بڑے دن کا آغاز.... ایک چھوٹے سے کام سے !!

          لاہور سے تقریبا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں ہے جسے ’چورکوٹ‘ (حالیہ احمد آباد) کہتے ہیں ، یہ ضلع قصور کے نواح میں کھڈیاں سے بارہ کلومیٹر اندر واقع ہے.... مگر واقعہ کچھ اور ہے۔ حالات ، وقت اور وسائل واقعہ نہیں بنتے، واقعہ یہ ہے کہ واقعہ انسان بنتا ہے ....ہاں! جب وہ انسان بننے کی ٹھان لیتا ہے۔ مذکورہ گاؤں سے دو نوجوان اشفاق احمد اور محمد آصف کبھی کبھی ملنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ بحمدللہ ! راقم بطور مصنف ، مدیر اور کالم نگار اپنے قارئین سے ملاقات میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتا۔ جو شخص تحریر کے حوالے سے ملاقات کی غرض سے گھر چل کر آیا ہے،اس کا حق ہے کہ اس کی میزبانی کی جائے۔ میزبانی صرف چائے پانی کا پوچھنا ہی نہیں بلکہ اس کی زندگی کے مسائل کا ادراک اور پھر سد باب کرنا بھی آدب ِ میزبانی میں شامل ہے۔ میزبانی خندہ پیشانی سے شروع ہوتی ہے اور مہمان کے دل کے اندر داخل ہونے تک جاری رہتی ہے۔ جو آپ کے گھر میں داخل ہوتا ہے‘ اخلاق کا تقاضا ہے کہ آپ اس کے دل میں داخل ہو جائیں۔کسی کے دل میں داخل ہونے کیلئے اپنا دل بڑا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی تنگ دل کسی کے دل میں داخل نہیں ہو سکتا۔

          آمدم برسرِ مطلب، اشفاق اس گاؤں میں بچوں کو پڑھایا کرتا تھا، کم آمدنی والے لوگ ظاہر ہے کم فیس ہی دے سکتے تھے۔ ایک دن میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جس کچے گھر میں میرا سکول ہے، اس کی چھت کی ایک کڑی گر گئی ہے ، شکر ہے کوئی بچہ تو زخمی نہیں ہوا لیکن والدین نے ڈر کے مارے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا لیا ہے۔ اب بچے اتنے کم ہوچکے ہیں کہ خرچہ پورا نہیں ہوتا، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اسکول بند کر دیا جائے، اور آپ میرے لیے شہر میں کسی نوکری کا بندوبست کریں۔ میں نے کہا‘ برخوردار! تم ایک باصلاحیت گریجویٹ نوجوان ہو، تمہیں تو یہاں بیس پچیس ہزار کی نوکری مل جائے گی لیکن گاؤں میں ان چالیس پچاس بچوں کا کیا بنے گا جو تمہارے اسکول نما ٹیوشن سینٹر میں پڑھ رہے تھے۔ میری مانو، وہیں بچوں کو پڑھاتے رہو، صبر سے کام لو، چھت ڈلوانے کا بندوبست ہم کیے دیتے ہیں، وہاں تعلیم و تربیت کا سلسلہ منقطع نہ کرو۔ سعادت مند نوجوان صبر سے بات سنتا رہا، داد طلب بات یہ ہے کہ سال بھر اس پر عمل بھی کرتا۔خالی بات سن لینے میں بھی سعادت ہوتی ہے۔

          الغرض اس نوجوان کی مدد کیلئے کچھ مخلص دوستوں کو ہمراہ لے کر اس کے گاؤں پہنچے ، دیکھا کہ وہ جسے اسکول کہہ رہا تھا، ایک بوسیدہ سا "ڈھارا" تھا،اگر وہاں بھینسیں بھی باندھی جائیں تو مائنڈ کر لیں۔ کچی مٹی سے بنی ہوئی کانوں کی چھت تھی جو چند اینٹوں کے ستونوں پر کھڑی تھی ، اور وہ ستون بھی ایسے ٹیڑھے میڑھے تھے کہ مزید کھڑا ہونے سے کسی وقت بھی انکار کر سکتے تھے۔ بیٹھے کو کرسی تک نہ تھی، بچے صف نما چادر پر بستہ کھولے بیٹھے تھے۔ استاد لکڑی کے ٹوٹے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین اس کی اپنی نہیں، فی الوقت وہ جگہ اس کے کسی چچا نے اسے بطور احسان دے رکھی ہے۔ چھت کی مرمت تو د ±ور کی بات ، پورا اسکول ہی مرمت طلب تھا۔ کچھ دوستوں نے رائے دی کہ اگر یہاں چھت تعمیرکی گئی تو اس کے رشتہ دار اس سے واپس لے لیں گے، اور یہاں اپنی بھینسیں باندھا کریں گے جو بہر طور ایک زیادہ منافع بخش کام ہے۔ اس لیے بہتر ہے کسی ایسی جگہ عمارت تعمیر کی جائے گا جو اس کی ذاتی ہو.... لیکن درویشوں کے ہاں ”ذاتی“ نام کی جگہ کہاں پائی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ گاوں سے باہر کھیتوں میں ایک کنال جگہ کا بندوبست کیا گیا۔ گاؤں کے لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ شہری بابو کوئی جگہ لینا چاہتے ہیں تو سب نے گاوں کی زمین شہری قیمت پر بیچنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم نے انہیں بڑا قائل کیا کہ آپ کے گاؤں کے اسکول کیلئے جگہ چاہیے ، آپ لوگوں کو تو بلاقیمت وقف کردینی چاہیے .... لیکن جمود زدہ لوگ اسے بھی اپنا دشمن تصور کرنے لگتے ہیں جو انہیں جمود کے آزار سے نکالنا چاہے ، بعض اوقات مریض دوا لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسے میں معالج کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ معالج یہ کہہ کر اپنا بستہ سمیٹ نہیں سکتا کہ ہم تو علاج کرنا چاہتے ہیں، مریض ہی موت پر راضی ہے تو ہم کیا کریں۔

          القصہ گاؤں سے باہرکھیتوں کے عین درمیان پانچ کمروں پر مشتمل ایک سادہ سی عمارت اٹھائی گی اور اس زمین کے ملکیتی کاغذات اشفاق کے سپرد کر دیے گئے۔ اس کے اسکول کا نام "لاہور انگلش اسکول" رکھا گیا۔ اس نام کی ایک اور نام سے نسبت ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے 1960ءکی دہائی میں ایک تعلیمی ادارہ " لاہور انگلش کالج" بنایا تھا۔ درس و تدریس کے باب میں صبح آپؒ تدریس میں مصروف رہتے اور رات کے سمے درس میں۔ گویا صبح لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر تعلیم میں داخل کرتے اور پھر ان تعلیم شدہ مگر تشکیک شدہ زدہ دلوں کو رات کے سمے ایمان اور تسلیم کے نور میں داخل کرتے۔ چشمِ فلک نے آپؒ کو صبح و مسا اسی ریاضت میں منہمک پایا۔

          واقعات مکمل ہوئے بغیر ہم خیالات تک نہیں پہنچ سکتے، پہلے واقعات مکمل کرنے دیں.... کسی فنڈنگ اور فنڈ ریزنگ جیسی حرکت کے مرتکب ہوئے بغیر تین قریبی احباب نے اس کارِ خیرکو اپنے ذمے لے لیا۔ ان کے نام بغرضِ درخواست اور اخلاص مشتہر نہیں کیے جا رہے۔ لاہور انگلش اسکول کا پراجیکٹ ایک سال میں مکمل ہوا۔ یوم قائدؒ کی مناسبت سے کل اس کی افتتاحی تقریب تھی....ایک چھوٹے سے کام کا آغاز ایک بڑے دن میں کیا گیا۔ تقریبِ مذکورمیں مہمانوں کی فہرست میں قصور کے ڈی ایس پی عبدالواحد ڈوگر، لاہور نالج پارک کے سی ای او عبدالرزاق، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شامل تھے۔ سب احباب نے اہل دیہہ کی خوب ہمت بندھائی اور سب دوستوں کوخوب خوب سراہا۔

           دراصل فلاحی کاموں کی سب سے زیادہ ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں لوگوں کو اس کا شعور بھی نہ ہو کہ انہیں فلاح چاہیے۔ روشنی کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں اندھیرا ہوتا ہے۔ احباب کی رائے یہ تھی اس اسکول کو ایک فلاحی مرکز کی حیثیت سے پروان چڑھایا جائے۔ شام کو تعلیمِ بالغاں ، بچیوں کیلئے دستکاری اسکول، گاو ¿ں کے بڑے بچوں کیلئے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور ایک لائیبریری بنائی جائے۔ میری تجویز تھی کہ یہاں ایک کمرے میں فری ڈسپنسری بھی کھولی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے میں نے خود کو پیش کیا، بشرطِ توفیق ہفتے میں ایک دن وہاں مریضوں کا علاج کروں گا۔ انشاء اللہ تعالٰی، وما توفیقی الا بااللہ!! ”لاہور انگلش اسکول“ کا مونوگرام حضرت واصف علی واصفؒ کی کتاب” کرن کرن سورج“ کے سرورق سے مشتق ہے ....اور اس پر رہنما الفاظ ”تعلیم ، تربیت ، اخلاق“ درج ہیں۔

          لوگ سمجھتے ہیں کہ وسائل سے کام ہوتا ہے ، اس کام کے دوران میں معلوم ہوا کہ کام جذبے سے ہوتا ہے۔ انسانی جذبہ کرامات ایجاد کرتا ہے۔ جذبہ وسائل کو از خود اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ کشش جذبے میں ہوتی ہے، لوگ وسائل کو پ ±رکشش جانتے ہیں۔ دراصل ہم میں سے کوئی شخص اتنا غریب نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مدد نہ کر سکے۔ ہم معاشرے کی جس بھی سیڑھی پر قدم رکھے ہوئے ہیں، کچھ لوگ ہم سے آگے ہوں گے اور کچھ پیچھے۔کام صرف اتنا ہے کہ اپنے سے نیچے والوں کو اوپر آنے میں مدد دیں.... ان کا بازو پکڑ لیں!! صرف اتنے سے کام سے معاشرے میں غربت اور جہالت دُور ہو جائے گی۔ غربت پیسے کی کمی سے نہیں.... خود غرضی سے پیدا ہوتی ہے۔ حکومتوں کا گلہ شکوہ کرنے بجائے صرف اپنے حصے کا دیا جلاتے جائیں.... چراغاں ہو جائے گا۔ کالم کی صورت میں یہ چند سطور تحریر کیے دیتا ہوں‘ تاکہ سند رہیں اور بصورتِ تحریک کچھ دلوں کے کام آئیں!!

        ہمیں فنڈز نہیں چاہییں.... ہمیں محسوس کرنے والے دل، سوچنے والے ذہن اور ہاتھ بٹانے والے ہاتھ چاہییں.... ہمیں فنڈز نہیں چاہییں۔ ہمیں جس سرمائے کی ضرورت ہے‘وہ سرمایہِ خیال ہے۔ پیسہ ختم ہو جاتا ہے‘ خیال ختم نہیں ہوتا۔ وجود ختم ہوجاتا ہے‘ اور خیال ختم نہیں ہوتا۔ دراصل خیال ہر وجود کا اوّل بھی  ہے اور خاتم بھی!! تکوینی نظام میں خیال مثلِ حرفِ کُن ہے.... اس کی گونج کائنات میں باقی رہتی ہے۔ ہر منصوبے کی خشتِ اوّل یہی سرمایہِ خیال ہے۔ خدانخواستہ خیال اور احساس کی دولت کم پڑ جائے تو خیر کی عمارت کی خیر نہیں.... یہ عمارت اَمارت میں بدل جاتی ہے۔ نیت خیال کا معجزہ ہے.... اور یہ آفاق میں نہیں‘ انفس میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ نیت مخدوش ہو جائے تو فلاح و بہبود کی فلک بوس عمارتیں زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔

        لاہور انگلش اسکول موضع احمد آباد ( سابقہ چور کوٹ ) کھڈیاں ضلع قصور کا افتتاح ہوا‘ تو اس کا تذکرہ مجھے اپنے کالم میں بھی کرنا پڑا، تاآنکہ اس فلاحی ادارے کا سیاق و سباق اور وجہ تسمیہ ریکارڈ کا حصہ بن جائے اور بوقتِ ضرورت تاریخ کے اوراق میں سند اور حوالہ بن کر سامنے ائے۔ ہوا یوں کہ’ اُردو پواینٹ ڈاٹ کام‘ والے فرحان خان بھی تقریب میں موجود تھے، وہ اپنے موبائل سے کچھ خفیہ قسم کی ریکارڈنگ کرتے رہے، تقریب کے فوراً بعد اس نوجوان نے پھرتی ے اپنے بیگ سے ایک مائک نکالا اور لوگوں کے انٹرویوز کرنے لگا۔ بعد ازاں اویس حیدر نے اسے ایک خوبصورت ڈاکومینٹری کی شکل دے دی۔ دوستوں نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ بعض اوقات منظر کشی منظر سے زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے۔ بہرطور کچھ دوستوں نے رابطہ کیا اور عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کارِ خیر میں کچھ ”حصہ“ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہیں بہت شکریے کے ساتھ ہم اتنا ہی بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں”حصہ“ درکار نہیں، بلکہ ہمیں  پورے کا پورا چاک و چوبند بندہ چاہیے۔ اوۤل خیال تو یہی تھا کہ یہ اسکول گاؤں کے انہی دو نوجوانوں کے سپرد کرنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے ‘ جن کی مالی معاونت کیلئے یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی....کہ اب وہ جانیں اور اُن کا کام.... لیکن وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ معاملہ صرف تعلیم ہی کا نہیں‘ تربیت کا بھی درپیش ہے۔ تعلیم جز وقتی ہو سکتی ہے، تربیت ایک کل وقتی کام ہے اور کل وقتی کام کیلئے خود کو وقف کرنا لازم ہے۔ صحت سے لے کر صفائی تک سارے کے سارے معاملات قابلِ اصلاح ہیں۔ گویا ہمیں اس گاؤں میں ایک جامع نوعیت کی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے....دراصل ہرجامعہ کو ایک جامع تحریک بھی ہونا چاہیے.... اس کیلئے پیسہ خرچ کرنا کافی نہیں ‘ بلکہ خود کو خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کا رونا رونے کیلئے سیاستدان کافی ہیں، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پیاسے کو پانی پلانے کیلئے کنواں کھودنے کا منصوبہ‘ دس سالہ منصوبہ سازوں کے سپرد کریں اور فوری طور پر اپنے گھڑے سے پیاسے کو پانی کا پیالہ پیش کر دیں .... کہ اصل خدمت وہی ہوتی ہے‘ جوفوری ہو.... اور سائل کو انتظار کی زحمت میں ڈالے بغیر کی جائے۔

        احبابِ ذی وقار کی مشاورت سے ایک ایسا کلیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے‘ جس میں ہر فرد عملی طور پر شریکِ کار ہو کر اس کارِ فلاح کا حصہ بن جائے۔ دراصل ہمیں اُس شخص کے پیسوں کی ضرورت نہیں ‘جو ہمیں اپنا وقت نہ دے سکے۔ اگرچہ خدمت کیلئے وقت، وجود اور وسائل تینوں کی ضرورت ہوتی ہے‘ لیکن ترجیحات کے باب میں وسائل تیسری جگہ شمار ہوتے ہیں۔ جیب سے پیسے نکالنا آسان ہے لیکن کسی کیلئے اپنا وقت وقف کرنا ایک کارِ دشوار ہے۔  دوسروں کی زندگی آسان بنانے کیلئے اپنے لیے دشوار گزار راستوں کا انتخاب کرنے کی جرات ہونی چاہیے۔

        طریقہِ کار یہ طے پایا کہ خدمت کا خواہشمند دوست‘ اسکول کو فنڈ نہیں دے گا بلکہ اسکول میں زیرِ تعلیم کسی ایک غریب بچے کی کفالت کرے گا.... اور یہ کفالت ایک سرپرست ہونے کی حیثیت سے ہوگی، اس بچے کا خاندان اس سے متعارف کروا دیا جائے گا، یعنی شہر سے ایک خوشحال خاندان دیہات کے ایک غریب خاندان کا دست و بازو بنے گا۔ ہمیں گاؤں کے غریب بچے کو یہ مان دینا ہوگا کہ اس کا ایک انکل شہر میں بھی رہتا ہے ....وہ اسے تعلیم دلوائے گا.... کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا مرحلہ درپیش ہوا‘ تو شہر والے انکل سنبھال لیں گے.... شہر والے انکل کل کلاں اسے نوکری بھی دلوا سکتے ہیں!! ایک غریب خاندان کو اتنا حوصلہ ہو جائے کہ اس کے بچے کی کفالت قابلِ اعتماد ہاتھوں میں ہے‘ تو اس کا بوجھ آدھا رہ  جائے گا۔ یہ بھی اُمید ہو گی کہ اس بچے کی بڑی بہن کی شادی کے موقع پر شہر والے انکل ضرور شامل ہوں گے اورکچھ نہ کچھ ضرور کریںگے ۔ بس اتنے سے اعتماد سے ایک غریب خاندان کے چہرے پر پُراعتماد مسکراہٹ پیدا ہو جائے گی۔ دراصل غربت وسائل کی کمی سے نہیں، بلکہ ہمدردی کے احساس میں کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ غربت پیدا کرنے میں ہماری خود غرضی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک خوشحال خاندان صرف کسی ایک مفلوک الحال خاندان کی معاشی اور معاشرتی کفالت کا ذمہ اٹھا لے تو آج ہی شام پڑنے سے پہلے تلک ملک سے آدھی غربت دُور ہو جائے گی۔ جسے وسیلہ مل جائے‘ اسے وسائل کی ضرورت نہیں رہتی۔ شہر کے کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں ہر سال فرنیچر تبدیل ہوتا ہے اور دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے ہر سال مزید دبیز ہو جاتے ہیں.... کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پرانا فرنیچر اونے پونے فرنیچر والے کوبیچنے کی بجائے اسے کسی ایسے گھر میں بھیج دیا جائے جہاں لوگوں کو فرنیچر کے سپیلنگ بھی معلوم نہیں، اسی طرح پرانے پردے کتنے خاندانوں کی غربت کا پردہ رکھ سکتے ہیں۔ گھر میں پڑی ہوئی پرانی دوائیاں پڑی پڑی ضائع ہو جاتی ہیں، یہی ادویات کسی کیلئے لائف سیونگ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہر گھر میں کتابیں بھی پرانی ہو کرکچھ عرصے بعد ردّی کے بھاؤ بکتی ہیں.... یہ لکھے ہوئے لفظ کی توہین ہے۔ گھر میں رکھی ہوئی پرانی کتابیں ‘ جنہیں اب کوئی نہیں کھولتا‘ ایسے گھروں اور آبادیوں کیلئے ایک زینت اور نعمت سے کم نہیں ‘ جہاں لوگ پرانے اخبار کا ٹکڑا پڑھنے کو ترستے ہیں۔

        پس.... جب ایک خوشحال گھرانہ ایک کم حال گھرانے کے قریب ہوگا ‘تو انہیں ایک دوسرے کی ضروریات کا احساس ہو گا۔ یہاں شہر کے لوگ خالص دودھ، مکھن ، ساگ اور محبت کو ترستے ہیں‘ وہاں تازہ ہوا کی طرح یہ سب کچھ وافر موجود ہے۔ لاہور سے صرف نوّے کلومیڑ کے فاصلے پر لوگ اپنے بچوں کو ہر مہینے دیہات کی سیر کروانے کیلئے لے کر جا سکتے ہیں، اور واپسی پر دعاؤں کے ساتھ ساتھ دیسی مرغی اور انڈے بھی مفت میں لا سکتے ہیں۔ ہمارا کام دو خاندانوں کو جوڑنا ہے ، اس کے بعد کے مراحل اَز خود طے ہوتے رہیں گے۔ اس عملی طریقہ ِ کار سے گاؤں کے اسکولوں میں بچوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ بھی بہت کم ہو جائے گا، ظاہر ہے شہر والے انکل ہر مہینے بچے کی حاضری کے بارے میں بھی پوچھیں گے۔ یہ خیرات نہیں بلکہ خیر کا سودا ہے۔ کسی غریب بچے کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کے بدلے میں جنت مل جائے تو یہ سودا بہت سستا ہے!!

        جس معاشرے میں دولت کی تقسیم ناہموار ہو چکی ہو‘ وہاں غریب کی غربت کا ذمہ دار ‘ نہ چاہتے ہوئے بھی امیر ہی ہوگا ....وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور خود کو ہلکا پھلکا کر لے۔ انشاء اللہ ، بشرطِ توفیقِ الٰہی....ایک دور افتادہ گاؤں میں بننے والا یہ ” لاہور انگلش اسکول“ ایک مکمل تصورِ خدمت Comprehensive concept of community service  کے طور پر سامنے آئے گا.... اور یہی تصورِ خدمت شہر کے غریب علاقوں میں بھی رچ پس جائے گا۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہوا کہ غریب علاقوں میں جس کی مالی حالت ذرا بہتر ہوئی‘ وہ شہر کے امیر علاقوں میں منتقل ہوگیا.... اور یوں پہلے سے بھی غریب ہوتا چلا گیا.... کہ امارت اور غربت کی حقیقت ایک تقابل کے سوا اور کیا ہے۔ میں ڈیفنس میں گھر بناؤں تو غریب ہو جاتا ہوں، گرین ٹاؤن میں چلا جاؤں تو امیر سمجھا جاتا ہوں۔ سٹیٹس کے دوڑ میں سکون پیچھے رہ جاتا ہے۔ اسٹیٹس کی دوڑ دراصل ایک خود غرضی کی دوڑ ہے۔ کوئی تو ہوٗ جو اپنی جگہ پر ٹھہر جائے اور اپنی کامیابیوں کا خراج وصول نہ کرے۔ لوگوں محلوں سے نکل کر محلات میں آباد ہوتے گئے اور ان کی رفاقت میں کوئی غریب نہ رہا۔ اسلئے اب غریب اور مستحق خاندان تلاش کرنے کیلئے ہمیں اپنے اپنے شہر کے نواحی علاقوں کا رخ کرنا ہوگا!!

اس گاؤں میں تقریباً اڑھائی سو کے قریب گھر ہیں، لاہور شہر کی اڑھائی کروڑ آبادی میں سے اڑھائی سو خاندان تو ایسے ضرور ہی مسیر ہوں گے جو انہیں  بھکاری بنائے بغیر اور ان کی عزت نفس کو پامال کیے بغیر ان کی اس طرح معاشی اور معاشرتی کفالت کرسکیں گے  کہ صرف ایک نسل کے فاصلے پر یہ سارے خاندان  تعلیم یافتہ اور خوشحال ہو جائیں۔ دراصل ہمارے اوپر بہت سا قرض ہے ، ہمارے اوپر ان تمام نعمتوں کا قرض موجود ہے جو  ہمیں بغیر کسی محنت و مشقت کے گھر بیٹھے میسر ہیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہے، یہ بھی فرمایا گیا کہ اپنے مومن بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔ اس زاویے سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کا صدقہ بھی نکالنا چاہیے، اور اس کا احسن طریق یہ ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ ہمیں اتنے ہی بچوں کی تعلیم کا مزید ذمہ لینا چاہیے۔ بھلے آپ کے بچے ایل جی ایس (لاہور گرامر سکول)  میں پڑھتے رہیںِ کم از کم اپنے بچوں کی تعداد کے برابر بچے پوری ذمہ داری لیتے ہوئے ایل ای ایس (لاہور انگلش سکول) میں پڑھا دیں۔

         ہم ایک ایسا ماڈل تشکیل دے رہے ہیں جس میں پیسہ اکٹھے کیے بغیر خدمتِ خلق ممکن ہو سکے۔  چندہ اکٹھا کرنے کیلئے فلاحی کام کا آغاز کرنا....یا فلاحی کام کیلئے چندہ اکٹھا کرنا....دونوں تصورِ فلاح کی توہین ہیں۔ دراصل فلاحی کام انفرادی سطح پر بہترین انداز میں ہو سکتے ہیں .... اجتماع کے اپنے مسائل ہیں ۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے تو چراغاں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ صرف اپنے حصے کا چراغ چلانے کی ضرورت ہے۔ عملی خدمت ہمدردی سے شروع ہوتی ہے اور فلاح پر ختم ہوتی ہے.... اور یہ فلاح دو طرفہ ہے....فارمولہ سادہ سا ہے....ظاہر میں کسی کی معاشی اور معاشرتی فلاح کا باعث بنو‘ اور باطن میں اپنے لیے دینی اورروحانی فلاح پالو!! درحقیقت خدمت ایک روحانی سطح کا تجربہ ہے۔ خاموش خدمت ....بولتی ہوئی روحانیت ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *