چیئرمین سینٹ کا انتخاب آج ہوگا

اسلام آباد۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب آج ہوگا، صادق سنجرانی چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین کیلئے پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور بلو چستان کے آزاد ارکان کے مشترکہ امیدوار ہونگے جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے چئرمین کے لئے راجہ ظفر الحق اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے عثمان کاکڑ امیدوار ہیں ۔ سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے تمام امیدواروں کے کاغذات منظور کر لئے گئے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پرویز رشید، امیر مقام، مشاہد حسین، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر نجکاری دانیال عزیز اور راجا ظفرالحق شریک ہوئے۔ اجلاس میں چیئرمین سینٹ کے لئے راجا ظفر الحق اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے عثمان کاکڑ کے ناموں کو فائنل کیا گیا۔ سینیٹ کے کل ارکان 104 ہیں ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بننے کیلئے 53 ووٹ درکار ہیں ، اس وقت سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی تعداد 34 ہے جن میں سے اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث ووٹ کا سٹ نہیں کر سکیں گے ، اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی 5 ، نیشنل پارٹی 5 ، جے یو آئی (ف) 4 ، مسلم لیگ فنکشنل ، اے این پی ، بی این پی مینگل کے ایک ایک ارکان کی حمایت بھی اسے حاصل ہے جن کی کل تعداد 50 بنتی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے 5 اور فاٹا ارکان کے 6 سینیٹرز ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی 20 ، تحریک انصاف 13، بلوچستان کے آزاد سینیٹرز 6 اور یوسف بادینی کے ووٹ کو شامل کر کے کل تعداد 40 بنتی ہے ، جماعت اسلامی نے ابھی کسی کی حمایت کا فیصلہ نہیں کیا تاہم سراج الحق نے بلوچستان کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کی حمایت کی یقین دہانی کرائی جبکہ بی این پی مینگل میر حاصل بزنجو کے بطور چیئرمین سینیٹ امیدوار نامزد ہونے کی صورت میں انہیں ووٹ نہیں دے گی۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدوار اپنے کا غذات نامزدگی سینیٹ سیکر ٹریٹ میں جمع کرائیں گے جبکہ اس کے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہو گی ، شام 4 بجے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا خفیہ رائے شماری کے ذریعے انتخاب ہو گا جس کے بعد منتخب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ الگ الگ حلف اٹھائیں گے اور سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا جائے گا۔ خیال رہے گزشتہ روز اسلام آباد میں جوڑ توڑ اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ نواز شریف کی زیر صدارت چودھری منیر کے گھر مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، راجہ ظفرالحق، مشاہد اللہ خان، مشاہد حسین سید، پرویز رشید، آصف کرمانی، امیر مقام، اقبال ظفرجھگڑا، مصدق ملک اور خواجہ سعد فیق نے شرکت کی۔ مذاکراتی ٹیم نے رپورٹ پیش کی جس کے بعد نواز شریف نے 57 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے زرداری ہاؤس میں پارٹی سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں بلوچستان کے 6 آزاد سینیٹرز نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ کیلئے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے سلیم مانڈوی والا کے ناموں کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا ہمارے امیدوار مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا مقابلہ کریں گے ، وہ ابھی اپنے سینیٹرز کی تعداد نہیں بتائیں گے ، رضا ربانی پیپلز پارٹی کا اثاثہ ہیں ، ان کیلئے 2018 کے عام انتخابات میں دوسرا پلان ہے ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے ، پیپلز پارٹی نے بلوچستان کے دل جیت لئے۔ اس سے قبل بلاول ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ناموں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے تمام قائدین نے رضاربانی کو چیئرمین بنانے کا مشورہ دیا ، خورشید شاہ، اعتزاز احسن ، قمر زمان کائرہ ، فرحت اللہ بابر سمیت دیگر رہنما رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کے حق میں تھے ، پیپلزپارٹی کے قائدین تحریک انصاف پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہ تھے ، 6 بجے تک رضا ربانی کا نام فائنل ہو گیا تھا ، بلاول بھی رضا ربانی کے حق میں تھے ، آصف زرداری نے بعد میں کہا کہ وہ بلوچستان والوں کو زبان دے چکے ہیں ، وہ نواز شریف پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ عبدالقدس بزنجو کی قیادت میں بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی ، وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے رابطوں سے آگاہ کیا ، عمران خان نے کہا پارلیمان اور جمہوریت کی ساکھ بچانے کیلئے شریف خاندان کا مقابلہ ضروری ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا بلوچستان کا حق تسلیم کر کے تحریک انصاف نے اچھی روایت قائم کی ، اس سے وفاق مضبوط ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا پیپلز پارٹی کی طرف سے صادق سنجرانی کی حمایت کا فیصلہ خوش آئند ہے ، آزاد پینل اتحاد کے امیدواروں کو 57 ووٹ ملیں گے ، امید ہے چھوٹی جماعتیں اسی پینل کوووٹ دیں گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے جے یو آئی ف کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری سے بھی ملاقات کی اور چیئرمین سینیٹ کیلئے حمایت مانگ لی ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرینگے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے وفد کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے بھی ملاقات کی اور چیئرمین سینیٹ کیلئے حمایت طلب کی ، امیر جماعت اسلامی نے سید خورشید شاہ سے بھی فون پر رابطہ کر کے مشاورت کی:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *