مظفر صاحب! ہم آپ سے شرمندہ ہیں

عابد تہامی

abid tehami

میرے محترم بھائی رحمت علی رازی صاحب نے مظفر محمد علی کے بارے میں تاثرات قلمبند کرنے کے لئے فرمایا ہے۔ مگر کیا کروں مجھے تو ان کی وفات کا یقین ہی نہیں آتا اسی لئے ان کے نام کے آگے کئی مرتبہ مرحوم لکھ کر کاٹ دیا ہے۔ لیکن دنیا کی یہی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اس نے خالق حقیقی سے جا ملنا ہے۔ بس یہی ہوا ہے ہمارے محترم بھائی مظفر محمد علی صاحب کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ فرمائے (آمین)
مظفر محمد علی صاحب سے تعارف تو پہلے بھی تھا لیکن جب انہوں نے ادارہ جنگ جوائن کیا تو یہ تعارف تعلق میں بدل گیا چونکہ میں نے 1990-91 میں جنگ پبلشرز کے لئے انتخابات 90 کا وائٹ پیپر لکھی ، پھر ادارہ نے میری کتاب بدعنوانیاں پبلش کی لیکن ان کے ساتھ میرا تعلق دوستی میں 2002 کے الیکشن کے دوران ہوا جب انہوں نے خصوصی طور پر زور دے کر مجھ سے الیکشن ٹو لکھوائی۔ پھر اس دن سے لے کر انہیں لحد میں اتارنے تک شاید ہی کوئی دن ایسا گذرا ہو جب ان سے کسی نہ کسی ذریعے سے رابطہ نہ ہوا ہو۔ ہم اکثر اپنے ذاتی معاملات ، مسائل سے لے کر لوگوں اور ملک کے مسائل تک نا صرف ڈسکس کرتے بلکہ ہر روز اچھے سے اچھے حل تلاش کرتے اور یہی کہا کرتے کہ اگر ملک میں یہ خرابیاں دور ہو جائیں تو ہمارا ملک جنت نظیر بن جائے۔ ہمارے اداروں میں فلاں طرح کی چیزوں کو دیکھ لیا جائے تو یہ مزید مربوط انداز میں نہ صرف چلے گا بلکہ ترقی کا مینار بنے گا۔ مظفر محمد علی ایک مثبت سوچ لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ۔ انشاء اللہ ان کی یہ مثبت سوچ قیامت کے روز ان کی بخشش کا سبب بنے گی۔ مجھے مظفر محمد علی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کوئی زیادہ علم نہیں مگر عملی صحافت میں ان کی جدوجہد کا قائل ہوں اور وہ دوستوں کے دوست اور اپنے اپنے دوستوں کی عدم موجودگی میں ہمیشہ ان کی خوبیاں بڑھا چڑھا کر نمایاں کرنا ان کی انسان دوستی کا بہت بڑا وصف ہے۔ پھر جب وفات سے دو سال قبل اچانک ان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اس کے بعد گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تو میں نے انہیں بیماری کے ساتھ ایک باہمت اور دلیر انسان کی طرح مقابلہ کرتے ہوئے پایا۔ بیماری کے سخت ترین دنوں میں بھی وہ اپنے دوستوں سے خود رابطہ رکھتے ، میں انہیں ایک مطمئن اور کامیاب انسان پایا ہے ۔ میرے مشاہدے کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ پر ان کے مضبوط ایمان اور پختہ عقیدے کی وجہ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے مجھے ان کے جنازے میں شرکت کے بعد دلی اطمینان اور خوشی محسوس ہوئی کیونکہ ان کے جنازے میں ان سے سچی محبت کرنے والے رحمت علی رازی ، مجیب الرحمٰن شامی، شعیب بن عزیز، انیس یعقوب، سعید اظہر، محمد انیس اور آصف علی پوتا وغیرہ سب موجود تھے اور دیگر جو لوگ ان کے جنازے میں تھے ان میں سے ہر ایک کا مظفر محمد علی سے خلوص اور پیار کا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے (آمین)
کیا کیا لکھنا چاہتا ہوں مگر نہیں صرف آخری بات یہی کہوں گا کہ مظفر محمد علی جیسے حساس اور کھرے انسانوں کی نا صرف قدر ان کی لائف میں کرنی چاہئے بلکہ ان کے رتبے کے مطابق ان کے مسائل کو سمجھ کر ان کا ازالہ کرنا چاہئے کہ شاید ہم ایسے لوگوں کی صلاحیتوں سے بے پناہ استفادہ کر سکیں۔ جو ہمارے معاشرے کی ترقی کے لئے ایک مثبت علامت بن سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *