مچھر بمقابلہ امریکہ

دنیا میں جتنے بھی چرند پرند ہیں، مجھے ان میں سب سے بہادر مچھر لگتا ہے جو بظاہر ایک حقیر سا کیڑا ہے۔جسے آپ اپنی ہتھیلیوں میں رکھ کر مسل سکتے ہیں۔ مگر وہ آپ کو سمجھتا ہی کچھ نہیں ہے ، وہ آپ پر حملہ آور ہوتا ہے اور ڈٹ کر ہوتا ہے، وہ ایک صاحب کردار دشمن ہے، آپ سوئے ہوئے ہوتے ہیں، اس کے لئے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ آپ کو کاٹے اور بآسانی وہاں سے فرار ہو جائے۔ مگر وہ اسے دشمنی کے آداب کے منافی گردانتے ہوئے آپ کے کان کے قریب آ کر اپنی زبان میں گھوں گھوں کرتے ہوئے پہلے آپ کو جگاتا ہے اور پھر کاٹتا ہے۔ آپ اس کے حملے کا جواب دینے کے لئے اپنا ہاتھ ہوا میں لہراتے ہیں اور وہ اتنی دیر میں اپنا ’’مشن ‘‘مکمل کر کے کسی دوسرے محاذ پر داد شجاعت دینے میں مصروف ہو جاتا ہے۔
مگر اس ’’حقیر سے کیڑے‘‘ کے مقابلے میں آپ دنیا کی ’’سپر پاور‘‘ امریکہ کو دیکھیں، وہ آپ کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتاہے، آپ آگے بڑھ کر اسے ’’جپھی‘‘ڈالتے ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ آپ کو’’جن جپھا‘‘ ڈالتا ہے اور یوں اس کے چنگل سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ وہ ہمارا ’’دوست‘‘ بن کر ہمیں اپنے ’’دشمن‘‘ سوویت یونین کے ’’خطرناک‘‘ عزائم سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے رستے آپ کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے، اور یوں پاکستان پر قبضے کی پلاننگ مکمل کر چکا ہے ۔ پھر وہ ہمارے مذہبی طبقے کو کمیونزم کے’’ اسلام دشمن‘‘ ایجنڈے کی ’’تفصیلات ‘‘ فراہم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت کم وقت میں ہماری حکومت جو پہلے ہی امریکہ کے ’’جن جپھے‘‘ کے شکنجے میں ہوتی ہے، پاکستانی عوام کو سوویت یونین کے اسلام اور پاکستان دشمن ایجنڈے کی راہ میں ’’ سیسہ پلائی دیوار ‘‘بنانے کے لئے مجاہدین کے جھتے تیار کرتی ہے اور یوں ڈالر پاکستان آتے ہیں، اسلحہ بارود کے ذخائر کا ڈھیر لگ جاتا ہے، کروڑوں ڈالر اوجڑی کیمپ میں اسلحے کے ذخائر میں ’’آگ لگنے سے‘‘ خورد برد ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ کیمونزم کی تباہ کاریوں کے خلاف لٹریچر کی بھرمار ہو جاتی ہے ، پھرمہنگی سے مہنگی گاڑیاں پاکستان کی سڑکوں پر نظر آنے لگتی ہیں ، ہمارے پاکستانی طالبان ’’افغانی طالبان‘‘ سے مل کر روسی فوجیوں کو افغانستان سے مار بھگاتے ہیں۔ سوویت یونین کو اس دوران گوربا چوف بھی تحفہ میں ملا ہوتا ہے جس کی بیگم امریکہ میں کروڑوں ڈالر کی شاپنگ کرتی ہے اور ایک دن دنیا کو یہ خوشخبری ملتی ہے کہ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں، اور وہ سب مسلمان ریاستیں بھی آزاد ہو گئیں ہیں جو سوویت یونین کے قبضے میں تھیں۔ پوری دنیا میں اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کا جشن منایا جاتا ہے اور خود ہم آج تک اس بات کا کریڈیٹ لیتے ہیں کہ ہم نے اسلام اور پاکستان کے اتنے بڑے دشمن کو شکست دی حالانکہ اس سے پہلے دنیا میں دو بڑے بدمعاش تھے۔ جن کے اختلاف سے بہت سے ملکوں کی جان بخشی ہو جاتی تھی۔ ایک بدمعاش امریکہ اور دوسرا سوویت یونین تھا۔ اس کے بعد صرف امریکہ رہ گیا۔ جہاں آج بھی اسلام اور پاکستان دوست ٹرمپ حکمران ہے!
اس ساری فتح و کامرانی کا انعام ہمیں کیا ملا؟لاکھوں افغان مہاجرین برس ہا برس سے پاکستان میں ہیں،ان کے علاوہ جن کو ہم نے ہتھیاروں سے مسلح کیا تھا، وہ ’’بے روزگار‘‘ ہو کر پاکستان میں دہشت گردی کا بھیانک کھیل کھیلتے رہے ہیں، انہوں نے نہ کوئی مسجد چھوڑی اور نہ کوئی چرچ، انہوں نے ہمارےاسکولوں کے پیارے ، پیارے بچوں کو گولیوں سے بھون دیا۔ وہ ہمارے بہادر فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے،انہوں نے ہماری مارکیٹوں میں بم بلاسٹ کئے اور سینکڑوں معصوم شہریوں کو شہید کر دیا۔ امریکہ نے ہم سے جو کام لینا تھا، وہ لے لیا ہمارے ملک کی چولیں ڈھیلی کر دیں، ہمسایوں سے ہمارے تعلقات اتنے خراب کر دئیے کہ تنہائی کا احساس پہلے سے زیادہ شدید ہو گیا ’’دوستی ‘‘ کا یہی کھیل اس نے دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی کھیلا۔ اور انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ان دنوں اس نے انڈیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہوا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ دوستی بھی اسی طرح اپنے انجام کو پہنچے جس طرح دوسرے ’’دوست‘‘ ملکوں کے ساتھ اپنے ’’انجام‘‘ کو پہنچتی رہی ہے۔
امریکہ سپر پاور ہے، اب اکیلی سپرپاور مگر میرے دل میں مچھر کے لئے عزت ہے ۔ اس سپر پاور کے لئے نہیں۔مچھر دشمنی میںبھی کردار کا مظاہرہ کرتا ہے، امریکہ آپ کو دوستی کی افیم کھلا کر سلا دیتا ہے اور اس کے بعد قاتلانہ حملہ کر دیتا ہے۔
اب آخر میں کالم کے موضوع سے ہٹ کر ایک بات! میں ان لوگوں سے صدق دل سے پیار کرتا ہوں، جو اپنی دوستی اور محبت کو آخری سانس تک نبھاتے ہیں ۔ آپ ہنسنا چاہیں تو دل کھو ل کہ ہنس سکتے ہیں کیونکہ جو بات میں اپنے منہ سے کہہ چکاہوں اس پر آپ کا ہنسنا بنتا ہے اور وہ بات یہ کہ متذکرہ خصوصیت کی بنیاد پر میں جن لوگوں سے صدق دل سے پیار کرتا ہوں ان ’’پیارے‘‘ لوگوں میں میں خود بھی شامل ہوں، میں آج تک اپنے ان عزیز دوستوں کے ٹیلیفون نمبر اپنی ڈائری سے ڈیلیٹ نہیں کر سکا۔ جنہیں انتقال کئے ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ اب سنجیدگی سے ایک خراج تحسین’’ واہ کے ‘‘ عباس ملک کو جو ایک عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں ۔ میں اس شخص پر حیران ہوتا ہوں ۔ ایک تو یہ واہ کو آج تک نہیں بھولا اور دوسرے اپنے دو استادوں کے لئے اس کے دل میں اتنا احترام اور محبت قائم و دائم ہے کے حیلے بہانے سے ان کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ ایک مختار بٹ صاحب جو اس کے سیاسی استاد تھے اور سوشلسٹ تھے ۔ دوسرے لازوال نعت گو منظور کویتی صاحب جنہیں وہ فن نعت گوئی میںاپنا استاد گردانتا ہے۔عباس ملک نے مجھے ان کی ایک غیر معروف نعت کی ریکارڈنگ بھی ارسال کی۔ جو میں یہاں درج کرنا چاہتا تھا۔ مگر منظور الکویتی صاحب کی اس سے کہیں زیادہ خوبصورت نعتیں موجود ہیں جو میں آئندہ کبھی یہاں درج کرونگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *