کیا ن لیگ ہار گئی؟

عدلیہ نے جس طرح سیاسی نظام پر حملے شروع کر رکھے ہیں ان سے بچنے کے لیے انسان کو وہ وقت یاد آتا ہے جب کورٹ کوئی سیاسی طرز کے کیس پر فیصلہ نہیں دیتی تھی۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اکیلے ملک کو سنوارنے کا ٹھیکا اپنے سر لے لیا ہے۔ یہ چیز بھی نظر انداز کر دی گئی ہے کہ چیف جسٹس کے پاس یہ مقصد حاصل کرنے کی قابلیت یا وقت موجود بھی ہے یا نہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی اچھی نیت پر مبنی اصلاحات کو نافذ کر سکیں۔ اگرچہ ان کے پاس انتظامیہ کا کردار ہتھیانے کا آئینی طورپر اختیار نہیں لیکن وہ اکثر سیاستدانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے از خود نوٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسا ملک جہاں بری حکومت ہونا ایک روایت ہے وہاں ایسا ہونا کچھ غلط نہیں۔ ہاں، جب پارلیمنٹ کے پاس کردہ قوانین کو منصف رد کر دیتے ہیں تو بہت سے لوگ اسے حد سے تجاوز خیال کرتے ہیں۔  جب پانامہ گیٹ کا سکینڈل **SC** کے حوالے کیا گیا تو ، تو میں نے پہلے ہی پیشنگوئی کر دی تھی کے وہ اسے رد کر دیں گے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر عدالتی فیصلے میں ایک جیتتا اور دوسرا ہارتا ہے: اس کیس میں یا نوزشریف
ہوتا یا عمران خان۔ کسی کو بھی اپنی شکست منظور نہیں۔  اگر عمران خان کو نا اہل قرار دے دیا جاتا تو وہ بھی اس فٰیصلہ کو نہ مانتے۔ ۔ وہ غصے اور طیش میں آ کر ایک اور باراسلام آباد بند کرنے کے لیے دھمکی دینے لگتے۔ لیکن کیوں کہ اب ان کو فایدہ ہو رہا ہے تو وہ **SC** کی تعریف کریں گے اور نواز شریف کو ان کے نا اہل قرار دینے کے فیصلے پر تنقید کرنے کے لیے بد نام کریں گے۔  لیکن نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے علاوہ **SC** نے پارلیمنٹ کے آئین کو رد کر دیا ہے جو نااہل فرد کو پولیٹیکل پارٹی کی صدارت کی اجازت کے لیے پاس کیا گیا تھا۔ یہ جوڈیشل ایکٹوزم کا ایک نیا نمونہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ججز نے انتظامیہ کے اختیارات ہتھیا لیے ہیں۔ میرے کالم باقاعدگی سے پڑھنے والے قارئین جانتے ہیں میں نواز شریف کا حامی
نہیں بلکہ میں سالوں سے ان کی حکومت پر تنقید کر رہا ہوں۔ اور میں جمہوریت کی مسلسل حمایت کر رہا ہوں۔جب اداروں میں تصادم ہوتا ہے جیسا کہ اس وقت پیدا ہو چکا ہے تو ہمارا جمہوری نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے کیونکہ یہ بہت کمزور ہے۔ اورر یہ خوفناک صورت حال عمراان خان اور نوازشریف کی دشمنی کی وجہ سے ہے۔عمران خان طاقت کا بھوکا ہے اور **PML-N** کو ہرانا خاص طور پر اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ غیر جمہوری طریقوں سے اقتدار کی مسند تک پہنچنا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے مطابق اس مقصد کے لیے وہ ملٹری اور عدلیہ کی مدد لینے کے لیے بھی بہت تگ و دو کر رہے ہیں۔  دوسری طرف نواز شریف نے مظلومیت کا کارڈ کھیل کر اپنی مقبولیت بڑھائی۔ ان کے جلسوں میں عوام نے بھر پور شرکت کی جب کہ ان کے مخالفین کے لیے کرسیاں تک بھرنا مشکل ہو گیا۔ کچھ عدالتی فیصلوں کے سامنے ڈھیر ہو جانے کی بجائے نواز کی پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔  بد قسمتی سے پانامہ کیس سننے کے لیے آمادگی کا اظہار کر کے **SC** نے ان چاہے نتائج کو مدعو کر لیا ہے۔ اب کچھ لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں کہ **SC** نے * *غیر جانب دار منصف کے طور پر متنازع فیصلوں کا بیڑا اٹھا یا ہوا ہے۔ لیکن یہ نا گزیر تھا: پولیٹیکل نوعیت کی قانونی لڑائی میں عدلیہ کے فیصلے سٹیٹس کو میں بہتری یا خرابی ضرور پیدا کرتے ہیں۔  ہمارے سامنے جو موجودہ حکومتی پارٹی کی نئی پالیٹکس کا منظر نامہ یہ ہے کہ
وہ عدلیہ کے خلاف شکایت کے احساس کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اعلان کیا کہ اگرچہ پارلیمنٹ سپریم ہو تا ہے لیکن آئین اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ لیکن در اصل آئین تو پارلیمنٹ ہی بناتی اور پاس کرتی ہے۔ خدشات کے اظہار کرنے والے عوام کا کہنا ہے کہ مشرف کے **PCO** پر حلف اٹھانا بھی ان ججز کا کونسا صحیح فیصلہ تھا۔  یہ سب جیسا ہو رہا ہے اس سے ممکن ہے کہ **PML-N** ہی اگلی گورنمنٹ بنائے۔ اگرچہ عمران خان کے ذاتی مقاصد کی وجہ سے ان کی پارٹی کی ساکھ بہت کمزور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف پنجاب میں سب سے زیادہ مقبول سیاستدان ہیں۔  اور اب جبکہ یہ بات منظرعام پر آ گئی ہے کہ نواز شریف ایک گاڈ فادر ہیں تو کیا یہ سپریم کورٹ انہیں مزید پانچ سال تک برداشت کر پائیں گے؟ نوازشریف نے عدلیہ کو انتظامیہ کے راستے میں روڑے اٹکانے اور خو د مختار پارلیمنٹ کے پاس کیے گئے آئین کو رد کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کیا انتظامیہ ، پارلیمنٹ اور
عدلیہ ۔ سلطنت کے تین ستون اب ایک ساتھ مل کر کام کریں گے؟ صدیوں سے فوجی آمروں کے حکومت پر ناجائز قبضے کو قانونی حثیت دی گئی ہے اور منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پہ چڑھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے **SC** آگے بڑھنا چاہتا ہے اور ان الزامات کو پس پشت چھوڑنا چاہتا ہے۔ اور ایسے کرنے کا ایک
بہترین طریقہ یہی ہے کہ عدالتیں اپنا کام بہتر طریقے سے کریں اور سیاسی نوعیت کے کیسز پر فیصلے کرنے سے گریز کریں۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *