سکرٹ کی لمبائی اور بھنا گوشت

زینب زیڈ ملک

میں نے شروع میں جب وکالت کے شعبہ میں قدم رکھا اس وقت سے متعلقہ میری سب سے پرانی یاد لاہور ہائی کورٹ میں موجودگی کی ہے۔ یہ جون کا مہینہ تھا اور سخت گرمی تھی۔ مجھے اور میری ساتھی وکلا خواتین کو ایک چھوٹے سے کونے میں جھونک دیا گیا تھا اور مرد وکلا کے جھنڈ ہمارے جسم سے ٹکراتے ہوئے گزر رہے تھے جنہوں نے جج کو گھیرا ہوا تھا اور ان میں سے ایک خاتون جج تھیں۔ ان کی آواز میں کافی اثر تھا لیکن پھر بھی خواتین کی نفرت سے بھرے مرد حضرات پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ عدالت سے باہر جب مین نکلی تو چھپے رہنے کی کوشش کے باوجود ایک عمر رسیدہ وکیل نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف بڑھا۔ آ کر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھما دی۔ میں اور ساتھی نے ان سے ہاتھ ملایا اور جان چھڑانے کی کوشش کی۔ ہمارے رد عمل پر وہ پریشان ہوئے اور کہا: یہ کتاب میں نے تمہارے لیے لکھی ہے تم یہ لے کیوں نہیں رہے؟  ہر کوئی ہماری طرف متوجہ ہو گیا اور ہماری حالت سے محظوظ ہونے لگا۔ ہم نے اس سے کتاب لی اور اسے دوسرے وکیل کے پاس بھیج دیا۔ اس کتاب میں خواتین وکلا کے لیے ہدایات تھیں جو اس وکیل نے خود تحریر کی تھیں اور خواتین کو وکالت کے شعبہ سے جڑے مسائل سے خبردار کیا گیا تھا۔ کچھ کھانے پکانے کی تراکیب بھی تھیں جن میں بھنا گوشت، کدو کا حلوہ، وغیرہ پکانے کے طریقے موجود تھے۔ اس کے بعد ایک چیپٹر میں اسلام میں تشدد کو بھی جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن چونکہ میں نے اپنی کتاب ادھر ہی ڈسٹ بن میں پھینک دی تھی اس لیے میں اس سے کچھ نہ سیکھ سکی۔  اگرچہ اس افسوسناک واقعہ کے بعد کافی سال گزر چکے ہیں اور میں اس سے بھی برے حالات کا سامنا کر چکی ہوں لیکن میں اس واقعہ کو بار بار یاد کرتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ اس وقت میں کیا ایسا کر سکتی تھی جس سے نتائج بدلے جا سکیں۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میں نے جو کیا میں آج بھی وہی کر سکتہ ہوں اس سے مختلف کچھ نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں قانون کا شعبہ خواتین کے لیے نہایت مشکل اور نا خوش آٗئند ہے اور خواتین کے ترقی کے امکانات اس شعبہ میں بہت معدوم ہیں۔ اگرچہ خواتین پبلک اور پرائیویٹ لاء سکولوں میں مردوں کے مقابلے میں تعداد میں زیادہ ہیں لیکن قانون اور عدلیہ میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔  جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں تاریخ میں کوئی خاتون سپریم کورٹ کی جج نہیں بن پائی۔ 2018 میں ایک تقریب مین شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے چیف
جسٹس نے خاتون کی سکرٹ کی مثال دی۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات سے پاکستان میں خواتین وکلا کے لیے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ ان کی موت کا سب سے زیادہ بڑا دھچکا ان کی ساتھی وکلا خواتین کو لگا کیونکہ اب ان کے پاس لیڈر شپ رول کے لیے کوئی بڑی شخصیت موجود نہیں ہے۔  عاصمہ کی موت سے پیدا ہونے والا خلا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی لیگل فریٹرنٹی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے راضی
نہیں ہے اور یہی وہ چیز ہے جو پاکستان میں خواتین کو بڑے درجے کی وکیل یا جج بننے سے روک رہی ہے۔  سٹرکچرل ایشوز پاکستان میں قانونی کمیونٹی سینر لائرز کے چیمبرز کے گرد گھومتی ہے۔ نئے وکلا کو اپنی پہچان بنانے کےلیے ان لوگوں کی نگرانی میں بہت وقت گزارنا اور کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں لیگل ایجوکیشن کی ناکامی ہے جس میں وکلا کو اپنےبل بوتے پر بہترین سکلز کے زریعے براہ راست بلندیوں کو پہنچنا نہین سکھایا جاتا۔ قانون کے طالب علمون کا یا تو پنجاب لا کالج یا یونیورسٹی آف لندن سے ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے اور یہ دونوں ادارے طلبا کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ دوران تعلیم ڈرافٹنگ، ایڈووکیسی، اور مذاکرات کی قابلیت حاصل کر پائیں۔ اس لیے جونئیر وکلا کو کئی سال تک سینئر وکلا کی نوکری کرنا پڑتی ہے
اور اس کےلیےبھی انہیں بہت خوش قسمتی کی ضرورت ہوتی ہے۔  جس ملک میں قانون کے طالب علم سینئر وکلا کی مہربانی کی مدد سے ہی آگے جا سکتے ہوں وہاں خواتین وکلا کےلیے مواقع اور بھی کم ہو جاتےہیں۔ جب خواتین کو کوئی سینئر وکیل اپنے ساتھ بھرتی کرنا چاہتا ہے تو یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ
وہ شادی کب کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ خواتین کو یہ بھی لیکچر دیا جاتا ہے کہ ان پر کسی قسم کی انویسٹمںٹ فضول ہے کیونکہ ایک دن انہیں شادی کر کے گھر ہی سنبھالنا ہوتا ہے۔ جو خواتین انٹرویو میں پاس ہو جاتی ہیں انہیں بھی صرف ریسرچ اور ڈرافٹنگ تک محدود کر دیا جاتا ہے۔  صنفی تفاوت بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ خواتین کو ایک فیمیل ایسوسی ایٹ روم میں اکٹھا کر دیا جاتا ہے جہاں تک اچھے وکلا اور کلائنٹس کی نظر تک نہیں جاتی۔ مرد ایسوسی ایٹس کو ایسے ٹاسک دیے جاتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے کلائنٹ نیٹورک کو پھیلا سکتے ہیں اور پروفیشنل کامیابی کے لیے عدالتی پریکٹیکل سکلز بھی
حاصل کر لیتے ہیں۔ فیس کے معاملے میں بھی خواتین کو نا اہل تصور کرتے ہوئے انہیں زیادہ فیس والے کیسز نہیں دیے جاتے۔ مرد وکلا کو بڑے  بڑےکلائنٹس سے ملنے کا موقع دیا جاتا ہے جب کہ خواتین کو صرف فائلیں اکٹھی کرنے پر لگائے رکھتے ہیں۔ لاء فرمز خواتین کے لیے کام کا وقت مقرر کر دیتی ہیں اور انہیں مرد وکلا سے پہلے گھر بھیج کر انکے کیریر کو مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بوائے کلب میں پیش آنے والی مشکلات  ملک کی زیادہ تر عدالتوں میں خواتین کے لیے علیحدہ بار رومز ہیں۔ اگرچہ یہ خواتین کے تحفظ کے لیے اچھا اقدام ہے لیکن افسوس ہے کہ زیادہ تر بات چیت ان خواتین کے بار رومز میں نہیں ہوتی۔ اسلیے خواتین کو مردوں کے بار رومز میں ہی معاملات پر بات چیت کے لیے جانا پڑتا ہے۔ اگرچہ خواتین پر مین بار روم میں داخلے پر کوئی پابندی نہین ہے لیکن ایسی کوشش نہیں کی جاتی کہ خواتین کے لیے آرام دہ ماحول میں بات چیت کا خیال رکھا جائے۔ ان کے سامنے فحش گفتگو بھی کی
جاتی ہے اور آس پاس خواتین کی موجودگی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ ساتھی وکلا اور کلرک حضرات خواتین پر ہر وقت مشکوک نظریں ڈالتے نظر آتے ہیں۔ سینئر کلرک حضرات خواتین کی موجودگی میں ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے خواتین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور انہیں ماحول خراب کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ جن خواتین کو اہم کیسز باقاعدگی سے دیئے جاتے ہیں ان پر بھی کامیابی کے لیے غیر پروفیشنل طریقے استعمال کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لاء چیمبرز اور فرمز کسی قسم کی ہرسمنٹ اور قواعد و ضوابط پیش نہیں کرتے۔ جس سسٹم میں سینئر لائرز کو ہر طرح کیا آزادی ہو اور جونئیر لائرز پر وہ پورا اختیار رکھتے ہوں وہاں ہیرسمنٹ کے واقعات باقاعدگی سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہت سی خواتین پر جسمانی طور پر حملہ آور ہونے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں اور کچھ خواتین کو مرد وکلا کے ساتھ اکیلے گھنٹوں تک فحش گفتگو کے باوجود بیٹھنا پڑتا ہے۔ ایک عجیب سی صورتحال پیدا کی جاتی ہے، خواتین کو دھکم پیل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب کبھی جھگڑا ہو جائے تو خاتون کو ڈرانے کے لیے بہت سے مرد وکلا ہر رف سے گھیر لیتے ہیں۔ جلسوں کے دوران خواتین وکلا غیر محفوظ ہوتی ہیں خاص طور پر جب مرد وکلا کے جھگڑے تک بات پہنچ جاتی ہے۔ جارحیت کے واقعات اور گندی زبان جو وکلا استعمال کرتے ہیں اس کی وجہ سے ہر خاندان اپنی بیٹی کو وکالت کے شعبہ سے دور رکھنے کی خواہش کرتا ہے۔لیکن ان مسائل کا حل کیا ہے؟*قانون اور عدالتی ماحول میں خواتین کو شامل کر کے ایک کمیونٹی بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلی چیز خواتین کو تحفظ دینے کے لیے اسٹیٹیوشنل میکنزم ہے۔ تا کہ خواتین کو تشدد اور چھیڑ چھاڑ سے بچایا جا سکے۔ اس کمیونٹٰی بہتر کرنے کے لیے بار کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے وکلا خصوصا خواتین وکلا کی تربیت کی ذمہ داری لے۔ لیگل چیمبرز اور لا فرمز کی ٹریٹمنٹ کو ریگولیٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ پروفیشنل کنڈکٹ اور انٹگرٹی کو بہتر معیار فراہم کیا جا سکے۔ خواتین وکلا کا ایک نیٹ ورک بنا دیا جائے تو وہ مرد وکلا کی طرف سے جارحیت کا بھر پور طریقے سے سامنا کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سینئر وکلا کو بھی اضافی محنت کر کے خواتین ایسوسی ایٹس کی ایڈوانسمنٹ کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *