مظفر محمد علی مرحوم ، ایک بھرپور صحافی

shamiمرحوم مظفر محمد علی نے اپنے کیرئیر کا آغاز 17, 18 سال کی عمت میں ہفت روزہ ممتاز سے کیا۔ لڑکپن ہی میں صحافت میں قدم رکھنا ، افتاد طبع کا نتیجہ تھا یا حالات کا کرشمہ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ عمر بھر اس شعبے سے منسلک رہے اور بطور صحافی بھرپور زندگی بسر کی۔ 1973 سے 1987 تک انہوں نے اس دور کے مشہور جریدوں حکایت اور سیارہ ڈائجسٹ میں کام کیا۔ 1981 میں وہ روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہوئے اور 1983 تک میگزین ایڈیشن کے انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد دو سال تک روزنامہ مشرق لاہور کے ایڈیٹر رہے۔۔1990 میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے اور 2002 سے2003 میں روزنامہ جنگ گروپ کے انگریزی روزنامہ ڈیلی نیوز میں بھی خدمات انجام دیں۔ مرحوم روزنامہ انصاف ، اوصاف اور رازنامہ جناح میں بھی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ مرحوم عمدہ ادبی زوق کے مالک اور مترجم بھی تھے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ پہلی بار 1976 میں شائع ہوا 1975 میں انہوں نے لیوٹالسٹائی کے ناول حاجی مراد کا ترجمہ کیا۔ نامور صحافیوں کے ساتھ انٹرویوز پر مشتمل ان کی کتاب پاکستانی سیاست کے رازدان صحافی کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کم و بیش اپنی زندگی کے 39 برس شعبہ صحافت میں بسر کئے۔ اس طویل دور میں انہوں نے اخبارات میں اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ جنگ گروپ کے شعبہ کتب میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ عصری مسائل کے بارے میں معیاری اور با زیب تصانیف کی اشاعت سے انہوں نے بالواسطہ نوجوانوں میں ذوق مطالعہ پیدا کیا اور انہیں کتابوں کی طرف رغبت دلائی۔ جب ہمارا خیال اس طرف جاتا ہے کہ شعبہ صحافت میں قابل تحسین خدمات اور زندگی بھر وابستگی کے عوض انہیں کیا حاصل ہوا تو دل بجھ کے رہ جاتا ہے ۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ڈائلسز پر زندہ تھے۔  اللہ تعالیٰ مظفر محمد علی کی نیکیوں کو شرف قبولیت بخشے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *