قاسمی صاحب کا قصور

نوید چودھری

جناب عطاء الحق قاسمی کے خلاف جاری کردار کشی کی مہم اور مقدمہ بازی پر ایک لطیفہ یاد آگیا۔افسروں کا تین رکنی پینل نوکری کیلئے نوجوان امیدواروں کے انٹرویو لے رہا تھا۔ اتنے میں کسی بڑے کا فون آگیا کہ فلاں امیدوار کو نوکری دے دو باقی سب کو بہانے سے ٹرخا ڈالو۔ پینل باقی ماندہ امیدواروں کو مشکل سوالات کر کے دھڑا دھڑ مسترد کرنے لگا۔ ایسے میں ایک غیر معمولی طور پر ذہین امیدوار سامنے آگیا۔ پینل میں شامل ایک افسر نے کہا 1924 ء میں شمالی امریکہ میں ایک بحری جہاز ڈوب گیا تھا اس کا نام کیا تھا۔ امیدوار نے جھٹ سے بتا دیا۔ دوسر ے نے پوچھا کہ اس پر کتنے مسافر سوار تھے اور حادثے کا درست وقت کیا تھا، امیدوار نے اس کا بھی فوراً جواب دے ڈالا۔ پینل میں شامل افسران گھبرا گئے اور پوچھا کہ یہ بتاؤ کتنے مرد، کتنی عورتیں اور کتنے بچے سوار تھے۔ امیدوار نے فر فر یہ تعداد بھی بتا ڈالی۔ پینل والے ہکا بکا رہ گئے، ان کے دماغ گھومنے کے قریب تھے کہ ایک ’’بابے افسر‘‘ کو اچھوتا خیال سوجھا۔ اس نے ایک کاغذ اور قلم امیدوار کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا برخوردار ’’اب ان سب کے نام اور پتے لکھ کر ہمارے حوالے کر دو‘‘
اتوار کی روشن صبح عطاء الحق قاسمی صاحب کی عیادت کے لیے ان کے گھر پہنچا تو وہ پہلے ہی سے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ٹانگ کی ہڈی میں فریکچر کے باعث پلستر نے ان کی جسمانی نقل و حرکت کو قدرے محدود کررکھا ہے لیکن وہیل چیئر، صوفے یا کرسی پر بیٹھ کر بھی وہ اپنی سرگرمیاں پوری طرح سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قاسمی صاحب کو یہ حادثہ ان کی سالگرہ کے دن پیش آیا۔ آواری ہوٹل میں یکم فروری کو ہونے والی ان کی 75 ویں سالگرہ کی تقریب اس قدر بھرپور، باوقار اور شاندار تھی کہ ہر کوئی بڑے ہال کے اندر ہی ایک دوسرے کو اپنے تاثرات سے آگاہ کررہا تھا۔ کھانا شروع ہو چکا تو قاسمی صاحب بھی شرکاء سے کھل کھلا کر گفتگو کرنے کے بعد واپس سٹیج کی طرف آگئے۔ میں نے انہیں دیکھا تو کہا کہ آپ بھی ڈنر کیلئے تشریف رکھیں، اسی لمحے ان کا پاؤں قالین سے الجھا اور وہ گر گئے۔ میں نے فوری طور پر اپنی نشست سے اٹھ کر انہیں پکڑا۔ وہ تکلیف محسوس کررہے تھے مگر ایسا احساس ہر گز نہ تھا کہ ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ قاسمی صاحب چند نشستیں چھوڑ کر اسی کرسی پر جابیٹھے جہاں وہ تقریب کے دوران براجمان تھے۔ اسی دوران کھانے سے فراغت کے بعد مہمانوں نے رخصت چاہی۔ میں بھی انہیں الوداع کہہ کر تقریب کی خوشگوار یادیں ساتھ لیے واپس چلا آیا۔ اگلے ہی دن سپریم کورٹ میں اچانک قاسمی صاحب کے بطور چیئرمین پی ٹی وی مختصر عرصہ کی تقرری کے حوالے سے ایک کیس آیا اور پھر میڈیا کی مخصوص لابی نے طوفان بدتمیزی برپا کر دیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ قاسمی صاحب نے اپنی سالگرہ سے چند روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ تقریب میں اپنی تقریر کے دوران میں نے قاسمی صاحب کے اس فیصلے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اپنی عزت نفس پر کسی طور پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ پی ٹی وی میں جب انہیں موافق ماحول نہیں ملا تو انہوں نے عہدے سے چمٹے رہنے کی بجائے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔ ذاتی طور پر میرے علم میں تھا کہ وزارت اطلاعات کے بعض اہم عناصر قاسمی صاحب سے بہت گھبراتے تھے، مافیا نہیں چاہتا تھا کہ پی ٹی وی کو معیاری ادارہ بنانے کیلئے قاسمی صاحب کو کسی بھی طرح کا فری ہینڈ ملے۔ یہ کشمکش ان کی تقرری کے روز سے ہی جاری تھی۔ عطاء الحق قاسمی صاحب کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ فطرتاً آسانیاں اور بھلائیاں بانٹنے والے شخص ہیں۔ دوستوں کو کیسے ساتھ لے کر چلنا ہے وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ ہماری قوم کے اکثر ’’ہیرو‘‘ قریب سے دیکھنے پر زیرو نکلتے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب پر اللہ کی رحمت ہے کہ جتنا بڑا نام اس سے کہیں بڑا انسان۔جہاں تک ان کے ادبی قد کاٹھ کا تعلق ہے تو بڑے بڑے شعراء اور لکھاری یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم عہد قاسمی میں رہ رہے ہیں۔ قاسمی صاحب ایک مضبوط سیاسی سوچ رکھتے ہیں کہ ہر کسی کو آئین کے دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے وہ ہم آہنگی سب سے زیادہ نواز شریف میں پاتے ہیں۔ اسی لیے جب سے ان کا نواز شریف کے ساتھ تعلق بنا ہے پھر کبھی اس میں کوئی دراڑ نہیں آئی۔ مشرف مارشل لاء ہو یا کسی اور جماعت کی حکومت مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف سے ان کی محبت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جناب عطاء الحق قاسمی کا ادبی اور صحافتی قد اتنا بلند ہے کہ عہدے اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ شاہکار ڈرامے ہوں یا لاجواب کالم، دل کو چھو لینے والی شاعری ہو یا ایسا مزاح کہ ایک ہی فقرے میں پڑھ کر ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے سعادت مند اور لائق اولاد سے نوازا، تینوں بیٹے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ مال و زر سے کبھی رغبت ہی نہیں رہی تو کرپشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے سپریم کورٹ میں جب یہ مسئلہ سامنے آیا تو میں نے اب تک اسے لایعنی جانتے ہوئے لکھنے سے گریز کیا۔ ایسا نہیں کہ مجھے علم نہ تھا کہ کیا ہورہا ہے بلکہ یہ بھی پتہ تھا کہ کیوں ہورہا ہے؟ اس حوالے سے قاسمی صاحب کے کئی چاہنے والوں نے کھل کر لکھا ہے۔ خود قاسمی صاحب نے بھی جناب چیف جسٹس کو مخاطب کر کے دو کالم تحریر کیے ہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی قاسمی صاحب کو رتی برابر پروا نہیں۔ وہ گریڈ 20 کے پروفیسر رہے۔ ایک چابک دست سفارتکار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور پھر جب الحمرا کی سربراہی سنبھالی تو مردہ گھوڑے میں جان ڈال کر ایسی ایسی تقریبات منعقد کرائیں کہ دنیا داد دیتی رہ گئی۔
ان گزارشات کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ یہ عظیم تخلیق کار حیرت انگیز انتظامی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہیں، سو اسی لیے جب انہیں پی ٹی وی کی چیئرمین شپ ملی تو پورے ملک میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ اب سرکاری ٹی وی میں بھی نئے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ ایسا ہونا شروع بھی ہو گیا۔ چارج سنبھالنے کے بعد ان کی جانب سے اٹھائے گئے محض چند اقدامات کے بعد ہی یہ واضح ہونے لگا کہ ادارے کی سمت درست ہورہی ہے۔ ایسے میں اپنے پیشہ ورانہ کام سے مخلص پی ٹی وی کے افسران اور کارکن بھی ان کے دست و بازو بننے لگے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ادارے پر بوجھ بنے کام چور عناصر نے سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے۔ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ جناب عطاء الحق قاسمی کے دیرینہ، مضبوط اور بے تکلفانہ تعلقات کو بھی ایسے عناصر اپنے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس کرنے لگے۔ یہ ممکن تھا کہ قاسمی صاحب جیسا بڑا آدمی ان رکاوٹوں کے حوالے سے وزیراعظم کو ایک شکایتی بچے کی طرح معاملات سے آگاہ کرتا۔ اپنی وضع داری کے پیش نظر انہوں نے مناسب مواقع پر مہذب انداز میں متعلقہ حلقوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ دیکھا کہ سیاسی اور سرکاری عناصر مل کر اس قدر گند ڈالنے پر لگے ہیں کہ اب یہاں رکنے والا خود کو چھینٹوں سے محفوظ نہ رکھ سکے گا تو استعفیٰ دے دیا ، اس کے باوجود ن لیگ سے اپنے تعلقات پر کوئی حرف نہیں آنے دیا۔رائے ونڈ میں نواز شریف نے انہیں کھانے پر مدعو کر کے کوئی حل نکالنے کی پیش کش کی تو انہوں نے معذرت کر لی۔ اس ساری پیش رفت کے ساتھ ساتھ ایک اور کام بھی جاری تھا، پیمرا کے متحرک چیئرمین ابصار عالم عدالتی حکم سے فارغ ہو گئے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے دیانتدار اور متحرک چیئرمین صدیق الفاروق کو ہٹا دیا گیا۔ قاسمی صاحب استعفیٰ تو پہلے ہی دے چکے تھے مگر ان کو رگیدنے کی نیت سے معاملے کو غلط رنگ دے کر میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں پوری دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ قاسمی صاحب جیسی قد آور شخصیت ادب کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی ٹاسک پورا کرنے کی بھی بھرپور اہلیت رکھنے کی صفائی دینا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان کے خلاف مقدمات اور ریمارکس سے جو عناصر اپنے مقاصد پورا کرنا چاہتے ہیں ان کو جلد ہی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دھونس اور دباؤ سے عطاء الحق قاسمی کو جھکنے پر مجبور کر دے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ حاسدین کو خبر ہونی چاہیے کہ ڈر، خوف یا خدشات قاسمی صاحب کو چھو کر بھی نہیں گزرے۔ وہ لڑکپن میں پہلوان تھے اور یہ فائٹنگ سپرٹ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھی ہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو جلد ہی جان لے گا کہ اس مہم میں کون کون منہ چھپائے پھرتا ہے۔ قاسمی صاحب کا سب سے بڑا قصور نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہارون الرشید جیسے بھی اس مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں جنہوں نے شاید ہی کوئی پارٹی چھوڑی ہو اور بالآخر ’’بوٹ نشین‘‘ ہو کر عافیت ڈھونڈ لی۔ قاسمی صاحب کا سیدھا سا اصول ہے جس کے ساتھ کھڑے ہو گئے کھڑے رہے۔ انشاء اللہ ان کے خلاف مقدمے سے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر کوئی زبردستی کچھ کرنے کا ارادہ باندھے ہوئے ہے تو اس کو دیکھ لیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *