نواز شریف VSآصف علی زرداری

’’مولا بخش چانڈیو بنام نواز شریف‘‘ کا گزشتہ عنوان ایک حوالے پر ختم کیا گیا تھا یعنی ’’احد چیمہ کی گرفتاری ٹائمنگ کے ساتھ ترپ کی بہت بڑی چال ہے، اس نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ والے بیانئے کو بھلا دیا ہے، جوابی وار کے لئے شریف برادران کو اب کوئی نئی چال سوچنا ہو گی۔
کیا نواز شریف کی ذہنی اپروچ اور عملی رویے پر بیا ن کردہ اندیشے کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں، ان کے گزرے صرف دس پندرہ دنوں کے تازہ ترین بیانات کو بطور مثال ایک بار اپنی نظروں سے گزاریں، آپ بے ساختہ کہہ اٹھیں گے ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے متوقع اندیشوں کا نواز شریف پر کوئی اثر تو درکنار اس کا تصور تک دکھائی نہیں دے رہا، ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی مقدس سنسنی خیزی کو مسترد کر دیں، جلسوں میں موجود عوام اور اخبارات کے لاکھوں قارئین تک ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی رسائی ہی نہیں، ان تک نواز شریف کا وہ بیانیہ ہی پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے خطرات کی سرخ بتیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان دس پندرہ دنوں کا بیانیہ دو تین ماہ کے نواز بیانئے سے کہیں آگے بڑھا ہے، نواز بیانئے کا تازہ ترین منظر نامہ بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔
-oآمروں نے آئین کو زخم کچھ ججوں کے ذریعے لگائے، پارلیمنٹ کا بنایا نیا قانون ختم کرنا خطرناک ہو گا، پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہو جائیں تو یہ کون سا آئین ہے، پارلیمنٹ کو دنیا بھر میں اداروں کی ماں سمجھا جاتا ہے، عدلیہ اگر آئین کو بالاتر دستاویز سمجھتی تو جمہوریت 70سال سے یوں رسوا نہ ہوتی۔
-oکمزور فیصلہ ہے، عمران خان نے بھی کہہ دیا تو میں کیوں نہ پوچھوں، اٹل فیصلہ کر لیا، جو ووٹ کی عزت نہیں کرے گا ہم بھی اس کی عزت نہیں کریں گے۔
-oپاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے غیر رسمی اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک خوبصورت شعر پڑھا؎
دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر
یہ نورِ خدا ہے اسے بے نور نہ کر
نااہل و کمینہ کی خوشامد سے اگر
جنت بھی ملے تجھ کو تو منظور نہ کر
-oمیرا بیانیہ عوام کے دلوں میں اتر چکا، اب ووٹ کی عزت کے لئے فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔ ملک کو 70سال سے لگی بیماری کو ختم کرنے کا وقت آ گیا۔ نواز شریف کی مہر اور دستخط ایٹمی پروگراموں، ہوائی اڈوں، بجلی کے کارخانوں اور اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے ججوں کی تعیناتی پر بھی ہیں پھر انہیں بھی ختم کر دو۔ ووٹ کا تقدس پیروں تلے روندنے والی سکھا شاہی قبول نہیں، فیصلے کرنے والوں کا ابھی دل نہیں بھرا، مجھے الیکشن سے مستقل باہر کرنے والا ایک اور فیصلہ آنے والا ہے۔ عام انتخابات میں صرف ووٹ نہیں ڈالنا انقلاب لانا ہے، ہم نے اس نظام کو ختم کرنا ہے جس نے آپ کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہ فیصلے غصے اور انتقام میں آ رہے ہیں، سارا انتقام مجھ پر نکالا جا رہا ہے، جب فیصلے انتقام اور غصے میں ہوں تو ایسے فیصلوں کا یہی حشر ہوتا ہے جو عوام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو فارغ کر دیا اور کہا، چلو گھر جائیں کروڑوں ووٹروں کی کوئی پروا نہیں، 5بندوں نے منتخب وزیراعظم کو فارغ کر دیا، یہ آپ کی اوقات ہے، ان کے دل میں آپ کے ووٹ کی کوئی عزت نہیں، کیا سکھا شاہی آپ کو منظور ہے؟ اگر یہ کہتے نواز شریف نے فلاں ٹھیکے میں پیسے کھائے، خورد برد کی، قومی خزانہ لوٹا تو میں مجرم ہوتا لیکن بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا، یہ وزیراعظم کے ساتھ سلوک ہوا ہے، یہ بے عزتی منظور ہے؟ یہ فیصلے پہلے بھی آئے اور اب بھی آ رہے ہیں، 70سال میں کچھ نہیں بدلا، اگلے 70سال پہلے 70سال سے بہتر ہونے چاہئیں، مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے پارٹی کا ٹکٹ چھین کر کیا ملا؟ فیصلہ آج دے رہے ہو، امیدوار ایک ہفتہ پہلے میدان میں آ چکے تھے، اس نظام نے پاکستان کے عوام کا خون چوس لیا، ان کی قسمت کے ساتھ کھیلا گیا، آپ شوق سے ووٹ ڈالتے ہیں، وہ کہتے ہیں لے جائو اپنا ووٹ، بڑا ووٹ لے کر آتے ہیں‘‘ کیا اس بیانیے کی شدت گزرے نہیں چار مہینوں کے بیانیوں کی شدت سے کہیں آگے نہیں اور کیا نواز شریف کسی اور ’’مقام‘‘ پر ’’اندرونی مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی THRILLSکا کوئی بھی پریشر یا تاثر قبول کر رہے ہیں؟
چنانچہ ایک صاحب دانش نظر کا دکھانا یہ ہے:’’اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ٹکر لے سکتا ہے تو وہ نواز شریف ہی ہے، اس سے پہلے جس نے ٹکر لی وہ بھٹو سمیت عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا، پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی اتحادی تھی، اب اس کے ساتھ لڑائی ہے، نواز شریف کے ذریعے ہی پنجاب میں انتہاء پسند لابی کو غیر موثر کیا جا سکتا ہے، پاکستان کے لبرل اور سیکولر طبقے اس معاملے میں امریکہ اور نواز شریف کے ہمنوا ہیں، یہ ان کے لئے سنہری موقع ہے کہ 70سالہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میںطاقت کو توڑ کر رکھ دیا جائے، یہ اب نہیں تو کبھی نہیں کا معاملہ ہے، امریکی ایجنڈے کے مطابق اب برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا کلچر پروان چڑھے گا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں ختم ہو جائیں گی لیکن جنگ اور دشمنی کی فضا ختم ہو جائے گی، پاکستانی اور بھارتی پنجاب، سندھ، کراچی اور ممبئی انتہاء پسندوں کو بے معانی بنا دیں گے۔ (یہاں پر صاحب دانش یہ کہنا بھول گئے، یہ کہ مستقبل قریب میں’’ہمسایوں سے نارمل تعلقات‘‘ کا علمبردار کوئی آصف زرداری کردار کشی کا نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکے گا) لیکن اس راستے پر چلتے چلتے بیچ میں گہری کھائی بھی آ سکتی ہے، ’’اکانومسٹ ہو یا نیو یارک ٹائمز‘‘وہ امریکی برطانوی مفادات کو خوب سمجھتے ہیں، بلاوجہ ان کا کالم نواز شریف کے حق میں نہیں چلتا‘‘۔
اتفاق سے ’’اکانومسٹ‘‘ کی اس پس منظر میں ایک ’’اکانومسٹ‘‘ کی ایک تازہ ترین تحریر کے چند جملے بھی پڑھتے جائیں، جریدے کا کہنا ہے:۔
’’اکانومسٹ‘‘ اور ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے جملے مذکورہ پس منظر کی تصدیق کرتے ہیں، مثلاً ’’اکانومسٹ‘‘ کا کہنا ہے ’’سینیٹ انتخابات میں ’’ن‘‘ لیگ کو نقصان پہنچانے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ن لیگ کے امیدواروں کو الیکشن کمیشن نے ’’آزاد امیدوار‘‘ کے طور پر انتخابات لڑنے پر مجبور کیا۔ ایسا کون ہو سکتا ہے جو حکمران جماعت مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے انتخابی نشان ’’شیر‘‘ کو ’’ٹرک‘‘ میں تبدیل کر دے؟ تبدیل شدہ ’’لوگو‘‘ سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدواروں پر زبردستی تھوپے گئے‘‘۔ اور ’’نیو یار ک ٹائمز‘‘ کی نظر میں، ’’مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے حالیہ عدالتی فیصلے پر نواز شریف کے تنقیدی ردعمل میں کوئی تعجب نہیں، جج صاحبان نجات دہندہ کا جو کھیل کھیلتے ہیں وہ ملک کے لئے خطرناک ہے، مشرف نے دو ٹوک کہا تھا کہ ان کے خلاف متعدد کیسز میں فوج نے مداخلت کر کے انہیں عدالت سے ضمانت دلائی، مشرف پر آئین سے غداری کا الزام ہے، انہیں آرام دہ اور پُر سکون جلا وطنی میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ عدلیہ نواز شریف کی طرح کبھی بھی مشرف کو اپنی پارٹی کی سربراہی سے نہیں روک پائی، پاکستانی جج صاحبان اپنے کام کو ’’جاب‘‘ سمجھ کر کریں، گاڈ فادر کا حوالہ دینے کے بجائے قانون کی کتابوں کا حوالہ دیں، جج صاحب صرف انصاف ہی نہیں کرنا چاہتے، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جانا چاہئے، جج صاحبان اپنی آوازوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کو ایک ’’ٹاک شوز‘‘ کی طرح چلانا چاہتے ہیں، جج کو خود نہیں بلکہ ان کے عدالت میں کئے گئے فیصلوں کو بولنا چاہئے، عدلیہ نے بھی فوجی آمروں کے سامنے دوسرے الفاظ میں ’’ملازم‘‘ کا کردار ادا کیا، مشکوک الزامات پر منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی، ایک اور منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دینے میں ناکام رہی‘‘
یہ وہ لمحہ ہے جب ’’اکانومسٹ‘‘ اور نیو یارک ٹائمز کی تجزیاتی آرا میں اپنے وطن کے ایک صد واجب الاحترام سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد کے اس نظریے کو قومی تاریخ کے تسلسل کی دستاویز کا حصہ بنانا ہمارے قومی فرائض سے جڑا ہوا ہے، وہ نظریہ یہ ہے:۔ ’’سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوتی ہے‘‘
یہی وہ لمحہ ہی ہے جب ہم پاکستان کے وژنری قومی رہنما آصف علی زرداری کے ’’نواز اور پاکستان اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے مابین جاری محاذ آرائی کے فریم میں اس دعوے کا جائزہ لئے بغیر نہیں گزر سکتے جس میں انہوں نے کہا:۔ ’’وہ دن دور نہیں جب صدر، وزیراعظم اور چاروں صوبوں کا وزیر اعلیٰ جیالا ہو گا‘‘، یہ جائزہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی اس قسم کے احترای تذکرے کی ایک منطقی تصویر بھی اجاگر کر سکتا ہے جب انہوں نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، خواہش ہے عوام کو روٹی اور صاف پانی مل جائے‘‘ گفتگو ابھی جاری رہے گی! انشاء اللہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *