شی جن پنگ کی بڑھتی ہوئی طاقت

شاہد جاوید برکی

جب سوویت یونین کے ٹکڑے ہوئے اور کمیونزم کا یورپ میں نظریہ ختم ہوا تو مغربی دنیا میں سنسنی پھیل گئی۔ فرانسس فوکویاما نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: تاریخ کا خاتمہ۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ مستقبل میں ایک ہی نظریہ زندہ رہے گا جو ۔ویسٹرن سٹائل ڈیموکریٹک لبرل آرڈر۔ ہو گا۔ 20ویں صدی کی نظریاتی جنگوں کا باعث بننے والے متنازعہ نظریات عالمی سیاست میں بے کار ہو جائیں گے۔ ترقی پذیر ممالک بھی اسی مغربی نظریے کی کشش کے سامنے ہار مان لیں گے۔  جو دوسرے ڈسلپن میں دلچسپی رکھتے تھے وہ بھی مثبت پیشین گوئیوں کے ساتھ اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ کچھ اکانومسٹس نے حساب کتاب کے ذریعے یہ نتیجہ نکالا کہ جب کوئی معاشرہ معاشی طور پر ترقی کرتا ہے تو وہ اپنا سیاسی نظام بھی بہتر کر لیتا ہے۔ ماڈرنائزیشن کو لبرل ڈیموکریسی کا حصہ قرار دیا گیا۔ کچھ اعدادو شمار پر مبنی تجزیات سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ جب معیشت 6000 ڈالر پر سیپٹا تک پہنچ جاتی ہے تو پرانے سیاسی نظام کو ترک کر کے نئے طریقے اختیار کر لیے جاتے ہیں۔ لیکن جس کی توقع تھی وہی ہوا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے آئین میں تبدیلی کر دی۔ پارٹی نے صدر کے صرف دو بار ملک کی حکمرانی سنبھالنے کی شرط ختم کر دی۔ اس کا مطلب ہے کہ شی جن پنگ مرتے دم تک ملک کے حکمران رہ سکتے ہیں۔ کم از کم 2028 تک تو وہ حکمران رہیں گے اور تب تک تین باریاں مکمل ہوں گی۔ اس کے بعد بھی وہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اس اہم تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے چین کی تاریخ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک موقع پر چینی عوام ٹھیک راستے پر چل رہے تھے۔ انہوں نے ایسا نظام بنا لیا تھا جس سے ماو جیسے لوگوں کو راستہ روکا جا سکے۔ 2 بار حکمران بننے کی حد ڈینگ شیوپنگ نے طے کی تھی جو چین کے ماو زیڈانگ کے موت کے بعد سپریم لیڈر تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ملک کے صدر نہیں بنیں گے اور اقتدار سیاسی شخصیات کو سونپیں گے۔  ڈینگ نے اپنے تکلیف دہ تجربات سے سیکھا کہ ایک شخص کو حد سے زیادہ طاقت مل جائے تو اتھاریٹیرینزم جنم لیتی ہے جس کا نتیجہ غیر یقینی صورتحال ہوتا ہے۔ ماو اپنی طاقت اس طرح استعمال کر سکتا تھا کیونکہ اسے ملک میں خدا کا درجہ حاصل تھا۔ وہ نہ صرف چینی کمیونسٹ ریاست کا بانی تھا بلکہ ملک میں سوشل اور معاشی تبدیلیوں میں بھی اس کا بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے ملک میں عالمگیر تعلیمی اور صحت کا نظام لانے میں اہم کردار ادا کیا اور خواتین کو غلامی سے نجات دلائی۔ لیکن انہوں نے کچھ بڑی غلطیاں بھی کیں۔ ماو کے ساتھ کام کرتے ہوئے ڈینگ شیوپنگ نے لیڈر پر کچھ پابندیاں لگانے کی کوشش کی۔ ماو ۔گریٹ لیپ فارورڈ۔ تحریک اور کلچرل ریوولوشن کے موجد تھے جو بالترتیب 1958 اور 1965 میں پیش آئے۔  پہلی تحریک کا مقصد معیشت کے قوانین اور دلائل کو مسترد کرنا تھا۔ ریاست کے پاس طاقت تھی کہ وہ لوگوں کو کم زرعی زمینوں سے زیادہ بڑی معاشی صنعت میں طاقت کے زور پر منتقل کر کے معاشی ترقی کی شرح دوگنی، تگنی یا چار گنا کر دے۔ اس فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار تھا۔ اس کے علاوہ ریاست نے تمام لوگوں کی زمین قبضے میں لے لی اور زمین مالکان کو صنعتی علاقوں میں منتقل کر دیا۔ یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا۔  چین میں ایک ایسا قحط پھیل گیا جس کی وہ سے لاکھوں لوگوں کی موت ہو گئی۔ ثقافتی انقلاب اس وقت آیا جب ماو نے محسوس کیا کہ لوگ اس انقلابی سوچ سے محروم ہوٓ چکے ہیں جس نے ریاست کو 1949 میں ایک کمیونسٹ ملک بنا دیا تھا۔ ایک نیا ایلیٹ طبقہ سامنے آ گیا تھا جس کی اقدار اور رسم و رواج کو ختم کرنا ضروری تھا۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں اور خواتین پر مبنی ایک فوج تشکیل دی گئی۔ جب میں 1965 میں اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ چین کے کمیونز پر تحقیق کی غرض سے گیا میں وہاں گلیوں میں سرخ وردیوں میں ملبوس نوجوانوں کو پریڈ کرتا دیکھ سکتا تھا۔ وہ ریڈ سکارف پہنتے تھے۔ ان کا کام تھا کہ ان کی مخالفت کرنے والوں کو اٹھا کر ملک کے کسی دوسرے حصے میں ڈال دیا جائے اور وہاں ان سے ذراعت کا
کام لیا جائے۔ لاکھوں لوگوں کو سکول وکالج سے اٹھا کر گاوں میں ذراعت کے کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔  اس بڑی تحریک کی وجہ سے چین کی معاشی ترقی رک گئی۔ لیڈر شپ گروپوں پر بھی اس کا اثر پڑا اور ڈینگ شیاپنگ کو بھی اپنی نوکری چھوڑ کر منظر سے غائب ہونا پڑا۔ لیکن کمیونسٹ پارٹی میں ان کے بہت سے فالوورز تھے جنہوں نے 1976 میں ماو کی موت کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔  1978 میں ڈینگ کو سپریم لیڈر کےطور پر پیش کیا جانے لگا۔ اقتدار میں آ کر اس نے ماوازم کا خاتمہ کر دیا۔ ان کا ایک مشہور قول یہ تھا: امیر ہونا ایک بہت شاندار احساس ہے۔ نئے عزم کے ساتھ انہوں نے ملکی معیشت کو غیر ممالک تک پھیلایا۔ کچھ ہی سال میں ترقی کی رفتار میں 10 فیصد اضافہ ہو گیا۔ 1980 سے 2005 کے بیچ چینی معیشت میں 32 گنا اضافہ ہوا۔ ڈینگ نے سیاسی نظام میں بھی اصلاحات متعارف کروائیں۔ انہوں نے پارٹی کا آئین تبدیل کیا اور صدر کے لیے صرف دو باری کی حد طے کر دی۔ 10 سال کے بعد صدر اور سیکرٹری کا نئے سرے سے انتخاب طے پایا۔ یہ انتخاب 2004 اور پھر 2014 میں ہوا اور اگلا انتخاب 2024 میں متوقع تھا۔  لیکن اب یہ انتخاب نہیں ہو گا کیونکہ کچھ ہی دن پہلے ایک تبدیلی کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا کیا اثر دنیا اور پاکستان پر واقع ہو سکتا ہے اس پر اگلے کالم میں گفتگو کی جائے گی۔

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *