جوڈیشل ایکٹوازم خطرناک ہے

عدنان رسول

جب سے عدالت نے نواز کو نا اہل قرار دیا ہے، تب سے یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک میں جمہوریت پر حملہ ہو رہا ہے یا نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت پر ابھی تک کوئی حملہ نہیں ہوا ہے اور کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آئی۔ لیکن پاکستان کی عدالتیں حد سے زیادہ متحرک ہو چکی ہیں اور جوڈیشل ایکٹوازم بلندیوں کی طرف جا رہی ہے۔  اور ہاں، عدلیہ کی طرف سے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے فیصلے نے مسلم لیگ ن کے لیے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ اس نا اہلی کی جڑیں بھی پانامہ معاملے کے فیصلے سے جڑی ہیں۔ وہ فیصلہ اقامہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔  اس وقت تو عمران خان بھی اتفاق کرتے ہیں کہ فیصلہ اقامہ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہ کمزور فیصلہ تھا ۔ ایسا لگتا ہے جے آئی ٹی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ نواز کو ہر حال میں ہٹانا ہے اس لیے اتنا کمزور موقف اختیار کر کے نواز کو نا اہل کروایا گیا۔ چونکہ فیصلہ کمزور تھا اس لیے اس سے نواز کی پارٹی کو کوئی نقصان سیاسی لحاظ سے نہیں ہوا۔  نیا فیصلہ بھی نواز کے بیانیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ن لیگ ان دونوں فیصلوں کی بنیاد پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتی ہے۔ البتہ نواز شریف کو پارٹی کی قیادت سے محروم کرنے سے پارٹی کے لیے لیڈرشپ کے حوالے سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ نواز کو اپنی بیوی، بیٹی، اور اپنے علاوہ کسی دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کے پارٹی قیادت کے حوالے سے وسوسوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ پارٹی پر 1999 اور 2000 ء کے عرصہ میں جو مشکل واقعات پیش آئے اس سے وہ خوف زدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ کسی پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔  اس لیے عدالت کی طرف سے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے پر پابندی کے بعد وہ صرف کلثوم نواز پر ہی بھروسہ کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف پر بھروسہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میاں صاحب کو ان پر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے پرائم منسٹر شپ کے لیے بھی ابھی تک شہباز شریف صاحب کی حمایت نہیں کی ہے۔ وزیر اعلی اب وزارت عظمی تک پہنچنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہیں اپنے بھائی کی سپورٹ لازمی طور پر درکار ہو گی۔  شہباز خود بھی ایک علیحدہ سیاسی شخصیت کے طور پر اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کےلیے وہ پنجاب میں ریلیاں منعقد کر چکے ہیں جو بہت کامیاب بھی رہی ہیں لیکن شہباز کے الفاظ پر عوام کے رد عمل کو دیکھیں تو یہ مایوس کن صورتحال کی پیشین گوئی کرتے ہیں۔  اسی طرح میں لودھراں میں حمزہ شہباز نے ایک ریلی میں ن لیگ کی جیت کےلیے جس ریلی کا بندو بست کیا جس میں شہباز شریف کو ضمنی الیکشن میں جیت کا کریڈٹ لینا تھا وہاں نواز شریف نے بھی جلسہ کر کے یہ دکھانےکی کوشش کی کہ اس جیت کا کریڈٹ انکو جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ شہباز میں وہ کشش نہیں ہے جونواز شریف میں ہے اور نہ ہی شہباز ایک سیاستدان ہے۔  وہ ایک ایڈمنسٹریٹر ہیں جن کے مقاصد بہت محدود ہیں۔ میاں صاحب کو شہباز پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ پارٹی کو لیڈ کر سکیں گے کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ شہباز شریف کی صدارت کے بعد پارٹی ٹوٹ سکتی ہے۔ شہباز پچھلے دس سال میں بہت کم اپنے اسمبلی ممبران سے ملے ہیں۔ وہ بیوروکریٹس کے ذریعے حکومت چلاتے ہیں۔  شہباز کو غلط فہمی ہے کہ وہ فیڈرل لیول پر معاملات کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔ سینئر سیاستدان ان کے بھائی کی بات زیادہ مانتے ہیں۔ شہباز انہیں نظر انداز کر کے بیوروکریٹس کے ذریعے حکومت نہیں کر سکتے۔ ان پر ان کے بھائی کی طرف سے بھی مختلف پابندیاں ہوں گی۔ اس طرح کے حالات میں اگر نواز پارٹی کی صدارت چھوڑ دیتے ہیں تو یہ شہباز کو مکمل آزادی اور اختیار دینے جیسا ہو گا۔ ن لیگ پھر ن لیگ نہیں صرف مسلم لیگ رہ جائے گی۔  اس لیے میاں صاحب قیادت اپنی بیوی کلثوم نواز کے ہاتھ میں دینا بہتر سمجھیں گے۔ اگرچہ وہ بیمار ہیں اور کینسر سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ لیکن یہاں اہم چیز یہ ہے کہ ن لیگ نے مظلومیت کا کارڈ بہت اچھے طریقے سے کھیلا ہے اور حکومت میں بھی موجود ہے۔ کورٹ کے فیصلوں نے پارٹی کو نیا بیانیہ تربیب دینے میں بہت مدد کی ہے۔ یہ بیانیہ کیسے بنایا گیا؟  اس بیانیہ کے ذریعے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کو عدالت کام کرنے نہیں دے رہی اور اس وقت عدلیہ ملک پر حاکم بنی بیٹھی ہے اور پارلیمنٹ کو اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم نے حکمرانوں کو موقع دیا ہے کہ وہ عوام کو یہ باور کرائیں کہ اس وقت نیشنل اسمبلی سے زیادہ اختیارات کا استعمال عدالت کر رہی ہے۔  عدلیہ اور ججز کی سوچ جو بھی ہو جوڈیشل ایکٹوازم نے ن لیگ کی مدد ہی کی ہے۔ ایسی کیا چیز ہے جس کی وجہ سے جوڈیشل ایکٹوازم کی ضرورت پڑی؟ افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد پاکستان کی عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو گئی اور ملک میں جمہوریت بھی مضبوط ہوئی۔ جب عدلیہ بااختیار ہوئی تو اب چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار آ گیا کہ وہ جارحانہ رویہ اختیار کریں یا عدالت کے کردار کو معمول کی حالت پر رکھیں۔  افتخار چوہدری کے دور میں عدلیہ نے متحرک کردار ادا کیا اور کئی مواقع پر از خود نوٹس لیے جن میں سے کچھ کا تعلق عوامی مسائل سے تھا اور کچھ سیاسی نوعیت کے تھے جن میں یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ اگلے چار چیف جسٹس نے عدالت کے عام معمول کے مطابق کام کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ٹراڈیشنل رول کا تقدس برقرار رکھا۔ لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار نے معمول سے
زیادہ سو موٹو ایکشن لینے کا عمل شروع کیا اور عدلیہ کی حدود کا دائرہ بھی وسیع کر دیا۔ پوائنٹ یہ ہے کہ عدلیہ کا ایکٹوسٹ بننا ایک بری بات نہیں ہے۔ یہ
تبھی مسائل پیدا کرتی ہے جب یہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرنے لگے۔ جب عدلیہ دائرہ اختیار سے باہر چلی جاتی ہے تو اس سے جمہوریت کو نقصان ہوتا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم اس مرحلہ تک نہیں پہنچے۔  آخری بات یہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرروت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ رواں سال الیکشن کا سال ہے اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کسی اور پارٹی کو نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو اپنا مخالف سمجھ رہی ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے مسلم لیگ ن نے اپنے اندرونی معاملات کو چھپانے کے لیے ایک نیا بیانیہ گھڑ لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بر عکس ن لیگ کے مسائل آپریشنل یا گراونڈ لیول کے نہیں ہیں۔ ن لیگ اس وقت ٹاپ پر ہے۔ وہ اپنے مسائل کو عوام سے چھپانا جانتی ہے۔ جب تک ریاستی ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہ کر کام نہیں کریں گے اور دوسرے اداروں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں گے تب تک اداروں کے تصادم کا خطرہ موجود رہے گا۔ جہاں تک عدلیہ کے بااختیار ہونے کی بات ہے تو کامیاب جمہوریت کے لیے یہ ضروری چیز ہے لیکن جوڈیشل ایکٹوازم مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ اداروں کا تصادم نہ صرف جمہوریت کے لیے خطرے کا باعث ہو گا بلکہ عدلیہ کی بدنامی کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *