ست سری اکال

کسی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ملتا ہے تو میری روح فنا ہو جاتی ہے۔ اُس سے بھی زیادہ خوفناک صورتحال تب بنتی ہے جب سٹیج پر بیٹھنا اور تقریر کرنا پڑ جائے۔ ایک ادبی تقریب میری دو دیہاڑیاں مار لیتی ہے۔ میں نے چونکہ لکھ کر ہی کمانا ہوتا ہے لہٰذا دو دن کی غیر حاضری میری مزدوری پر ایسی لات رسید کرتی ہے کہ عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اکثر احباب کی محبتوں کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرزا یاسین بیگ کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہوئی۔ مرزا صاحب جب کوئی کام سوچ لیتے ہیں تو ہاتھ دھوئے بغیر ہی اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اب کی بار انہوں نے مژدہ سنایا کہ وہ پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام ننکانہ صاحب میں قومی اہل قلم کانفرنس منعقد کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اُنہیں میری آمد درکار ہے۔ مجھ سے انکار اس لیے بھی نہ ہو سکا کہ مرزا صاحب انکار سننے کے عادی ہی نہیں۔ ننکانہ صاحب میں جانے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ جتنا میں جاتے ہوئے خوفزدہ تھا اُتنا ہی واپسی پر تروتازہ تھا۔ نوجوان قلم کاروں کی یہ سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ یہ سوچتے ہیں اور کر گزرتے ہیں۔ ننکانہ کچہری کے ہال میں بھی یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ سخت گرمی کے باوجود ہائوس فل تھا اور مرزا صاحب حسب معمول کوٹ پینٹ پہنے ٹائی لگائے نظامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اُس پہ ستم یہ کہ پورے پروگرام کے دوران لائٹ غائب رہی۔ مرزا صاحب کو داد دینا پڑے گی کہ اتنی گرم فضا میں بھی انہوں نے نہ کوٹ اتارا نہ ٹائی ڈھیلی کی‘ بے شک بعد میں انہیں ''پت‘‘ ہی کیوں نہ نکل آئی ہو۔
یہاں مختلف اہل قلم نے انٹرویوز‘ فیچر‘ کالم اور دیگر اصناف کے حوالے سے تربیتی گفتگو کی۔ نعیم مرتضیٰ‘ زاہد حسن‘ الطاف احمد‘ حسیب اعجاز عاشر‘ سید بدر سعید‘ مہر شوکت علی‘ سعدیہ یاسین‘ ملک شہباز‘ شفاعت علی مرزا اور ناصر ادیب نے بھرپور خطاب کیا۔ ناصر ادیب چونکہ مولا جٹ سمیت بے شمار پنجابی فلموں کے معروف رائٹر ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے خطاب میں بھی مولا جٹ بن کر دکھایا اور ڈیڑھ گھنٹے کا 'مختصر‘ خطاب فرما کر ہی دم لیا۔ تقریب کی تمام تر خوبصورتی لکھاریوں کی کہکشاں جمع کرنے میں تھی جس کے لیے بجا طور پر انتظامیہ مبارک باد کی حق دار ہے۔
دوسرا شاندار کام یہ ہوا کہ مرزا صاحب مجھ سمیت چند لکھاریوں کو خصوصی فرمائش پر جنم استھان بابا گرو نانک لے گئے۔ یہاں عموماً اتوار کے روز عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن معروف صحافی جاوید احمد معاویہ کا اثر و رسوخ کام آیا اور ہمیں خاص طور پر اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ یہاں سب رائٹرز کو جی آیاں نوں کہا گیا۔ جس طرح ہمارے ہاں مساجد میں مولوی صاحب ہوتے ہیں‘ اسی طرح سکھوں میں 'گیانی‘ ہوتے ہیں جو درس دیتے ہیں۔ موقع پر موجود گیانی صاحب نے امن و محبت کی بات کی اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھ مت کے پانچ امتیازی نشان ہیں جنہیں 'ککا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سارے نشان 'ک‘ سے شروع ہوتے ہیں‘ یعنی کیس‘ کرپان‘ کچھا ‘ کڑا اور کنگھا۔ کیس سے مراد سر اور داڑھی کے بال ہیں جنہیں مذہبی تعلیمات کے مطابق نہ کاٹنے کا حکم ہے۔ کرپان ایک چھوٹی سی چاقو برابر تلوار ہوتی ہے اور سکھوں کا ماننا ہے کہ یہ غیرت کی علامت ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ اس سے اپنی اور کسی کمزور کی حفاظت کی جائے۔ کچھے سے مراد کچھا ہی ہے‘ یہ زیر جامہ گھٹنوں تک ہوتا ہے اور اسے عزت کی حفاظت کی نشانی کے طور پر پہنا جاتا ہے۔ کڑا بھی سکھ مذہبی احکامات کا حصہ ہے اور سکھ مت کے مطابق جو سکھ کڑا نہیں پہنتا وہ سچا سکھ نہیں ہو سکتا۔ کنگھا صفائی کی علامت ہے تاکہ بالوں کو ہر وقت صاف اور ترتیب سے رکھا جا سکے۔
سکھ برادری کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمیں ہماری معلومات کے لیے وہ جگہیں بھی دیکھنے کی اجازت دی گئی جنہیں عام حالات میں خود سکھ یاتریوں کے لیے بھی نہیں کھولا جاتا۔ ان میں خصوصی طور پر وہ کمرہ ہے جس میں سکھ مذہب کی مقدس کتاب 'گرنتھ‘ رکھی ہوئی ہے۔ جتنی تفصیل مجھے یاد ہے اس کے مطابق اس کتاب کو گیارہویں اوتار کا درجہ دیا جاتا ہے اور سکھ مذہب میں اِس کو باقاعدہ ایک زندہ انسان کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی اس کتاب کے لیے خاص طور پر ایک انتہائی خوبصورت کمرہ موجود ہے جہاں باقاعدہ اس کتاب کو ایک سونے کی پالکی میں بٹھا کر بیڈ پر رکھا جاتا ہے اور ایک انسان تصور کرتے ہوئے کمرے میں موسم کے لحاظ سے اے سی اور ہیٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔ جنم استھان کے احاطے میں 'جوڑا گھر‘ نہایت اہم چیز ہے۔ پوری دنیا سے جب سکھ یاتری یہاں آتے ہیں تو اپنے جوتے 'جوڑا گھر‘ میں رکھوا کر ننگے پائوں جنم استھان میں عبادات کرتے ہیں۔ اس دوران انہی یاتریوں میں سے کئی لوگ 'جوڑا گھر‘ میں رکھے جوتوں کو پالش کرتے ہیں اور مرمت کرتے ہیں۔ یہ گویا ایک قسم کا اپنی ذات کی نفی کا اظہار ہوتا ہے۔ بالکل یوں سمجھ لیجئے جیسے کئی اللہ والے مسجد میں جھاڑو لگاتے ہیں۔
جنم استھان میں ایک بہت بڑا تالاب ہے جس میں کسی دور میں سکھ نہایا کرتے تھے تاہم معاویہ صاحب نے بتایا کہ آس پاس کے مسلمان گھروں کی چھتیں اونچی ہوتی گئیں جس کی وجہ سے نہ صرف تالاب کی دیواریں بھی اونچی کرنا پڑیں بلکہ خواتین کے غسل خانے بھی علیحدہ سے بنانے پڑ گئے۔ یہاں ایک دلچسپ سردار جی سے ملاقات ہوئی۔ عام طور پر آپ نے پنجابی سکھ ہی دیکھے ہوں گے لیکن یہ سردار جی پشتو سپیکنگ تھے اور ٹوٹی پھوٹی اردو بول لیتے تھے۔ نہایت محبت سے ملے اور پنجابی بولنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ ''ہم پشاور توں آئی ہوا ہے‘‘۔ معاویہ صاحب کے مطابق ننکانہ میں مقامی سکھوں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے تاہم جب ہندوستان اور دیگر ممالک سے یاتری یہاں آتے ہیں تو ایک میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ ایک حیرت انگیز بات اور پتا چلی کہ سکھ مذہب میں بھی شراب حرام ہے؛ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی کوئی خاص احتیاط نہیں کی جاتی۔ البتہ تمباکو نوشی کو یہ سخت گناہ سمجھتے ہیں‘ گوشت نہیں کھاتے‘ لیکن سچی بات ہے کہ ہر مذہب کی طرح سکھ مذہب کی بھی نئی نسل ان میں سے بہت سی باتوں کی پروا نہیں کرتی۔ یہاں سب سے عجیب کام یہ ہوا کہ ہمارے ساتھ آنے والے کچھ احباب نے عصر کی نماز کا وقت ہوتے ہی وہیں نماز پڑھی۔ مجھے خطرہ تھا کہ کہیں کوئی فساد نہ شروع ہو جائے لیکن سکھوں نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا‘ الٹا گیانی صاحب فرمانے لگے کہ اگر کوئی یہاں نماز پڑھتا ہے تو بھلا مجھے کیا نقصان ہے‘ ہم نے کبھی کسی کو یہاں اپنی عبادت کرنے سے نہیں روکا۔ میں نے معاویہ صاحب کے کان میں آہستہ سے پوچھا کہ کیا باقی مذاہب کی عبادت گاہوں میں بھی یہی صورتحال ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو‘ کیا آپ کو نہیں پتا؟ میں نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی اور دوسری طرف دیکھنے لگا‘ جہاں ایک سکھ بدر سعید کو ست سری اکال کر رہا تھا اور بدر سعید بھی اسی طرح اسے جواب دے رہا تھا

(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *