سیاست میں آگے کیا ہوگا؟

محمد ضیا الدین

سیاسی لحاظ سے پاکستان کے اگلے تین ماہ کر عرصہ بہت عجیب و غریب صورتحال کا شکار رہے گا۔ ہم پہلے ہی الیکشن فیز میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک کئیر ٹیکر حکومت تین ماہ کے لیے براجمان ہونے کو ہے اور اس کے بعد مینڈیٹ حاصل کرنے والی حکومت آئے گی۔ اس دوران موجودہ حکومت کو ایک فل ٹرم سالانہ بجٹ بھی پیش کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے سینیٹ الیکشن میں ن لیگ کے امیدواروں کو آزاد امیدوار قرار دینے کے فیصلے سے کچھ حلقوں میں یہ پریشانی پیدا ہو گئی ہے کہ کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ اگلے الیکشن میں ن لیگ کو مرکز میں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع ملے۔ اس کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ بہت تیزی سے جاری ہے۔ الیکٹیبلز کو مخالف پارٹیاں اور دوسرے طاقتور حلقے ن لیگ سے علیحدہ کر کے ایک نیا حکومتی سیٹ اپ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملی ٹینٹ گروپوں کو فلاحی تنظیموں کے طور پر اور مذہبی گروپوں کو سیاسی جماعت کے طور پر خفیہ چالوں کے ذریعے متعارف کروایا جا رہا ہے تا کہ سیاسی پارٹیوں کے ووٹ بینک کو توڑا جاسکے۔ یہ ایسے سیاسی ماحول میں کیا جا رہا ہے جب فاٹف پاکستان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ مذہبی تنظیموں کے خلاف ایسے قابل اطمینان اقدامات کیے جائیں کہ پاکستان کا نام جلد از جلد گرے لسٹ سے ہٹایا جا سکے۔  فی الحال تو یہ بہت بڑا مطالبہ نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان کو جو تین ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے جس میں اسے ایکشن پلان تیار کرنا ہے، اس میں اسلام آباد میں دو مختلف حکومتیں کام کر رہی ہوں گی۔ پہلے کچھ عرصہ موجودہ حکومت کا ہو گا اور پھر نگران حکومت جس کا کام الیکشن کا کامیاب انعقاد ہو گا۔ ان حالات میں یہ تو چاند مانگنے کے برابر ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے موجود حکومتیں فاٹف کی تجاویز کے مطابق ایکشن پلان تیار کر سکیں۔ لیکن اس میں ناکامی بھی ہمارے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اگر ہم ناکام ہوتے ہیں تو ہمارا نام بلیک لسٹ میں چلا جائے گا جس کے بعد ملک پر سخت معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی جیسا کہ ایران اور شمالی کوریا پر لگائی گئی ہیں۔  چاہے ہمارا نام گرے لسٹ میں ہو یا بلیک لسٹ میں،الیکشن کے بعد آنے والی حکومت جو بیورو کریٹس پر مبنی ہو گی یا شاید ملٹری خود حکومت پر قابض ہو گی اسے سخت تنقید اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔  اس بار گرے لسٹ میں شمولیت 2012 سے 2015 کے مقابلے میں زیادہ سخت اور تکلیف دہ عمل ہو گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں اپنا سرمایہ لگانے سے گھبرائیں گے اور سمجھیں گے کہ ایک ایسا ملک جو دہشت گردوں کے خلاف کاروئی میں دلچسپی نہیں رکھتا وہاں سرمایہ لگانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ مختلف ممالک کی چندہ دینے والی ایجنسیاں بھی پاکستان سے کنارہ کرنے کو ہی ترجیح دیں گی کیونکہ ان ایجنسیوں کے اپنے ملک یعنی امریکہ، برطانیہ جرمنی اور فرانس یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان پر شکنجہ کسنے کے حامی ہیں نہ کہ اس کی مدد کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس صورتحال کا سامنا کرنا ہی نہیں پڑنا تھا یعنی کوئی ہمیں تنہا کرنے اور ہم پر دہشت گردی کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا شک نہ کرتا اگر ہمارے ڈیفنس اور خارجہ پالیسی طے کرنے والے ادارے ان لوگوں کی بات مان لیتے جو بار بار دیوار پر لکھا پیغام چیخ چیخ کر سنا رہے تھے۔  ذیل میں ڈان کے رپورٹر سرل المیڈا کی وہ نیوز سٹوری شامل ہے جس میں ایک بار پھر خارجہ اور دفاعی پالیسی بنانے والوں کو 2016 میں یاد دہانی کرائی گئی۔ اس
نیوز سٹوری کا عنوان تھا: دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرو یا عالمی تنہائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاو۔ حکومت کو اندازہ تھا کہ پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جس سے بچنے کے لیے فوج کو حکومت کے ساتھ کچھ معاملات میں تعاون کرنا ہو گا۔ فوج سے درخواست کی گئی کہ اگر پولیس اور خفیہ ایجنسیاں پابندیوں کا سامنا کرنے والے گروپوں کے افراد کے خلاف کاروائی کریں تو ان کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ پٹھان کوٹ میں حملے کی از سر نو تحقیقات کی جائیں اور ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کاروائی کوراولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری رکھا جائے۔ یہ بھی بتلایا گیا کہ اگرچہ چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے لیکن وہ بھی کچھ معاملات میں پاکستان کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے راضی نہیں ہے۔ یعنی مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کو چین نے روک رکھا ہے لیکن چین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بار بار ایسا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔  اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے اخبار کی خبر پر تنازعہ کھڑا کر دیا گیا اوراس خبر کو ایک سازش قرار دے کر حکومت کو مجبور کیا گیا کہ وہ ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کرے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی اور وزیراطلاعات پرویز رشید کو عہدہ سے بغیر کسی قصور کے الگ ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ تین خارجہ سیکرٹریز ریاض محمد خان، ریاض حسین کھوکھر اور انعام الحق نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی 90 کی دہائی میں کشمیر میں تحریک آزادی اور طالبان کی سپورٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کے امیج کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی طرف توجہ ایک تحریر کے ذریعے دلائی جو 21 ستمبر 2016 کو شائع ہوئی۔ تحریر میں انہوں نے لکھا: پاکستان کی طرف سے ممبئی
حملوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں مخلص نہیں ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے پاکستان کی کشمیر کاز کے لیے کاوشوں کا اثر بہت کم ہو چکا ہے۔ لیکن الیکشن کے بعد، اگر بر وقت الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکا، آنے والی نئی
حکومت کے لیے صرف فاٹف کی گرے لسٹ ہی واحد چیلنج نہیں ہو گی۔ جون 2018 کے بعد جو بھی حکمران ہو گا اسے ایک بہت بری معاشی صورتحال سے نمٹنا ہو گا۔ غیر ملکی قرضے پہلے ہی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ امپورٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے کرنٹ اکاونٹ کا خاارہ بھی بہت تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ فارین ایکسچینج ریزروز بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ سود کی شرح میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ اور پاکستان کا بینچ مارک جو سٹاک انڈیکس ہے وہ بھی بہت تیزی سے گر رہا ہے اور غیر ملکی انویسٹرز اپنے شئیر بہت تیزی سے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔

Source : https://dailytimes.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *