وہ جوڑے جو سکرین پر بنے

محمد زوہیب

پوری دنیا میں فلمی دنیا کی سیلور سکرین کے جوڑوں کے، ان کی فلمی دنیا میں آپس کی کیمیسٹری کی وجہ سے بے شمار چاہنے اور سراہنے والے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ فلم انڈسٹری کے ساتھی ہونے کے باعث ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، چاہنے لگتے ہیں اورپھر ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری بھی ایسی فلمی دنیاؤں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی فلموں کے خوشحالی کے دنوں میں ، سکرین پر سراہے جانے والے جوڑوں نے باکس آفس میں بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں، جن میں سنتوش کمار ــــ صبیحہ خانم، درپن ـــــ نیلو، وحید مرادـــــ زیبہ، اور ندیم ــــ شبانہ شامل ہیں۔ ان کے بے مثال کام پر اور سکرین کے لیے بنے جوڑے کی کیمیسٹری پر بہت کچھ لکھا گیا۔ لیکن کبھی کبھار سکرین کے باہر کی دنیا میں ان جوڑوں کی یہ کیمسٹری حقیقت بن جاتی ہے ۔ آئیں ان میں سے کچھ جوڑوں کے بارے میں جانتے ہیں جو فلم کی دنیا میں ملے اور حقیقت میں بھی ساری عمر ایک ساتھی گزاری۔

سنتوش اور صبیحہ

سنتوش کمار کا اصل نام سید موسی رضا ہے۔ ان کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا تھا۔ یہ پڑھے لکھے، لمبے ، دبلے، اور بھاری آواز والے وہ اداکار تھے جنہوں نے ایک کے بعد ایک کئی ہٹ فلمیں بنائیں۔ 1947 میں ان کے فلمی سفر کا آغاز فلم '' آہنسہ'' سے ہوا، جب تقسیم ہند کی شروعات تھی1950 میں انہوں نے اپنے آپ کو پاکستانی سینما کا سٹار منوانے کی کوشش میں مسعود پرویز کی فلم 'بیلی' میں بھرپور کام کیا ۔ اسی فلم میں صبیحہ نے پہلی بار ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔ پہلے سے ہی شادی شدہ سنتوش نے خوبصورت صبیحہ کے ساتھ بہت ساری فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے بہت سے کردار کی کئی فلمیں کیں جن میں 1950 میں دو آنسو، 1953 میں غلام، 1955 میں انتقام ، اور قاتل، 1956 میں سرفروش، 1957 میں وعدہ اور 1957 میں سات لاکھ شامل ہیں جو سب کی سب ہٹ ہوئیں۔ ان کو ایک رومانوی جوڑے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ آخر کار انہوں نے یکم اکتوبر 1958 میں J.C آنند کی فلم حسرت کے دوران شادی کر لی۔ لیکن صبیحہ 1990 تک کام کرتی رہیں اور پھر امریکہ میں رہائش پزیر ہوگئیں جہاں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔

درپن اور نئیر

سنتوش کے چھوٹے بھائی درپن کا اصل نام سید عشرت عباس تھا۔ وہ 1959 میں ساتھی، 1960 میں سہیلی، 1961 میں گلفام اور 1962 میں آنچل کے بعد بہت کامیاب ہوئے اور رومانوی کردار کے طور پر ابھرے۔ انڈسٹری میں جگہ بنانے کے بعد سبھیر اور سنتوش کی موجودگی میں بھی ان کی اپنی جگہ تھی۔ اسی وقت میں نئیر سلطان جن کا اصل نام طیبہ تھا نے سنتوش کے ساتھ گھونگھٹ میں، درپن کے ساتھ سہیلی میں اور حبیب کے ساتھ اولاد میں ہیروئین کا کردار ادا کیا۔ گہری آنکھوں والے درپن کی دلچسپی سادھا دکھنے والی شرمیلی نیئر کی طرف بڑھی، اور ان کے چھوٹے بھائی ایس سلیمان کی فلم ۔باجی۔ کے دوران ان کا رومانس شادی میں بدل گیا۔ان کی شادی کے پانچ ماہ بعد 3 مئی1993 میں یہ فلم ریلیز ہوئی۔ نئیر سلطان نے بھی صبیحہ کی طرح کچھ عرصہ تک کام چھوڑ دیا اور جب درپن کو مین رول ملنا بند ہو گئے تو نیر سلطان نے فلموں میں کام دوبارہ شروع کیا جو ان کی موت تک جاری رہا۔ درپن کی موت 1980 میں 51 برس کی عمر میں ہوئی تھی۔

شبنم اور گوش

1962 میں ہی محمد علی اور زیبا بیگم نےاپنا شاندار فلمی کیریئر شروع کیا اور ان کی پہلی کامیاب فلم کا نام تھا ۔چراغ جلتا رہا۔ جو مغربی پاکستان میں بنائی
گئی جب کہ میوزک ڈائریکٹر رابن گوش اور شبنم نے اپنا ڈیبیو احتشام کی فلم ۔چندہ۔ میں کیا۔ شبنم کی ندیم کے ساتھ جوڑٰی نے باقی تمام جوڑیوں کو پیچھے
چھوڑ دیا۔ جیسا کہ شبنم جن کا اصل نام جھرنا باسک ہے نے مشرقی پاکستان سے کام کرنا شروع کیا، گھوش نے مشرقی ونگ میں بے مثال موسیقی بنانا شروع کر دی۔ چندہ اور تلاز کی کامیابی کے بعد انہیں اپنی قسمت مغربی پاکستان میں آزمانے کا مشورہ دیا گیا۔  شبنم مغربی پاکستان میں کام کرنے سے گھبرا رہی تھیں۔ اس مشہوردعوے کے بر عکس ان کے بنگالی لہجے میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ڈھاکا فلم انڈسٹری لاھور فلم انڈسٹری کے لوگوں سے زیادہ پروفیشنل تھی۔ کہا جاتا تھا کہ لاھور انڈسٹری پر مافیا کی حکومت ہے، اور شبنم اکیلے لاہور نہیں جانا چاہتی تھیں۔ جب وہ گھوش کو بنگلے کے ذیلی مکان میں رہتی تھیں تب وہ ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ انہوں نے 21 دسنمبر 1965 میں شادی کی اور 1966 میں پاکستان ہجرت کر لی۔ وہاں شبنم نے رفیق رضوی کی فلم ۔انجانے راستے۔ میں کام کیا لیکن فلم ملتوی ہو گئی۔ اس وقت وحید مراد فلم ۔سمندر۔ بنا رہے تھے جسے رفیق رضوی ڈائریکٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے باپو سے شبنم کے کام کے لیے پوچھا اور وہ فلم سمندر میں کام کرنے لگیں۔ شبنم اور گھوش دو ونگز کے بیچ پھنس کر رہ گئے لیکن ڈھاکا کے تباہ ہونے کے بعد
وہ پاکستان منتقل ہو گئےان کی فلمیں کلاسک مانی جاتی تھیں جن میں 1972 میں احساس، 1974 میں شرافت، 1974 میں چاہت، 1977 میں آئینہ، 1980 میں نہیں ابھی نہیں، 1982 میں آہٹ اور 1984 میں دوریاں شامل ہیں۔ ان کی شادی 50 سال رہی۔ گھوش کو بہترین موسیقی ڈائریکٹر کے 6 شاندار ایوارڈز ملے ۔

محمد علی اور زیبا

فضل احمد کریم فضلی کی فلم ۔چراغ جلتا رہے۔ نے زیبا کو فلمی دنیا کا ستارا بنا دیا جبکہ لمبے اور بھاری جسم کے مالک محمد علی اپنی بھاری آواز کی بنا پر
منفی کردار ادا کرتے تھے۔ اور زیبا درپن، کمال، وحید اورعلی کے سا تھ ہیروئین کے طورپر آتیں۔ علی بھی رفتہ رفتہ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے اور دوسال کی تگ و دو کے بعد وہ ریاض شاہد اور جمیل اختر کی فلم ۔خاموش رہو۔ میں ہیرو کے طور پر آئے۔ اپنی پہلی فلم 1961 میں وہ زیبا کی ریہرسل میں مدد کیا کرتے تھے ۔ اور زیبا کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ایماندار اور سچ بولنے کی عادت سے بہت متاثر ہوئیں اور 1966 میں جب وہ ایک ساتھ اقبال یوسف کی فلم 'تم ملے پیار ملا' کر رہے تھے ان کے درمیان محبت کا رشتہ بنا۔ ان کی شادی فلم سٹار آزاد کے کراچی والے گھر میں 29 ستمبر 1966 میں ہوئی ۔لولی وڈ میں تقریبا ایک دہائی انہوں نے فلموں میں کام کیا اور آخری بار 1989 میں انہیں بالی وڈ کی فلم کلرک میں ایک ساتھ دیکھا گیا۔ جب زیبا کی شادی علی سے ہوئی تو وہ وحید مراد کے ساتھ ڈائیریکٹر پرویز ملک کی فلم احسان میں کام کر رہی تھیں۔ 1990 میں ڈان میں شائع ہوئے والے ایک انٹرویو میں پرویز ملک نےعلی اور زیبا کی شادی کا سن کرکہا ؛' ایک اور الیزیبتھ ٹیلر بن رہی ہے '۔ علی سے پہلے زیبا کی شادی سبھیر سے ہوئی تھی۔ لیکن علی سے شادی سے پہلے انہوں
نے سبھیر کے ساتھ بھی کام کیا لیکن شادی کے بعد وہ صرف علی کے ساتھ ہیرویئن آئیں۔ ان کی وحید مراد کے ساتھ 1964 سے 1967 میں ہیرہ اورپتھر، کنیز، عید مبارک، ارمان، احسان ، انسانیت، ماں باپ اور رشتہ ہے پیار کا یعنی آٹھ فیلموں میں کام کرنے سے جو مطابقت تھی اس کا بھی اس فیصلے پر اثر پڑا40 سال کا شاد ی کے بعد مارچ 2006 میں علی نے وفات پائی لیکن ان کی محبت کی امر کہانی آج بھی زندہ ہے۔

ریاض اور نیلو

ریاض شاہد ایک افسانوی مصنف تھے ان کے بامعنی تصورات اور محب وطن فلمیں ان کی پہچان بنیں۔ ان کی شادی ایک دلکش اور انس بھری فلم کے ستارے نیلو جن کا اصل نام سینتھیا الیکزینڈر فرنینڈس تھا سے ہوئی۔ مارچ 1965 میں ایران کے شاہ آفیشیل دورے پر مشرقی پاکستان آئے۔ اس وقت کے گورنر جو کالا باغ کے نواب تھے نے اس کی سب سے مشہور اداکارہ نیلو سے شاہ کے سامنے رقس کی فرمائش کی۔ مبینہ طور پر مسلح افراد کو بھی انہیں اغوا کرنے کے لیے بھیجا لیکن انہوں نے مقابلہ کیا اور گورنر ہاؤس کے راستے میں خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن ہسپتال لے جایا گیا اور وہ بچ گئیں ۔میڈیا نے اس بات کو بہت اچھالا۔ حبیب جالب نے ان اس حادثے کو نظم بنا کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ نیلو کی اس بہادری سے متاثر ہو کر ریاض شاہد نے ان سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا جو انہوں نے خوش اصلوبی سے قبول کیا اور 965 1میں شادی ہو گئی۔ اس سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کیا اور نیلو سے عابدہ ریاض ہو گیئں۔1969 میں دونوں میاں بیوی نے فلسطینی مسئلہ پر فلم ' زرقہ' بنائی

جس میں ریاض نے حبیب جالیب کی نظم استعمال کی اور جس میں ایک انگریز ہیروئین کو اس کی مرضی کے مخالف ڈانس کرنے پر مجبور کرتا ہے اور اس ہیروئین کا کردار نیلو نے بخوبی نبھایا۔ فلم باکس آفس میں کامیاب رہی اور ملک کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم قرار پائی۔ ریاض اور عابدہ نے اپنے پہلے بچے کا نام بھی زرقہ رکھا۔ 1972 میں ریاض بلڈ کینسر کی بیماری سے وفات پا گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ فلم 'یہ امن ' سینسر بورڈ والوں کی ظالمانا ایڈیٹنگ کی تاب نہ لا سکے۔ اور سپر سٹار شان شاہد ان دو افسانوی کرداروں کے بیٹے ہیں جو اپنے والد کی وفات پر نو مولود بچے تھے۔

ریمبو اور صاحبہ

جان ریمبو ایک ہالی وڈ ایکشن سیریز کے ہیرو کا نام تھا جو ہالی وڈ ایکٹر سیلویسٹر سٹالن نے ادا کیا تھا۔ لیکن پاکستان میں جان ریمبو جانے مانے مزاحیہ
فنکاروں میں سے ایک ہیں۔ افضال خان ٹی – وی ڈرامے گیسٹ ہاؤس میں جان ریمبو کے نام سے خاک روب کے مزاحیہ کردار سے مشہور ہوئے اور بہت جلد انہوں نے فلموں کی طرف رجوع کیا۔ اور اسی دوران سابقہ مشہور اداکارہ نیشو کی بیٹی صاحبہ جن کا اصلی نام مدیحہ ہے نے بھی فلمی دنیا میں قدم رکھے اور ان میں فورا محبت ہو گئی۔ لیکن اٖفضال خان کو شادی سے پہلے کچھ شرائیط پوری کرنا تھیں جو ان کی ساس نے ان کے سامنے رکھی تھیں۔ اور پھر 16 اکتوبر 1998 میں ان کی شادی ہو گئی اور اب تقریبن 20 سال سے وہ ایک ساتھ ہیں :۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *