تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

چند مرد چوک میں کھڑے کافی دیر سے محلے میں  دفتر جانے والی عورتوں کو موضوع سخن بناے کھڑے تھے ۔زیادہ تر کا یہ کہنا تھا  کہ یہ گمراہ آزاد خیال عورتیں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کا سارا ڈھانچہ متزلزل ہے بلکہ دھڑن تختہ ہوچکا ۔ بس چلتا تو شاید ان پہ آبرو باختہ ہونے کا فتوی اور کوئ ڈگری بھی جاری کر دیتے ۔ان دفتر جانے والیوں میں ان کی طرح ہر طرح ، ہر قسم کی خواتین تھیں عیار،مکار ، بُری ، بدنام زمانہ اچھی بہت اچھی اور بہت شریف اور معزز اپنے گھرانوں کی کفیل ،ان کا قابل فخر سرمایہ۔

جب یہ غیبت پروگرام ذہن کو لذت کی بجائے اب اکتاہٹ و تھکن دینے لگا اور شاید کھڑے کھڑے ٹانگوں نے بھی جواب دے دیا تو اک ذرا   مدبر  شخص نے کہا "آج کی عورت اسلام سے دور ہوکر گمراہ ہوگئی ہے۔"گفتگو پھر کچھ دیر کو گرم ہوئی۔کچھ تیکھے زبان کو لذت دیتے جملوں کا اضافہ ہوا ۔ آخر کار یہ اہم میٹنگ اس جملے پہ ختم ہوگئی کہ چھڈو جی یہ عورتیں تو ہوتی ہی پرلے درجے کی چغل خور ہیں ۔

میرا ڈرائیور باہر گلی میں سبزی والے کے پاس کھڑا اپنے کسی چچازاد کا قصہ بیماری و تیمار داری سنا رہا تھا جس کالب لباب یہ تھا کہ بیماری  وغیرہ کچھ نہیں تھی چکر کسی سائے اور آسیب کا تھا کسی فلانے ٹمکانے بابے کو بلا کر دم دُرود کروایا گیا تو وڈے پائ جان کو ہوش آیا اور وہ اپنے حواسوں میں واپس آگئے ۔سبزی والے نے بھی راگ کو وہیں سے اٹھایا جہاں سے تان ٹوٹی تھی ۔اسی نے بھی اسی طلسم ہوشربا میں سے کوئ چٹپٹا قصہ برآمد کیا جہاں سے  کوئی چڑیل بھی برآمد ہوگئی تھی اور ان دونوں قصوں میں ایک مشترک قدر متاثرین کی بیویاں تھیں جو سخت " جاہل " تھیں اور تنگ کرنے میں ستانے میں ان کو ید طولی حاصل تھا ۔آخر یہ قصہ بھی اس جملے پہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا ۔او چھڈو جی اناں عورتاں نوں ،اے تے ہندیاں ای جاہل تے پٹھی مت دیاں،عقل توں تھوڑیاں نے یہ کہ کر وہ دونوں صاحبان " دانش " اپنی راہوں کو ہولئے۔

ڈرائنگ روم کافی ، سگریٹ اور ماحول میں  ہونے والی گرما گرم بحث سے مرطوب تھا ۔عالمی منظر نامہ زیر بحث لایا گیا ۔عالم اسلام کی بے حسی اور بے بسی ،افغانستان اعراق ، شام ، لبنان ، بوسنیا ۔خون و خاک سے لتھڑے داعش ، طالبان ۔ جنگیں ، وحشی خونخوار جنگجو چہرے اور معصوم بے بس عوام ،بچے ،عورتیں،بوڑھے ،جوان ۔عالمی قوتوں کی عیاری مکاری جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل ہی چکی تھی ۔اس جنگ کی اور تاریخ میں جنگ و جدل کے مزاج پہ خوب گرم بحث چل رہی تھی ۔رات کافی بھیگ چکی تھی ۔شاید صاحب خانہ کی اہلیہ کا صبر لبریز ہوا تھا یا پھر موصوفہ کچھ تیکھے مزاج کی تھیں ۔وہ ڈرائنگ روم میں آئیں اور  کچھ سخت سست سنا کر چلی گئیں۔محفل کا رنگ پھیکا پڑگیا بلکہ رنگ میں بھنگ پڑگیا ۔جاتے جاتے وہ صاحب جو جنگوں کی نفسیات و تاریخ پہ اتھارٹی سمجھے جاتے تھے اور پوری محفل میں بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے ، جاتے ہوئے یہ کہتے سنے گئے کہ یار یہ عورتیں کس قدر جھگڑا لو اور امن کی دشمن ہوتی ہیں ۔

اس بیٹھک میں ایک ساٹھ سالہ حالیہ ہوئے رنڈوے بابا جی کی دوسری  شادی خانہ آبادی زیر بحث تھی ۔معاملات تقریبا طے ہی تھے ۔سب مرد حضرات کے چہرے کھلے پڑتے تھے ،جملے کسے جارہے تھے ،لطیفے چل رہے تھے۔کسی منچلے نے کہا بابا جی شادی کی کیا ضرورت ۔اللہ اللہ کرتے۔۔۔بابا جی اکڑ کر بولے او پتر مرد ساٹھا پاٹھا عورت بیسی کھیسی ۔مرد کھبی بڈھا نہیں ہوتایہ کہہ کر جو وہ جوش سے اٹھے تو گھٹنہ بل کھا گیا اور منہ سے آہ نکل گئی۔تقریب کے اختتام پہ دولہا صاحب اپنے قریبی دوست سے سنیاسی باوا جی کی پڑیوں کی بابت سرگوشیاں کرتے پائے گئے۔

آفس میں ملازمین نے ملی بھگت کی اور آنے والے ایماندار افسر کو معطل کروا دیا ۔کینٹین میں اس کار خیر پہ دعوت اڑای جارہی تھی ۔اس دعوت کے آخر میں ایک صاحب جانے کس بات پہ بولے " اررے بھئ یہ عورتیں بڑی سازشی ہوتی ہیں۔ "

اخبار میں خبر چھپی ۔بلکہ ایسی خبروں سے تاریخ داغدار و سیاہ ہے کہ ملکی راز شراب و شباب کے نشے میں اگلوا لئے گئے اور متعلقہ افسر یا ایجنٹ یا وزیر یا امیر عبرت ناک موت سے دوچار ہوا مگر مکالمے کی تان ٹوٹی کہ عورت پیٹ کی ہلکی ہوتی ہے۔

بدکاری ہو یا پھر زنا ،جبری زنا کی سیاہ کاری ہو یا کوئی اور صورت ہو غلاضت کی ،لفظوں کا پتھر آئے گا تو صرف عورت کو رجم کرے گا ۔فاحشہ ، طوائف ،آبرو باختہ  یا پھر ہائے ہائے بے چاری کی عزت لٹ گئی۔

مرد کی عزت کیا ہوتی نہیں ؟  پھر آبرو باختہ ہونا اپنی عزت کی حفاظت کرنے کے فریضے سے اسے بَری کردیا گیا ہے ۔وہ معاشرہ جہاں مردوں کے بازار بھی ہمیشہ کسی نہ کسی صورت موجود رہے ہیں اور اب تو بہت جدید شکل اختیار کر چکے  جہاں مرد بھی بازار کی عورت کی طرح اپنی نمائش کرتے ہیں اس کے باوجود وہ اس جرم میں بَری ہیں ، بَری کس نے کیا ہے تاحال وہ مجرم نادیدہ ہیں۔

مردوں کا ایک غول اٹھتا ہے بلکہ غول کی بھی کیا ضرورت ایک بچہ بھی اشتعال میں آتا ہے اور کسی شک کی بنا پہ بہن کو قتل کردیتا ہے مگر جذباتی مخلوق عورت ہے ۔

آپ کا مزاح ،اپ کی تفریح آپ کے لطیفے ،سب عورت کی،  بیوی کی اینٹ پہ کھڑی کی گئی  کھوکھلی عمارت ہے جس میں ہماری شرمندہ سی آنسووؤں میں گھلی ہنسی شامل ہوتی ہے ۔

یوم نسواں پہ ہونے والی سب تقریبات ، تقاریر کرنے والوں سے بس میرا ایک سوال ہے کہ آپ کا مکالمہ ہمیں کب انسان سمجھ کر سماجی مساوات جیسا بنیادی حق ہمیں  دے گا اور جب تک یہ ہتھیار آپ کے ہاتھوں میں ہے آپ کو اور کسی ہتھیار کی کیا ضرورت بھلا ۔آپ تو لفظوں سے قتل کرتے ہیں ۔ہم سے حساس تو لفظوں سے ہی مر جایا کرتے ہیں۔تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *