مظفر محمد علی۔ ۔ ۔ایک سیلف میڈ انسان

امجد اسلام امجد

Amjad_Islam_Amjad1

موت بیشک اٹل بھی ہے اور برحق بھی مگر جب کوئی اپنے سے چھوٹی عمر کا عزیز اس کا شکار ہوتا ہے تو پتا نہیں کیوں اس کے تاثر کے شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے اور بے ساختہ ذہن غالب کے اس مشہور مرثیے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جس میں وہ کبھی موت سے اور کبھی اس کا شکار ہونے والے اپنے منہ بولے بیٹے عارف سے اس طرح کے سوال کرتا ہے کہ
ہاں اے فلک پیر جوان تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور !
تم کون سے ایسے تھے کھرے داروستدکے
کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
مگر جب دونوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا تو وہ یہی کہہ کر چپ ہو جاتا ہے کہ
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہو غالب
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
مظفر محمد علی اگرچہ گذشتہ دو تین برس سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا اور وہ (غالباً ہفتے میں دو بار) ڈائیلاسز کے سہارے زندہ تھا اور اگرچہ اسی دوران میں کم و بیش ہر ملاقات میں اس کے آس پاس فرشتہ اجل کے پروں کے پروں کی پھرپھراہٹ صاف سنائی دیتی تھی مگر پتا نہیں کیوں مجھے یقین سا تھا کہ اس کا گردہ ٹرانسپلانٹ ہو جائے گا اور وہ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ چند ماہ بیشتر ڈاکٹر اویس فاروقی کے گھر پر اس سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ گردے کے حصول اور اس کے میچنگ کے مسائل سلجھنے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن کوشش جاری ہے۔ اس کی آواز اور چہرے سے نقاہت کے آثار نمایاں تھے ۔ کہنے لگا کہ ڈائیلاسز کے طویل مسلسل اور تکلیف دہ عمل کی وجہ سے اس کی قوت مدافعت بہت کم ہو گئی ہے اور ابھی ایک ڈائیلاسز کے بعد جزوی افاقے کا مختصر وقفہ ٹھیک سے اپنا اثر مرتب بھی نہیں کر پاتا کہ اگلے ڈائیلاسز کا وقت دروازے پر دستک دینا شروع کر دیتا ہے یعنی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے کہ بقول منیر نیازی
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

muzaffar m. ali portrait (1)

اس سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی یہ تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ انیس یعقوب اس کے ساتھ تھا ۔ آج کا باریش اور سنجیدہ انیس ان دنوں بہت شوخ و شنگ قسم کا نوجوان ہوا کرتا تھا لیکن مظفر تب بھی ویسا ہی سادہ ، متین اور کم گو تھا جیسا وہ اپنے آخری دم تک رہا دونوں دوست تو تھے ہی لیکن اس وقت شاید مل کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بھی کر رہے تھے ۔ جلد ہی دلدار پرویز بھٹی مرحوم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ تینوں مل کر کوئی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ٹائپ کا کوئی کام کیا کرتے تھے جو اگرچہ زیادہ دیر نہیں چلا مگر جب تک دلدار زندہ رہا ان تینوں کی دوستی میں فرق نہیں آیا۔
آہستہ آہستہ مظفر محمد علی کا نام صحافت اور افسانہ نگاری کے حوالے سے شہرت کی منزلیں طے کرنے لگا۔ اس کی تحریر میں کاٹ کے ساتھ ساتھ مخصوص نوع کی گہرائی تھی جس سے اس کے وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا تھالیکن مجلسی زندگی میں وہ اب بھی ایسا ہی خوش مزاج اور سادگی پسند تھا۔ اپنی فطری ایمانداری کے باعث اس نے اپنے معاشی مسائل کے لئے کوئی چور دروازہ یا شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا۔ حق حلال کی روزی کمانے کے لئے وہ بیک وقت بہت سے کاموں میں مصروف رہتا تھا۔ ان دنوں جب بھی اس سے ملاقات ہوئی میں نے اسے کسی نا کسی نئے مگر شفاف منصوبے پر کام کرتے ہوئے پایا ۔ لاہور سے ایک اردو اخبار شائع ہوا تو وہ غالباً اس کے بالکل ابتدائی لوگوں میں شامل تھا۔ آگے چل کر اسے پبلی کیشنز کے شعبے کا انچارج بنا دی اگیا جس کے زیر اہتمام اس نے بہت سی بے مثال اور یادگار کتابیں شائع کیں لیکن چند برس بعد یہ شعبہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس ادارے سے اس کے تعلق کی صحیح نوعیت کیا تھی اس کے بارے میں مجھے ٹھیک سے پتا نہیں ۔ ایک اندازہ سا ہے کہ غالباً اب وہ مستقل اور باقاعدہ ملازم نہیں تھا ورنہ اس کی بیماری کے دوران طبہ اخراجات کے حوالے سے ادارہ ضرور اس کی مدد کرتا البتہ اتنا مجھے پتا ہے کہ ریڈیو جرمنی کی اردو سروس کے لئے وہ مختلف پروگرام اور رپورٹیں وغیرہ تیار کیا کرتا تھا کہ اس حوالے سے بیماری کی شدت سے پہلے تک وہ اکثر میرے پاس آیا کرتا تھا۔
اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا ایک ایسا بھلا مانس انسان تھا جو صحافت جیسے خبر گزیدہ شعبے سے تعلق رکھنے کے باوجود افواہ، غیبت، لگائی بجھائی اور سنسنی خیزی سے پرہیز کرتا تھا۔ میں نے اسے بہت کم غصے میں دیکھا ہے۔ وہ سماجی رشتوں اور ان کے رکھ رکھاؤ کا قائل تھا اور نظریاتی طور پر ایک گمنڈ انسان اور وطن پرست تھا۔
وفات سے چند ماہ بیشتر شدید بیماری کی حالت میں اس نے اپنی ایک بچی کی شادی کی۔ شائد اندرونی طور پر موت کا خوف اسے اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی ان فرائض سے سبکدوش ہو جائے جو بطور ایک باپ کے اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھے۔ ایک عام سیلف میڈ آدمی کی طرح اس کا اصل اثاثہ بھی اس کی سفید پوشی ہی تھی جسے برقرار رکھنا اس کی فوری اور مہنگی بیماری کے پیش نظر ایک امتحان کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس رات بھی بار بار میرے دل میں خیال آتا رہا کہ خدا ہمیشہ اچھے لوگوں کو ہی امتحان میں کیوں ڈالتا ہے اور آج جب اس کے بیٹے کے بیان کے مطابق اپنے معمول کے ڈائیلس کے بعد فالج کا شکار ہو کر وہ اس مٹی کا رزق بن گیا جو ہر ابن آدم کا مقدر ہے تو ایک بار پھر میرا ذہن اس الجھن سے نکل نہیں پا رہا کہ اتنی شدید اور طویل محنت اور جدوجہد سے بھرپور زندگی کے بعد بمشکل اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکنے والا یہ اچھا انسان جس کا نام مظفر محمد علی تھا واقعی اس سلوک کا مستحق تھا جس کا اسے اپنے ان آخری دو تین برسو ں میں سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ اس کے جواب میں لوگ کیا کہیں گے اور خود مجھے کیا کہنا چاہئیے کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اپنی ذات میں خود کفیل ہے جیسے مثال کے طور پر یہ سوال کہ
ہے زمانہ خدا تو پھر بدل جاتا ہے کیوں
لب پہ گو آیا نہ ہو، دل میں سوال آیا تو ہے!
سو مائی ڈئیر مظفر محمد علی خدا حافظ اور فی امان اللہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *