بانی 'روزنامہ دنیا پاکستان' مظفر محمد علی مرحوم کی کچھ یادگارتصاویر

' روزنامہ دنیا پاکستان ' کے بانی مظفر محمد علی ایک نظریاتی صحافی تھے جنہوں نے صحافت میں وضع داری اور شائستگی کو ہمیشہ مدنظر رکھا- انہوں نے قلم کی بے باکی کوکسی حال کمزور نہ پڑنے دیا اور سچ کو ہمیشہ سچ لکھا-  انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز 18 سال کی عمر میں ہفت روزہ 'ممتاز' سے کیا اور اس دور کے ممتاز جریدوں 'حکایت' اور 'سیارہ ڈائجسٹ' میں بھی کام کیا-1981 میں وہ نوائے وقت سے منسلک ہوگئے اور 1983 تک میگزین میگزین انچارج کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں-بعدازاں وہ دو سال تک روزنامہ مشرق لاہور کے ایڈیٹر رہے-1990 میں وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے اور2002 ات 2003 تک جنگ گروپ کے انگریزی روزنامہ 'ڈیلی نیوز' میں بھی خدمات سرانجام دیں-مرحوم روزنامہ انصاف، اوصاف اور روزنامہ جناح میں بھی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے- مظفر محمد علی عمدہ ادبی ذوق کے مالک اور مترجم تھے- ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ 1976 میں شائع ہوا، 1975 میں انہوں نے لیوٹالسٹائی کے ناول کا اردو ترجمہ ' حاجی مراد' کے نام سے کیا-نامور صحافیوں کے ساتھ ان کے انٹرویوز پر مشتمل کتاب' پاکستانی سیاست کے رازدان صحافی' آج نے ہر طرف تہلکہ مچا دیا- مظفر محمد علی نے اپنی زندگی کے 39 سال بھرپور صحافت میں بسر کیے اور بغیر کسی تمنا کے خود کو ادب اور صحافت کے لیے وقت کیے رکھا- ذیل میں ان کی کچھ نایاب اور یادگار تصاویر شامل کی جارہی ہیں -

ata

مظفر محمد علی ، عطا الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد ۔ ۔ ۔ ایک یادگار لمحہ

DSCF0340

مظر محمد علی اپنے داماد اجمل شاہ دین کے ہمراہ

MINOLTA DIGITAL CAMERA

muzaffar m. ali portrait (1)

5

احباب کے ہمراہ ایک یادگار لمحہ

muzaffar m. ali portrait

1

6 (1)

7

8

9 فیملی اور عزیز واقارب کے ہمراہ
abbu

DSCF0335

مظفر محمد علی مرحوم ، اے جی جوش مرحوم اور اجمل شاہ دین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *