طاہرہ حسان ایک غیر معمولی پاکستانی خاتون ؟

محمد بلال لاکھانی

طاہرہ حیسن ایسی با اثر خواتین میں سے ایک ہیں جن سے میں ملنے کی سعادت پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے کراچی کی مچھر کالونی میں ۔کھیل۔ نام سے جو ادارہ قائم کیا ہے اس نے بے شمار بھٹکے ہوئے بچوں کو زندگی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ایک بیڈ روم کے مکان میں رہنے والی اس فیملی میں 9 بچے شامل ہیں۔ مچھر کالونی کے علاقے میں بسنے والی کل آبادی کے 82 فیصد لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ اسی وجہ سے میں طاہرہ کی بہادری کا معترف ہوں۔ کراچی میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں کچھ کام کر کے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مچھر کالونی تنگ گلیوں کی وجہ سے ایک خاص پہچان رکھتی ہے۔ یہاں چھوٹے سے گاوں میں 7 لاکھ لوگ آباد ہیں اور ساری گلیاں کچرے کے ڈھیروں سے بھری پڑی ہیں۔ یہاں بچے گلیوں میں کھیل کر ہی بڑے ہوتے ہیں لیکن طاہرہ نے اپنے بے لوث کردار سے یہاں ایک اہم تبدیلی لانے میں کردار ادا کیا ہے۔  کھیل میں 150 سے زیادہ بچے مقیم ہیں جو وہاں تعلیم حاصل کرتے، اور کھیلتے ہیں۔ اس تجربہ سے اپنی زندگی اور دنیا کے بارے میں ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے میں نے طاہرہ کو ایک غیر معمولی پاکستانی شہریوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو ہماری ڈاکیومنٹری **Khel**: A playground for Karachi’s invisible children** کے نام سے پیش کی جا رہی ہے۔ مجھے طاہرہ اس لیے قابل تحسین لگتی ہیں کیونکہ وہ ایک کام کرنے اور خواب دیکھنے کی شوقین خاتون ہیں۔ ان کی سٹوری کو میں نے پچھلے پانچ سال سے کور کیا ہے جس میں وہ پاکستان میں خاموشی سے تبدیلی لانے والی خاتون ثابت ہوتی ہیں۔ ہر منفی سٹوری کو میڈیا ٹی وی پر بہت وقت دیتا ہے لیکن 10 مثبت اقدامات میڈیا کی نظر سے نہیں گزرتے جو کہ ایک بہت مایوس کن بات ہے۔  مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں کتنے زیادہ چھپے رستم ہیں جو خاموشی سے ملک کو تباہی سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ طاہرہ کہتی ہیں: آخری بار جب میں ۔کھیل۔ میں آئی تو میں کارپٹ پر بیٹھی تھی جب ایک بچہ کرسی لے کر آیا اور مجھے کہا کہ میں اس کرسی پر بیٹھوں۔ میں رونے لگی۔ یہ وہی بچے تھے جو ایک سال قبل میرے آس پاس جمع ہو گئے تھے اب ان کے رویہ میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ ان کا دنیا کو دیکھنے کا طریقہ بدل چکا ہے۔ یہ سب ۔کھیل۔ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ عام طور پر میں ایک جذباتی انسان ہوں اور بہت جلدی رو پڑتی ہوں۔ میری ماں جب کوئی دکھی کہانی سناتی تو میں رونے لگتی تھی۔ کھیل وزٹ کرنے کے بعد میری آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ بلکہ ایک احساس شرمندگی اور احساس جرم تھا۔ کراچی کے بچے میری کار کا دروازہ کھٹکھٹا کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ میں نے کبھی ان کا نام اور رہنے کی جگہ کے بارے میں پوچھنے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی ان کی ضرورت کا پتہ کرنے کا سوچا۔ ایک ایسا شہر جہاں بے شمار بچے ہیں، میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ بچے ہیں اور ان کے بھی کچھ خواب ہیں، کچھ عزائم ہیں اور کچھ مسائل ہیں۔  رواں سال کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 25 ملین بچے ایسے ہیں جو سکول نہیں جاتے۔ بہت سے بچوں کو کام کر کے گھر سنبھالنا پڑتا ہے۔ بہت سے بچے پورا دن سڑکوں پر بھیک مانگتے گزار دیتے ہیں۔ ہمیں کھیل جیسے اور بھی ٹھکانے بنانے ہوں گے جہاں بچے کچھ دیر کے لیے اپنا بچپن جی سکیں۔ مچھر کالونی کچی آبادیوں میں رہنے والے ان بے بس بچوں کی محض ایک مثال ہے۔ مچھر کالونی کے زیادہ تر نوجوان مچھلی کی صنعت میں مختلف شعبہ جات کے ملازم ہیں۔ اس سات لاکھ کی آبادی کے لیے صرف تین کلینک ہیں۔ 53 فیصد لوگ اپنا کوڑا گلیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ نصف سے زیادہ خواتین بچوں کو گھر میں ہی جنم دیتی ہیں۔ اس طرح کے مسائل کی فہرست طویل سے طویل تر ہوئی جاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو طاہرہ کی خدمات کو طاقت دیتی ہے اور اسی وجہ سے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم انہیں سپورٹ کریں۔ وہ کہتی ہیں: میں جتنی بھی محنت کروں مجھے اتنا ہی زیادہ شدت سے احساس ہوتا ہے کہ مجھے زیادہ محنت سے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان کے چیلنجز کا حل نکالنے والے ہر شخص کو اسی جذبہ کی ضرورت ہے لیکن ہم سب کو بھی اس اہم مقصد میں کسی نہ کسی طرح شامل ہو جانا چاہیے۔  مثال کے طور پر پچھلے 24 گھںٹے میں اس ڈاکیومنٹری پر جو سب سے بہترین فیڈ بیک ملا ہے وہ یہ ہے کہ کھیل ہمارے تعلیمی اور سکول کے نظام سے کس قدر مشابہت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد طلبا کو خود اعتماد بنانا اور نظم و ضبط کا کاربند بنانا ہے نہ کہ انہیں صرف کچھ اسباق رٹا لگا کر یاد کر لینے پر مجبور کرنا جب کہ ہمارے سکولوں میں رٹا کے ذریعے صرف امتحان کی تیاری کو سب سے زیادہ اہمیت دی
جاتی ہے۔ لاہور میں بھی ایک خاتون نے نظام میں بہتری کے لیے ہمیشہ کوشش جاری رکھی ہے۔ کھیل اور طاہرہ کی مثبت رول ماڈل کے طور پر شئیر کی جانے والی داستانیں انسان کودوسروں کی مدد پر ابھارتی ہیں۔ لیکن غیر معمولی پاکستانی ٹیم یہ اکیلے نہیں کر سکتی۔ اگر آپ اس مقصد میں ذاتی یا مالی لحاظ سے شامل ہونا چاہتے ہیں تو ویب سائٹ**www. launchgood.com/extraordinarypakistani <http://launchgood.com/extraordinarypakistani> ** وزٹ کریں۔ ہمارا مقصد ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا ہے جس پر غیر معمولی کہانیاں شئیر کی جاتی ہیں جو کام کرنے والوں اور ڈونرز کو ایک دوسرے سے ملاتی ہیں۔ اگر ہم یہ کہانیاں شئیر نہیں کریں گے تو دوسرا کون کرے گا؟

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *