تنازعے کا واحد حل صلح ہے

یوں لگتا ہے کہ پاکستا ن میں سب سے زیادہ عوامی حمایت کا دعویٰ رکھنے والی جماعت اورریاستی اداروں کے درمیان تنازعہ بڑھتا چلاجا رہا ہے۔ مجھے ایک سیاسی جماعت کے مستقبل کے بارے کوئی خاص فکر نہیں ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں مختلف مارشل لاوں میں ان حالات کا سامنا کرنے کی عادی ہوچکی ہیں مگر اس وقت توبظاہر کوئی مارشل لاء بھی نہیں ہے ۔ یہ پاکستان میں سیاسیات کے طالب علموں کے لئے مطالعے اور تجزئیے کے لئے ایک نیا منظر نامہ ہے کہ ایک جماعت کی وفاق کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے صوبے میں حکومت بھی ہے اور وہ عملی طور پران مشکلات کا بھی سامنا کر رہی ہے جن کا سامنا اس سے پہلے کی حزب اختلاف میں موجود جماعتیں کرتی رہی ہیں ۔ ایک طرف سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ نون کے خلاف دکھائی اور نا دکھائی دینے والے فیصلے آنے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف جمہوریت پسندوں کے دل میں غصہ اور لہجے میں تلخی بڑھتی چلی جا رہی ہے جو کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والی ہدایات کے بعد مسلم لیگ نون کے سربراہ محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر ارکان کو قومی احتساب بیورو کا بھی سامنا ہے جبکہ ماضی میں ’نیب‘ اپوزیشن رہنماوں کو ہی ٹارگٹ بناتا تھا مگر اس مرتبہ اس کی خاص نظر حکمران جماعت پر ہے۔مجھے سیاسیات کے طالب علم کے طور پر اس وقت مسلم لیگ نون کے لئے حکمران جماعت کا لفظ استعمال کرتے ہوئے عجیب سا محفوظ ہو رہا ہے کیونکہ عملی طور پر ریاستی ادارے اور اہلکار اس پارٹی کے ساتھ اس طرح تعلق نہیں رکھ رہے جس طرح آئینی بالادستی کے حامل مہذب معاشروں میں ہوتا ہے۔ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں مگر حکومت کا اپنا ایک مرتبہ ، رعب اور وقار ہوتا ہے جو پاکستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت سے چھینا جا چکا ہے۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ عملی طور پر اس وقت اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی اسی طرح کے سٹیٹس کو انجوائے کر رہی ہیں جو ترقی پذیر معاشروں میں حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ اپوزیشن کی یہی جماعتیں ہی اس وقت ریاستی اداروں کی ترجمان بنی ہوئی ہیں جو بنیادی اور آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری اور استحقاق ہے۔ معاملہ یہاں تک آن پہنچا ہے کہ اپوزیشن رہنما ریاستی اداروں کے حوالے سے مسلم لیگ نون بارے جو پیشین گوئی کرتے ہیں ، وہ درست ثابت ہوجاتی ہے۔

پاکستان کی ریاست ایک گروہی معاشرے اور قبائلی مائنڈ سیٹ میں پھنسی ہوئی ہے جہاں میرٹ، انصاف اور حقوق کی بات پس منظر میں جا رہی ہے۔ ایسے معاشروں میں متحارب گروہوں کے درمیان فیصلہ دو ہی طریقوں سے ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو ختم کر دے یا کوئی بڑا اور بزرگ اپنا کردارادا کرے اورمصالحت کا کوئی فارمولہ بنا دے۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ریاستی ادارے مسلم لیگ نون کو ختم کر دیں گے۔ ہمارے دانشوروں کے ایک گروہ کے مطابق یہ مقصد میاں نواز شریف کو نااہل کرتے، پارٹی صدارت سے ہٹاتے اور کرپٹ ثابت کرتے ہوئے نہائت آسانی سے حاصل کیا جا سکتا تھا مگر اب تک رائے عامہ کے ہونے والے تمام غیر جانبدار جائزوں اور ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا بلکہ صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے اپنے ووٹ اور سپورٹ بنک میں اضافہ کیا ہے۔جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مسلم لیگ نون کو ختم نہیں کیا جا پا رہا تو کیا مسلم لیگ نون اس پوزیشن میں ہے کہ جو قوتیں اس کے ساتھ مقابلے میں ہیں، انہیں ختم کر دے ۔ اس کا جواب بھی ہاں میں نہیں ہوسکتا یعنی یہ امر طے شدہ ہے کہ نہ مسلم لیگ نون کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جو قوتیں اسے ختم کرنا چاہتی ہیں ، وہ ختم ہو سکتی ہیں۔ ہمارے پاس اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی ایک واضح مثال موجود ہے کہ اگر وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عوامی سطح پر ختم ہوئی ہے تواس میں اس کی سیاسی زندگی میںآنے والے دونوں مارشل لاوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی دونوں مارشل لاوں کے بعد اقتدار میں آئی جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ضیاء الحق کے بعد پرویز مشرف کا مارشل لاء بھی، پیپلزپارٹی میں سے پٹریاٹ نکالنے کے باوجود، اسے ختم نہیں کر سکا تھا۔

میں نے بہت سارو ں سے سوال کیا کہ جب لڑائی عروج پر ہے تو کیا اس میں صلح کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے توبہت سارے جوابات کو جمع کرکے میں اسی نتیجے پر پہنچا کہ نواز شریف کی عوامی حمایت میں جوں جوں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اس طرف سے بھی مفاہمت کا راستہ تنگ سے تنگ ہوتا چلا جائے گا اور پھر ایک وقت آئے گا کہ یہ راستہ بند ہوجائے گا۔ مجھے کسی نے بتایا کہ جس روز میاں نواز شریف نے یہ تقریر کی تھی کہ انہیں مزید زخم نہ لگائے جائیں اور اپنے پہلے دکھ اور غم بھولنے کے لئے تیار ہیں تو یہ ایک مصالحتی کوشش کے جواب میں اپنی طرف سے عوامی سطح پر اقرار نامہ پیش کرنا تھا کہ اگر مفاہمت ہوجاتی ہے تو وہ مزید آگے نہیں بڑھیں گے مگراس کے بعد انہیں پارٹی کی صدارت سے بھی ایک مرتبہ پھر ہٹا دیا گیا ۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ بہت ساروں کے روزگار اسی لڑائی سے لگے ہوئے ہیں اور جس روز ملک میں آئین اور قانون کے مطابق معاملات طے ہونے لگے، ایک دوسرے کی جائز حیثیت کو قبول کیا جانے لگا اس روز ان کی دیہاڑیاں ماری جائیں گی یہی وجہ ہے کہ اس جلتی پر تیل ڈالنے والے بہت ہیں جو روزانہ اپنا تندور بھڑکا لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا رزق ہی میرے رب نے فساد اور تباہی میں رکھا ہوا ہے مگر ملک و قوم کا درد رکھنے والے ناامید نہیں ہوسکتے۔ میں نے یہ بھی سوال کیا کہ بیس ، بائیس کروڑ لوگوں میں سے وہ کیا ہوئے جو صلح کروایا کرتے تھے، جو جلتی پر پانی ڈالا کرتے تھے، جو زخموں پر مرہم رکھا کرتے تھے، جو راہوں سے کانٹے چنا کرتے تھے، جواب ملا، وہ ا بھی تک ناکام ہوئے، نامراد ٹھہرے۔

اللہ تعالیٰ اس ملک کو سلامت رکھے مگر دعائیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب ساتھ ساتھ دوائیں بھی دی جا رہی ہوں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ پودوں کی جڑیں بھی کاٹ رہے ہوں اور ان پر پھول کھلنے کی دعائیں بھی کر رہے ہوں۔ مجھے تاریخ سے کسی بھی سیاسی جماعت کے اس طرح ختم ہونے کا کوئی باب نہیں ملتا کہ آپ نے اسے کافر اور غدار قرار دے کر ختم کر ڈالا ہو۔ میں نے پڑھا ہے کہ مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے سے سیاسی جماعتوں کو نقصا ن نہیں ہوتے بلکہ ملکوں اور ریاستوں کو نقصان ہوتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ نواز شریف اقتدار سے محرومی پر اس راستے پر نہیں جائیں گے جس پر اس سے پہلے عوامی لیگ جا چکی ہے مگر یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ عوامی لیگ کے مینڈیٹ سے انکار کے بعد اس نے تو اپنی حکومت بنائی اور بار بار بنائی مگر میرے اس پاکستان میں نہیں جسے قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بنایا تھا بلکہ اس ملک کا نام بنگلہ دیش ہے جس میں وہ عوامی لیگ حکومت کرتی ہے جس کے پاس اکثریتی مینڈیٹ تھا اوروہ میرے متحدہ پاکستان سے محبت کرنے والے بزرگوں کو آج بھی پھانسیاں دے رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *