پاکستان کے نوجوان پشتون کیسی زندگی گزارتے ہیں

رضا وزیر

لاہور، پاکستان ــــــــ 13 جون کو کراچی میں پولیس نے دعوی کیا کہ انہوں نے چار دہشت گردوں کو مار ڈالا جن پر اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ تعلق کا شک تھا۔ راؤ انور ایک آفیسر ہیں جو اس مشن کی صدارت کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے پولیس پر فائر کیا اورجوابی کاروائی میں مارے گئے۔ مارے گئے افراد کی تصاویر میڈیا پر لگا دی گئیں اور پاکستانی ٹیلیوژن پر براہ راست دکھائی گئیں۔ ایک لاش کے گھر والوں نے اپنے سپوت کو پہچان لیا۔ 27 سال
کا نقیب اللہ کا تعلق فاٹا سے تھا جو افغانستان کے بارڈر پر موجود ہے۔ اسے پولیس نے دس دن پہلے گرفتار کیا تھا۔ محسود جن کے سوگواران میں ان کی بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں شہر میں مختلف کام کرتے تھے۔ اور حال ہی میں اپنے بھائی کی مدد سے کپڑوں کی دکان کھولنے کا اردا کیا تھا۔ وہ ایک دلکش فیشن ماڈل بھی تھے اور تماش بینوں کی طرح شوخ رنگوں کے کپڑوں میں ان کی تصاویر فیس بک پر لگی تھیں۔ جنوری کی اس رات خالی کمرے میں بیٹھے میرے فیس بک پر محسود کی لاش نمودار ہوئی۔ میں غصے ، غم اور بے بسی کی حالت میں دم بخود رہ گیا۔ وہ مجھ سے مختلف نہیں تھا ایک جوان پشتون آدمی جو اس ظالمانہ جنگ سے بھاگا تھا جو ہمارے گھر وزیرستان کو گیھرے ہوئے تھی۔ جو ایک تنہا جگہ ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ جنگ کے
لیے مختص کی گئی ہے۔ اور دنیا کی سب سے خطرناک جگہ کہلاتی ہے۔ "محسود بھی میری طرح پاکستان کے کسی شہر مین اپنے گھر سے دور اپنی زندگی بنانا چاہتا تھا۔ ایسا کرنے کے کے لیے ہمت اور امید کا ہونا ضروری تھا خاص طور پر پاکستان میں جن لوگوں کو شدت پسند، تنگ نظر اور متعصب لوگوں میں گنا جاتٓا ہے۔ 2014 میں پاکستانی آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف ہزاروں لوگوں کے بیچ آپریشن کیا ۔ واپسی کا سلسلہ 2016 میں شروع ہوا اور ملیٹری اتھارٹی نے راستوں کے نئے قوانین بنائے۔ وزیرستان میں آنے جانے اور گردو نواح کے علاقوں میں بھی رہنے کے لیےہر کسی کے پاس پاکستانی آی ڈی کارڈ ہونے کے علاوہ وطن کارڈ ہونا بھی ضروری ہے۔ مجھے اپنا وطن کارڈ اس سال مارچ میں ملا۔ اس پر میرے بارے میں تفصیلات کے ساتھ تصویر بھی تھی اور نارتھ وزیرستان ایجنسی کے لیے اس پر خیبر پاس اور N.W.A** کی تصویر بھی بنی ہوئی تھی۔جس سے میری اور میرے علاقے کے رہنے والوں
کی نشاندیہی پاکستانیوں سے الگ ہوتی ہے۔ پتہ چلا کہ محسود کی موت جس لڑائی میں ہوئی وہ پولیس والوں کی طرف سے چھڑی تھی۔ ہزاروں جوان پشتون اسی لیے دارالحکومت اسلام آباد میں دفاعی مارچ پر نکلے ۔ 8 فروری کو میں بھی ان کے ساتھ شامل ہونے بس پر لاہور سے روانہ ہوا۔ ر استے میں میں اپنی اور سیاسی تاریخ پر سوچنے لگا جس نے ہماری زندگییوں کو ایسا بنایا، اور ایسا وقت آیا کہ ہزاروں پشتون کو بے مثال احتجاج کے کیے نکلنا پڑا تاکے وہ یہ پیغام پہنچا سکیں کہ ہمارے ساتھ پر وقار انداز میں پیش آیا جائے اور برابری کا درجہ دیا جوئے۔ میں 1990 میں خوشالی میں پیدا ہوا، جو وزیرستان کے شمال میں ایک علاقہ ہے۔ اس علاقے کے ارد گرد ڈیورنڈ لائین سے 30 میل کے فاصلے پر کالے اور نیلے پہاڑہیں ۔اس ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے بیچ بارڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ اس علاقے کے زیادہ تر لوگ کسان ہیں، جو گندم اگاتے ہیں اور گرمیوں میں مکئی۔ کچھ لوگ قریبی تقریبا بیس ہزار آبادی پر مشتمل گاؤں میر علی میں دکان چلاتے ہیں۔معاشی تنگی سے بے شمار لوگ کمانے کے لیے دور دراز علاقوں میں کام کے لیے جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں5 سال کا تھا جب میرے والد مزدوری کے لیے دبئی چلے گئے۔  میں اپنے بھائی بہن اور ماں کے ساتھ مٹی کی اینٹوں کے گھر میں رہتا تھا۔ ہمارا دن صبح کی اذان سے شروع ہوتا ۔ نماز کے بعد ہم گھر آتے اور دودھ والی چائے پیتے۔ پاکستان کے پاس شاید نیوکلئیر طاقت ہے لیکن میرے علاقے کے لوگ روٹی
آفورڈ نہیں کر سکتے۔ صدیوں سے ہمارے اور گردو نواح کے علاقوں کے لوگ ہمیشہ سے اپنے بچوں کی بہتری کے لیے علاقہ غیر میں جاتے۔ شکر ہے اس ترسیل رقم سے 1990 کے درمیان اور آخر میں ماڈرن سکولوں میں پڑھنے کے قابل ہوئے۔ جو گورنمنٹ کے سکولوں کے مقابل قدرے بہتر تھے۔ ہماری مشکلات میں ملا محمد عمر کی صدارت میں طالبان کی وجہ سے اضافہ ہوا انہوں نے کابل میں 1996 میں ڈیرہ ڈالا ۔ وزیرستان ہزاروں مدرسوں کے شاگردوں کا راستہ بن گیا جو افغانستان میں ان طالبان سے جا ملتے ۔ ہمارے مدرسے سے بھی بہت سے جوان لوگ گئے۔ جب وہ گھر واپس آئے تو انہوں نے طالبان کے جابرانا قواعد اپنانا شروع کر دیے۔ 2001 کی گرمیوں میں میرے والد سات سال بعد دبئی سے واپس آئے۔ انہوں نے میر علی بازار میں آٹوموبائل ٹائیر خریدنے اور بیچنے کا کام شروع کیا۔ وہ دبئی کے ان ڈاکٹروں اور انجینئیروں کا بہت ذکر کرتے جن سے وہ دبئی میں ملے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ڈاکڑر بنوں۔*کچھ مہینوں بعد 1 ستمبر میں افغانستان میں طالبان پر حملوں سے ہر چیز بدل گئی۔ عرب اور وسطی ایشیا کے دہشت گرد افغانستان سے بھاگے اور وزیرستان میں آباد ہونے لگے۔ 2002 کی گرمیوں میں پاکستانی فوج نے ان ملی ٹینٹس کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے رد عمل میں علاقے کے بنیاد پرست جوان ان ملیٹینٹ گروہوں میں شامل ہونے لگے۔ میرے والد پریشان ہوتے کہ میں جنگ میں پکڑا نہ جاؤں۔ 2004 کی بہار میں میں نے ان کے ساتھ گاؤں چھوڑ دیا تاکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر ہائی سکول میں داخل ہو سکوں ۔ ہر وقت میں سوچتا کے کیا میرے گھر والے زندہ ہیں کہ نہیں ۔ اخباروں میں آئے دن وزیرستان میں تشدد بھری ظالمانہ اموات کا پتہ چلتا رہتا۔ فون بھی ان دنوں بند رہتے۔  نومبر 2009 میں براک اباما نے افغانستان میں امریکی فوج میں اضافہ کر دیا۔ اور القاعدہ اور طالبان کی لڑائی ساؤتھ اور نارتھ وزیرستان میں مزید شدت اختیار کر گئی۔ * *لندن میں صحافیوں کے تفتیشی بیورو نے اندازا لگایا کہ
امریکہ کے ڈرون حملے 2009 سے شروع ہوئے اور 2015 تک جاری رہے اور ان حملوں کے دوران 256 سے 633 تک لوگ اور 1822 سے 2761 ملیٹنٹس مارے گئے۔ میں 2009 میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گھر گیا ہوا تھا جب پہلا ڈراون حملہ میں نے از خود دیکھا۔ ایک رات میں چارپائی پر تاروں بھرے آسمان کے نیچے سو رہا تھا جب ایک زور دار دھماکے نے مجھے جگا دیا۔ میں نے سنبھلنے کی کوشش جب انکل نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ڈرون حملہ !ڈرون حملہ! دو اور دھماکے ہوئے جب میرے انکل مجھے گاؤں کے چوراہے پر لے گئے جہاں لوگ پہلے سے جمع تھے۔ لوگوں نے آگ کے گولے گرتے اور گھر جلتے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ عام طور انسان مرے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر دفنانے کے لیے بھاگتے ہیں لیکن سب کو اور ڈرون حملوں کے ڈر نے اتنا سا فاصلہ طے کرنے نہیں دیا اور یہاں تک کہ زخمی لوگوں کو بھی ہسپتال پہنچانے کی ہمت نہیں تھی۔ جب صبح جنازہ پڑھنے کا اہتمام ہوا تو میں
نے تین ملیٹنٹس کی بھی لاشیں دیکھیں۔ اس میزائیل نے ان کے جسم جھلسا دیے تھے میں کتنے دن سو نہیں پایا۔ لڑائی جاری رہی ۔ پشاور میں میں نے ہائی سکول سے گریجویٹ کیا اور لاہور کے پبلک کالج میں داخلہ لے لیا۔ دلفریب ، بڑا شہر، جنگ میں پھنسے وزیرستان اور پشاور سے بہت مختلف تھا۔ لیکن میرا پشتون ہونا اور وزیرستان سے وابستہ ہونا مجھے نسلی تجزیہ کرنے والوں کا نشانہ بناتا تھا۔ پشتون پر شک و شبہ تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد بنا جس میں بم باری کرنے سے کئی پاکستانی شہری مارے گئے۔  ایک رات کچھ پولیس کے آدمی میرے ہاسٹل کے کمرے میں آئے، یہ بات مین نے 3 پنجابی لڑکوں سے کر دی ہمارے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد وہ مجھے الگ لے گئے اور ثبوت کی تلاش میں میری کتابیں** اور سامان چھاننے لگے۔  اب تک میں نئے دوست بنا چکا تھا اور قابل اساتزہ ڈھونڈ چکا تھا اور لاہور کی معاشرتی محفلوں میں بھی شرکت کرتا تھا۔ ایک نئی دنیا کا تصور سچ لگنے لگا تھا۔ میرے والد میر علی میں دکان چلاتے رہے۔ وہ ٹائیر بیچنے کے بجائے اب لوہار بن گئے تھے ۔ یونیورسٹی میں بیٹھے2013 دسمبر کی رات میں ٹیلی وژن میں خبریں دیکھ رہا تھا۔ میں نے پاکستانی جہازوں کو میر علی پر بم باری کرتے دیکھا۔ خوش قسمتی سے میرے والد اس دن دکان پر نہیں گئے تھے۔ اگلے دن میری فیملی ڈیرا اسماعیل
خان کی طرف ایک کارواں کے ساتھ محفوظ جگہ کی تلاش میں روانہ ہوئی۔ یہ شہر پشاور سے 180 میل دور ہے۔  چھ ماہ بعد 2014 ، جون میں ملیٹینٹس کے خلاف ملیٹری کے آپریشن کے باعث ہزاروں عورتیں ، مرد اور بچے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ لوگ جو کچھ اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے لے گئے اور اپنے گھر بار چھوڑ گئے۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں کو صوبہ پختون خوا میں پناہ مل گئی۔ ایک ہفتہ بعد میں بنوں میں گیا جو قبائیلی علاقہ کے پاس ہے۔ وزیرستان سے فیملیاں شہر کی طرف روانا ہوئیں۔ شدید گرمی کی بدولت بگیاں اور ریڑھیاں چلانے والے مویشی پیاس سے مرنے لگے۔ کھلی گندی نالیوں کی وجہ سے مچھر ، ملیریا اور دوسری بیماریاں بھی پھلنے لگیں۔ ذیادہ تر لوگ دو تین سال اسی حال میں وہاں ہی رہے۔ تین سال بعد میں گھر گیا۔ پچھلی مارچ بنوں میں ایک پناہ گاہ کے کیمپ میں مجھے میرا وطن کارڈ مل سکتا تھا، جس کے بغیر میں وزیرستان نہیں جا سکتا تھا۔ ملیٹری چیک پوائنٹ پر جب میں اپنے وطن کارڈ کا انتظار کر رہا تھا میں اپنے علاقے کے ایک بوڑھے آدمی سے ملا ۔ انہوں نے کہا،" ہر قیمتی چیز تباہ ہو گئی۔ " ہم تباہ شدہ میر علی میں ملٹری ٹرک پر گئے۔ آدھے گھنٹے میں ہم ملبے سے اٹے تباہ کن علاقے میں پہنچے۔ میں نے اپنے والد کی دکان ملبے میں پہچان لی مین نے واپسی پر دوسرے تباہ کن علاقوں کو بھی دیکھا۔ جب میں خوشالی اپنے گھروالوں کے پاس پہنچا تو وہاں اور بھی فیملیوں کو پناہ گرین پایا۔ میرے والد سمیت نا امید رشتہ داروں کی ہولناک کہانیاں سنیں۔ نقیب محسود کے قتل سے نو جوان پشتونوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر امڈ آئے۔ ان کا مقصد 16 سال سے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانا ور دبی ہوئی آواز لوگوں تک پہنچانا تھا جو شاید ان کو سمجھ سکیں۔ اس احتجاج میں ایک سنگیت چلایا گیا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پشتوںوں کو کونسی آزادی میسر ہے؟ میں نے وکلاء، شاگردوں، ڈاکٹروں اور پروفیسروں کا سمندر دیکھا۔ جوان مردوں اور عورتوں کو بھی اس جلسے میں شرکت کرتے پایا ۔ ہم نے جبر استحصال اور نا انصافی کی کہانیاں سنی اور سنائیں۔ ہم سب نے کسی نہ کسی کو اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں کھویا تھا۔ وکلاء کی اموات،لوگوں کا لاپتہ ہو جانا، خیبر پختونخوا اور ذیلی علاقوں میں سے لوگوں کا ٖغیر آباد ہونا، بچوں کو معزور اور قتل کرنا، اور ایسے کئی وجوہات نے اس احتجاج میں غصہ اور آگ بھری۔ ایک خاتون نے بتایا کہ راؤ انوار کی صدارت میں پولیس نے کیسے اس کے 2 بچوں کو گرفتار کیا اور پھر غائب کر دیا۔ وہ ہی محسود کے قتل کا بھی ذمہ دار تھا۔ تب سے اس عورت نے اپنی بینائی کھو دی لیکن اب بھی اپنے بیٹوں کی منتظر ہے اور پاکستانی حکام سے مدد کی التجا کر رہی ہے۔ انہون نے کہا:" میں اپنے بچوں کو ان کی خوشبو سے پہچان لوں گی

source : https://mobile.nytimes.com/2018/03/09/opinion/pashtun-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *