اندھا عشق اور کرکٹ

عشق اندھا ہوتا ہے۔ پہلے اِس بات کا یقین تھا، اب یقین کامل ہے۔ لاہور سے مجھے عشق ہے، میں سمجھتا تھا کہ دنیا میں اس سے زیادہ تاریخی، رومانوی، ثقافتی اور رونقی شہر اور کوئی نہیں، دنیا میں مال روڈ جیسی کوئی شاہراہ نہیں، واپڈا ہاؤس جیسی کوئی بلڈنگ نہیں، الحمرا جیسا کوئی تھیٹر نہیں اورنہر والی سڑک جیسی کوئی سڑک نہیں،پھر میں نے لندن، پیرس، نیویارک، برلن اور روم دیکھے، وہاں کی شاہراہیں، ریلوے اسٹیشن، اوپرا ہاؤسز، تھیٹر، دریا، عمارتیں، ثقافتی مراکز اور تاریخی محلات دیکھے اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ نہیں، لاہور کا واقعی کوئی جوڑ نہیں۔ اسی کو اندھا عشق کہتے ہیں۔ ضرورت اس تمہید کی اِس لئے پیش آئی کہ میں لاہور قلندر کا حامی ہوں اور دو روز قبل ناشتے کی میز پر میں نے اور عاقب جاوید نے یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا کہ اگر ہم نے آخری پانچ میچ لگاتار جیت لئے تو لاہور قلندر سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کر جائیں گے۔ باقی تاریخ ہے ۔
ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ملک میں گلی گلی میں کرکٹ کھیلی جاتی تھی، لڑکپن کے زمانے میں ہم لوگ اسکول سے گھرآتے ہی بستہ پھینکتے اور گیند بلا پکڑ کر کسی پارک یا میدان میں کھیلنے نکل جاتے، ہاکی بھی ایسے ہی کھیلتے تھے، سکول کالجوں میں ٹیمیں بنتی تھیں، کالج کی ٹیم کا میچ دیکھنے ہزاروں لوگ آتے، وہیں سے لوگ کلب کرکٹ میں جاتے اور پھر قومی ٹیم کا حصہ بنتے ،یہ وہی وقت تھا جب وسیم اکرم اور عاقب جاوید بالنگ اوپن کرتے اور پہلی تبدیلی کے طور پر وقار یونس کو گیند تھمائی جاتی۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش، ہر میدان میں ہم نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے، پاکستانی پاسپورٹ تھامے جب آپ کسی ملک میں جاتے تو ہماری توقیر کی جاتی ،لوگ ہمیں کرکٹرز کہہ کر بلاتے۔ پھر وقت بدلا، آبادی بڑھی، کھیل کے میدان سُکڑ گئے، اسکول دس مرلے اور ایک کنال کے مکانوں میں سمٹ گئے، بچوں نے بلے کی جگہ اسمارٹ فون پکڑ لئے، اب کوئی محلے کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتا ہے نہ ہاکی، باہر اب لوگ ہمیں کرکٹر ز کہہ کر نہیں بلاتے، ہماری قومیت پوچھتے ہیں اور پھر معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ’’اوہ، یو فرام پاکستان‘‘ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ آج ہمارابچہ اگر کرکٹر بننا چاہتا ہے تو اُس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس کی مدد سے وہ اپنا ٹیلنٹ دکھا سکے، کھیل کے میدان اسے دستیاب نہیں اور جس ایک کنال کے اسکول میں وہ پڑھتا ہے اُس میں کرکٹ تو کیا کیرم بورڈ بھی نہیں کھیلا جا سکتا۔ان حالات میں لاہور قلندر کے رانا عاطف اور رانا فواد نے ایک ایسا کام کیا جو ناقابل یقین تھا، بھائیوں کی اِس جوڑی نے پنجاب کے آٹھ اضلاع میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرا م شروع کیا، عاقب جاوید کی سربراہی میں تیس کوچز اِن اضلاع میں گئے، وہاں ہر اُس لڑکے کا ٹرائل ہوا جو میدان میں پہنچا اور یوں انہوں نے کُل ایک لاکھ ساٹھ ہزار ٹرائلز لئے، ان میں سے چونتیس ہزار ٹرائلز مظفر آباد ،کشمیر میں لئے جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا، اسی کشمیر سے قلندرز نے سلمان ارشاد کو دریافت کیا، یہ لڑکا 90میل کی رفتار سے گیند پھینکتا ہے ۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، رانا برادرز نے اِن آٹھ اضلاع میں سے بہترین کھلاڑی چُن کر ایک ایک ٹیم بنائی اور پھر اِن ٹیموں کا ٹورنامنٹ کروایا، اس ٹورنامنٹ کا فائنل سرگودھااور لیہ کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا جسے دیکھنے کے لئے چوبیس ہزار لوگ اسٹیڈیم میں امڈ آئے ۔یہ ایک حیرا ن کُن بات تھی، کوئی اسٹار نہیں تھا، کوئی غیر ملکی تو کیا مقامی کھلاڑی اس میں شریک نہیں تھا، سب گلی محلوں سے چنے گئے لڑکے تھے جنہیں دیکھنے کے لئے چوبیس ہزار تماشائی آ گئے،اس فائنل کے مین آف دی میچ کا اعزاز جس لڑکے کو ملا وہ چنگ چی رکشا چلاتا ہے ،ان آٹھ ٹیموں کے بہترین چار لڑکوں کو آسٹریلیا کی مقامی کرکٹ گریڈ ٹو کا کنٹرکٹ دیا گیا جوایک معجزہ تھا، یہ وہ بچے تھے جنہو ں نے کبھی لاہور نہیں دیکھا تھا، اِن کا پاسپورٹ نہیں بنا تھا اور اب وہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیل چکے ہیں ۔یاد رہے کہ پورے پاکستان میں جتنے کرکٹ گراؤنڈ ہیں اُس سے دگنے صرف سڈنی میں ہیں۔
یہ تما م باتیں قابل تحسین مگر یہ بھی درست ہے کہ لاہور قلندرز اب تک پاکستان سپر لیگ کی سب سے بری ٹیم ثابت ہوئی ہے، میرا اندھا عشق بھی اس حقیقت کی نفی نہیں کر سکتا، مگر اِس بری کارکردگی کیوجہ خاصی دلچسپ اور گھمبیر ہے۔ٹورنامنٹ اور فرنچائز دو الگ الگ چیزیں ہیں،لاہور قلندرز، کراچی کنگز، ملتان سلطان سب فرنچائز ہیں جبکہ پی ایس ایل ایک ٹورنامنٹ ہے، اِس کا فارمیٹ کچھ ایسا ہے کہ لاہور قلندر اپنے ٹیلنٹ ہنٹ کے نتیجے میں دریافت شدہ لڑکوں میں سے ایک آدھ کو ہی ٹیم میں کھلا سکتا ہے، باقی کھلاڑیوں کی درجہ بندی پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے سے کر رکھی ہے ،یہ درجہ بندی پلاٹینم، گولڈ اور سلور کھلاڑیوں کی ہے، یہ ایک قسم کا کھلاڑیوں کا حوض (pool)ہے ،بہترین ملکی اور غیر ملکی کھلاڑی پلاٹینم میں آتے ہیں، اس کے بعد سونے اور پھر چاندی کے کھلاڑی تولے جاتے ہیں۔لاہور قلندرز نے جن کھلاڑیوں کو ’’خریدا‘‘ اِن میں سے دو ان فٹ ہو گئے اور ایک کی ماں مر گئی، گویا جن کھلاڑیوں کے بل پر میچ جیتنا تھا وہی باہر ہو گئے، حیرت کی بات یہ ہے کہ لاہور قلندرز کے ٹیلنٹ کے نتیجے میں دریافت شدہ کم از کم تین کھلاڑی ایسے ہیں جو دوسری ٹیموں کی طرف سے کھیل رہے ہیں، یہی لیگ کرکٹ کا طریقہ کار ہے۔ سب سے پہلے فرنچائز اپنے آپ کو کرکٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کرواتی ہے، جیسے ملتان سلطان کے علاوہ امسال ایک دو فرنچائز اور بھی تھیں جو شامل ہونا چاہتی تھیں مگر ملتان نے سب سے زیادہ (غالباً 5.2ملین ڈالر سالانہ) فرنچائز فیس کی بولی دے کر فرنچائز اپنے نام کر لی، پھر کھلاڑیو ں کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے، اس میں جو دستیاب کھلاڑی ہیں انہی میں سے چناؤ کیا جاتا ہے اور فرنچائز اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو پیسے دے کر اپنی ٹیم میں شامل کرتی ہیں مگر یہ ایک پیچیدہ عمل ہے ،بھارتی لیگ کے مقابلے میں پی ایس ایل میں پیسہ کم ہے، بھارت میں اچھا غیر ملکی کھلاڑی 12/13لاکھ ڈالر میں ’’بِکتا‘‘ ہے جبکہ پی ایس ایل میں 2/3لاکھ ڈالر میں مل جاتا ہے ۔اس کے بعد پیسے پورے کرنے کی باری آتی ہے جو آسان کام نہیں،بھارتی لیگ میں بھی فرنچائز پہلے چند برس گھاٹے میں گئیں مگر اب یہ حال ہے کہ ایک ایک ٹیم لاکھو ں کروڑوں ڈالر کی ہے،یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟ یہ پیسہ تین ذرائع سے آتا ہے ،ا سپانسر کمپنیاں، ٹکٹ کی فروخت اور نشریاتی حقوق۔ فرنچائز اپنے لئے اسپانسر تو تلاش کر لیتی ہیں مگر ان سے خرچ پورا ہونا ممکن نہیں ۔رہی ٹکٹ کی فروخت تو اُس میں پی سی بی اپنا حصہ کاٹ کر باقی فرنچائز میں تقسیم کرتا ہے مگر برابر، چاہے کسی فرنچائز کی سالانہ فیس دس لاکھ ڈالر ہو یا ملتان کی طرح پچاس لاکھ ڈالر،پی ایس ایل کے میچ دبئی شارجہ میں ہونے کیوجہ سے ٹکٹ کی فروخت کم ہے، گزشتہ سال لاہور کے فائنل میچ سے جو آمدن ہوئی وہ دبئی میں ہونے والے تمام میچوں کے ٹکٹ کی فروخت سے زیادہ تھی، اب اندازہ لگائیں کہ اگر پنڈی اور پشاور کی ٹیمیں ایک دوسرے کے شہروں میں کھیلیں تو کیا حال ہو، جہاں لیہ اور سرگودھا کا میچ دیکھنے چوبیس ہزار بندہ آ جائے وہاں لاہور اور کراچی جیسے روایتی حریفوں کا میچ دیکھنے کتنے لوگ آئیں گے،اندازہ لگانا مشکل نہیں! اصل کمائی البتہ نشریاتی حقوق میں ہے، پی سی بی نے امسال یہ حقوق اگلے تین برس کیلئے بیچنے ہیں ،ایک لیگ میں چھتیس میچ ہوں گے اورہر میچ میں آدھ گھنٹہ کے اشتہارات، باقی حساب آپ خود کر لیں، اگر یہ پورا عمل شفاف ہو اور فرنچائز کو اس میں شامل کرکے اُن کا حصہ ملے تو پاکستان میں کرکٹ ایسے زندہ ہو جائے گی جیسے اچھے وقتوں میں تھی۔بھارتی لیگ نے یہی سب کچھ کرکے باقی کھیلوں میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے، اب وہاں کبڈی سے لے کر ٹینس تک لیگ بن چکی ہیں، یہی کھیلوں کا مستقبل ہے۔ ہم نے بھی اگر اپنے ملک کے نوجوان کو کسی صحت مند سرگرمی کا حصہ بنانا ہے تو اُس کا یہی طریقہ ہے، دوسری صورت میں وہ صرف ایکس باکس پر ہی فٹ بال کھیل سکتے ہیں۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *