’’تاثر؟‘‘

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ ذاتی نمود و نمائش کے شوقین نہیں۔ کہا جاتا ہے‘ سوا سال قبل (سابق) وزیراعظم نوازشریف نے انہیں اس منصب پر فائز کیا تو نئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے لیے اپنے باس کا فرمان امروز یہ تھا کہ وہ ''شخصیت‘‘ کی بجائے ''ادارے‘‘ کی ''پی آر‘‘ کریں۔ وہ ایک ''کھلے ڈلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں‘ پاک فوج کی سربراہی کا منصب سنبھالنے کے بعد بھی جس میں کوئی فرق‘ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ احباب کی محفل میں ان کی گفتگو بے تکلف ہوتی ہے اور وہ شرکاء محفل سے بھی اس کی توقع رکھتے ہیں۔
جمعہ کی شام پنڈی میں ملک کے چیدہ صحافیوں سے ان کی ملاقات کہا جاتا ہے۔ بے تکلفی کا یہی رنگ لئے ہوئے تھی۔ ساڑھے تین گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی جنرل تروتازہ تھے‘ وہ تو اخبار نویس تھے جنہوں نے اجازت چاہی...یہ جاتی سردیوں کی اداس شام گزارنے کا بہانہ نہ تھا...یہ آف دی ریکارڈ محفل تھی۔ ایسی محفلوں کا مقصد مسائل کو سمجھنا‘ سمجھانا بھی ہوتا ہے اور اپنا ''پیغام‘‘ پہنچانا بھی...ایک سینئر اخبار نویس اور ہمارے ہمدم دیرینہ ان آف دی ریکارڈ ملاقاتوں کے آداب‘ رکھ رکھائو اور احتیاط کے تقاضوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں‘ ویسے بھی شرفاء عربی مقولے ''المجالس بالا مانتہ‘‘ (مجالس کی باتیں امانت ہوتی ہیں) کی پاسداری کرتے ہیں۔ ایک سینئر اخبار نویس کے طور پر جس کی عمر گزری ہے‘ اسی دشت کی سیاہی میں‘ وہ مخاطب کے الفاظ کے مطالب و معانی سمجھنے کی وافر صلاحیت رکھتے ہیں۔
آرمی چیف کی اس آف دی ریکارڈ گفتگو پر اپنا تاثر انہوں نے اپنے تازہ کالم میں بیان کر دیا ہے اور سچ بات یہ ہے کہ اس سے بعض معاملات میں ہمیں اپنے تصورات کی اصلاح میں مدد ملی تو کہیں بعض سوالات بھی پیدا ہوئے۔ مثلاً فاضل اخبار نویس کو یہ تاثر ملا کہ اسحاق ڈار کو اکانومی کی سمجھ بوجھ تھی نہ کام کرنے کا جذبہ اور قوت فیصلہ‘ جس کی وجہ سے ملک اقتصادی و معاشی تباہی کے دہانے پر جا کھڑا ہوا اور اب بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ خدا کا شکر ہے‘ اپنے فاضل دوست کے اس تاثر کے بعد ہمیں سابق وزیر خزانہ کے حوالے سے اپنے تاثر کی اصلاح میں مدد ملی۔ مثلاً ہم موصوف کو تاریخ کے ان عظیم وزیر خزانہ میں تو شمار نہیں کرتے تھے جنہوں نے ماہر معاشیات کے طور پر کوئی نئے آئیڈیاز دیئے‘ لیکن وہ اکانومی کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے‘ نہ کام کرنے کا جذبہ اور قوت فیصلہ‘ یہ بات ہمیں اب جا کے معلوم ہوئی۔ ورنہ ہم تو ان گزشتہ ادوار میں وزیر خزانہ کے طور پر ان کی کارکردگی کے حوالے سے غلط فہمی ہی کا شکار رہے۔ مثلاً مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان بدترین اقتصادی مشکلات کا شکار ہو گیا تھا۔ ویسے تو نوازشریف کی اُس دوسری وزارت ِعظمیٰ کا آغاز ہی سخت اقتصادی مسائل کے ساتھ ہوا تھا۔ صدر فاروق لغاری (مرحوم) بتایا کرتے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی (دوسری) وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کے ان کے فیصلے کی دیگر وجوہات بھی تھیں لیکن بنیادی وجہ وہ بدترین اقتصادی بحران تھا جس نے ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے لاکھڑا کیا تھا‘ اور اگر وہ یہ بات 4 نومبر 1996ء والی اپنی تقریر میں بیان کر دیتے تو ملک اگلے ہی روز ڈیفالٹ کر جاتا۔ آئی سی یو میں پڑی ہوئی معیشت کو ابھی نئے سانس ملے ہی تھے کہ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں عالمی اقتصادی پابندیوں نے آ لیا۔ فارن کرنسی اکائونٹس منجمد کرنے کے منفی اثرات الگ تھے۔ تب وزارت خزانہ اسحاق ڈار کے سپرد ہوئی اور 12 اکتوبر 1999ء کو نوازشریف حکومت ان حالات میں برطرف ہوئی کہ ''اپنا گھر سکیم‘‘ کے تحت ملک بھر میں پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر جاری تھی‘ قومی معیشت دوبارہ سنبھل رہی تھی۔
2008ء میں آصف زرداری کے ساتھ معاہدہ بھوربن کے تحت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی کولیشن میں وزارت خزانہ اسحاق ڈار کے سپرد ہوئی۔ 3 نومبر والی عدلیہ کی بحالی کے وعدے سے زرداری صاحب کے انحراف کے بعد مسلم لیگ نون نے وزارتوں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تو جناب زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا اصرار تھا کہ میاں صاحب وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کچھ عرصہ مزید ادھار پر دیدیں (لیکن ظاہر ہے‘ معاملہ کا اصول تھا‘ چنانچہ دیگر مسلم لیگی وزراء کے ساتھ ڈار صاحب بھی کابینہ سے چلے آئے)
نوازشریف کو اپنے تیسرے دور میں بھی (کرپشن‘ بیڈ گورننس اور ٹیررازم کے ساتھ) تباہ حال معیشت ورثے میں ملی تھی...اب پھر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے۔ حیرت ہے‘ کیسا شعبدہ باز شخص تھا کہ ہم جیسوں کو تو معیشت کی الف ب کا بھی علم نہیں‘ لیکن عالمی مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی شہرت یافتہ اقتصادی ماہرین بھی اس کے چکر میں آ کر پاکستان کو خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں (ایمرجنگ اکانومیز) میں شمار کرنے لگے۔ پاکستان کا عام آدمی بھی قدر سے آسودگی محسوس کرنے لگا۔
جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں اس تاثر کا تعلق ہے کہ اس نے فیڈریشن کو عملاً کنفیڈریشن میں بدل دیا ہے‘ قطع نظر اس بات کہ اس تاثر کے حوالے سے ہمارا تاثر کیا ہے؟ اور فیڈریشن واقعی کنفیڈریشن بن گئی ہے یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں سو فیصد اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ اس کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے ساتھ خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم ہوئی‘ جس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد جیسے عظیم دانشور اور سیاسی امور کے ماہر بھی شامل تھے۔ بنیادی مقصد ڈکٹیٹر کے دور کی 17 ویں ترمیم میں حقیقی پارلیمانی نظام کی روح کے منافی ''تجاوزات‘‘ کا خاتمہ تھا۔ وردی کے زور پر 2002ء کی پارلیمنٹ سے منظور کرائی جانے والی اس ترمیم نے منتخب حکومت (اور اسمبلی) کی برطرفی‘ سروسز چیفس اور گورنروں کے تقرر سمیت صدر کو ایسے صوابدیدی اختیارات دوبارہ سونپ دیئے تھے جن کا کسی حقیقی پارلیمانی نظام میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے سے ایک شام قبل نوازشریف نے اس کی حمایت کے لیے دو شرائط پیش کر دیں۔ صوبہ سرحد کے نئے نام میں ''پختونخوا‘‘ کے ساتھ ''خیبر‘‘ کا اضافہ اور سپیرئر عدالتوں کے ججوں کے انتخاب کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ہونے والی جیوڈیشل کمیٹی میں مزید ایک جج کا اضافہ تاکہ اس عمل میں عدلیہ کی Say مزید موثر ہو جائے۔
جہاں تک نوازشریف کی ''مہم جوئی‘‘ کا معاملہ ہے تو ہمیں اپنی کج فہمی کا اعتراف ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جسے ''مہم جوئی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں پر سو فیصد عملدرآمد ہو رہا ہے۔ 28 جولائی کو نااہلی کا فیصلہ سنتے ہی معزول وزیراعظم نے بوریا بستر سمیٹا اور پرائم منسٹر ہائوس سے روانہ ہو گئے۔ انہوں نے پارٹی صدارت سے علیحدگی کا قانونی تقاضا بھی پورا کر دیا اور سردار یعقوب ناصر مسلم لیگ نون کے قائم مقام صدر ہو گئے۔ معزول وزیراعظم دوبارہ پارٹی صدر اس وقت بنے جب پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے انہیں اس کا اہل بنا دیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس قانون کو غیر قانونی قرار دیدیا تو وہ دوبارہ مسلم لیگ نون کی صدارت سے دستبردار ہو گئے۔ اس دوران ان کے دستخطوں سے جاری ہونے والے کاغذات اور دستاویزات بھی غیر قانونی قرار پائے تو اس پر بھی سرتسلیم خم کر دیا گیا اور ''شیر‘‘ کے انتخابی نشان والے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا (اور پھر بھی جیت گئے)ہمارے فاضل دوست کا یہ تاثر باعث صد اطمینان ہے کہ عام انتخابات بروقت اور کسی مداخلت کے بغیر آزادانہ و منصفانہ ہوں گے...تری آواز مکے اور مدینے...لیکن حلقہ بندیوں کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کی بناء پر (ایک ڈیڑھ ماہ کی) تاخیر والی بات میں کئی خدشات پوشیدہ ہیں‘ ضیاء الحق دور کا تجربہ یہ ہے کہ نوے روز میں منعقد ہونے والے انتخابات ملتوی ہوتے ہوتے 8 سال لے گئے تھے۔
تو اور آرائشِ خمِ کا کل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
یہ تاثر بھی غنیمت کہ سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ کسی کا ایجنڈا نہیں لیکن اس کے ساتھ یہ شرط بھی کہ یہ جماعتیں بھی شخصیات کے سحر اور شکنجے سے نکل کر جمہوری اقدار و روایات پر کاربند ہوں۔ کیا مشکل وقت میں اپنی قیادت سے وفاداری کو شخصیات کے سحر اور شکنجے سے تعبیر کیا جائے گا اور اس سے انحراف جمہوری اقدار اور روایات کا تقاضا قرار پائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *