ وہ پاکستانی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔
لیکن پرویز مشرف ہوں یا کوئی اور بنیادی نکتہ وہی ہے کہ فوج میں نواز شریف کے خلاف بُرا تاثر پیدا ہو چکا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاثر پختہ ہوتا گیا۔ یہ دُرست ہے کہ فوج کی اپنی ترجیحات ہیں‘ جو سویلین خواہشات سے متصادم ہو سکتی ہیں‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف کے دل میں ہمیشہ خواہش رہی کہ فوج بھی اُن کے اشاروں پہ ایسے چلے جیسے پنجاب پولیس اور پنجاب افسر شاہی چلتی رہی ہے۔
بینظیر بھٹو پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ وہ جان گئی تھیں کہ فوج کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے۔ جنرل وحید کاکڑ کے ساتھ اُن کے تعلقات اچھے رہے۔ نون لیگی قیادت کا مسئلہ یہ ہے کہ بنیادی طور پہ اتنے پڑھی لکھی نہیں۔ دولت اور تجارت سے گہرا تعلق ہے‘ لیکن بہت سارے دیگر معاملات میں نیم خواندہ ہی ہیں۔ پاکستانی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر نے اتنے آرمی چیف نہیں بھگتے۔ لیکن پھر بھی نواز شریف فوج کے مزاج اور کردار کو نہیں سمجھ سکے۔ اسی لئے ایک آرمی چیف سے بھی نواز شریف اچھے تعلقات نہیں رکھ سکے۔ مسئلہ وہی نیم خواندگی کا ہے۔ نسبتاً پیچیدہ معاملات پہ فوجی کمانڈروں سے صحیح گفتگو کر نہیں سکتے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ فوج سے ہمیشہ شاکی رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *