میں ایک عورت ہوں اور۔ ۔ ۔

حنا سعید

میرے پیارے بابا .....میں اپنا تعارف نہیں کروانا چاہتی میں کون ہوں میرا نام کیا ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے بس میں ایک عورت ہوں اور یہی میری پہچان ہے۔ دن مہینوں میں بدلتے گئے اور مہینے سالوں میں نہیں بدلی تو چار دیواری میں سسکتی ایک عورت کی قسمت،نہیں بدلے تو اصول ،رسم و رواج۔باپ بھائی خاندان سب کی عزتوں کے نیچے دفن کر دی جاتی ہوں اور کبھی اس سے رہائی کا سوچو بھی تو باہر کے بھڑیوں سے ڈرا دی جاتی ہوں۔ عورت کی زندگی میں کئی ایسے دن بھی آتے ہیں جب اسے تکلیف کی حدوں کو چھو کر بھی مسکرانا پڑتا ہے،باپ کا گھر بھائی کا گھر،شوہر کا گھر، بیڻے کا گھر،،ہر گھر میں وہ اپنی جگہ ڈھونڈی ڈھونڈی تھک جاتی ہے۔ مجھے کوئی گلہ نہیں اپنے رب سے،بے شک اس نے بڑا مرتبہ عطا کیا مجھے،لیکن اس دنیا نے وہ مقام مجھے دیا ہی نہیں۔ میں نے دیکھا جب بابا نے مجھے لاڈ سے اڻھانا چاہا تو کسی نے کہا بگڑ جائے گی،،بابا کے میری طرف بڑھتے ہاتھ رک گئے، میں نے دیکھا جب بھائی نے مجھے مسکرا کر دیکھا تو کہا گیا سختی برتو ورنہ خود سر ہو جائے گی۔شوہر نے ہاتھ تھامنا چاہا تو کہا گیا سر چڑھ جائے گی اور خالی ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔پھر بھی میں نے دیکھا ہر مقام پر عورت کی ہی ضرورت تھی۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک عورت ہوں،میرے صبر میری سچائی سے میرے رب نے میرے پاؤں میں جنت رکھی۔میں خوش ہوں بابا،، کہ آپ نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو تھا۔کیا ہؤا جو میں گمنام ہوں، کیا ہؤا جو میری آواز نہیں سنی جاتی، کیا ہؤا جو میرے گر جانے پر مجھے خود ہی اڻھنا پڑتا ہے،پر آج، مجھ میں اتنی ہمت اتنا حوصلہ اور صبر آگیا ہے بابا کہ بڑے سے بڑے دکھ کا ہنس کر سامنا کرتی ہوں،،آپ کی شہزادی بہت بہادر ہوگئ بابا،، بہت بہادر۔۔۔۔۔۔حنا سعید۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *