4 سینیٹرز کی کامیابی کانوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے 5میں سے 4 سینیٹروں کی کامیابی کانوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سینیٹروں کی دہری شہریت ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے چودھری سرور، ہارون اختر،سعدیہ عباسی،نزہت صادق کی کامیابی کانوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما چودھری سرور نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ وہ 2013 میں برطانوی شہریت چھوڑ چکے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ شہریت مکمل طورپر چھوڑی یا عارضی طور پر؟ وکیل چودھری سرور نے کہا کہ برطانوی قانون کےمطابق شہریت دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہےآپ نےگورنربننےکےلیےعارضی طورپربرطانوی شہریت ترک کی،آپ نے یہاں سیاست کرنی تھی،آپ نےاسٹیٹس انجوائے کرکےوقت پورا ہونےپردوبارہ جاکرشہریت بحال کرانی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی دیں کہ آپ اب کبھی دوبارہ برطانوی شہریت بحال نہیں کروائیں گے،چودھری صاحب آپ کی بیوی بچے اوردولت برطانیہ میں ہےآپ یہاں آئے کیوں ؟ چودھری سرور نے کہا میرے خلاف فیصلہ اوورسیزپاکستانیوں کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا،جواوورسیزپاکستانی اربوں روپے کا زر مبادلہ بھیجتے ہیں ان پر اچھا تاثر نہیں پڑے گا۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ اوورسیزپاکستانیوں کی فکر نہ کریں ان کے لیے سپریم کورٹ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چودھری صاحب ایسا نہیں ہے آپ قانون کی منشا نہیں سمجھ رہے، اس تقریر سے آپ کی روح کی تسکین ہوسکتی ہے لیکن قانون کی منشا نہیں،ہم نے قانون کا جائزہ لینا ہے کہ شہریت چھوڑنا مستقل ہے یا عارضی ؟ اٹارنی جنرل پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ برطانوی قانون کے مطابق شہریت دوبارہ بحال ہوسکتی ہے،ہائیکورٹ کا 2002میں دہری شہریت کا فیصلہ موجود ہے۔ :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *