ایک آسیب زدہ عمارت

اِس ویرانے میں یہ مکان کچھ عجیب سا لگا، اس کا طرز تعمیر بظاہر سادہ تھا مگر عام مکانوں جیسا نہیں تھا، کوئی کھڑکی نہیں تھی، کوئی دریچہ نہیں تھا، کوئی دروازہ بھی نہیں تھا یا کم ازکم مجھے کوئی دروازہ نظر نہیں آیا، میں نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی کہ شاید کوئی نظر آ جائے مگر یہاں کوئی نہیں تھا، چاروں طرف سناٹا تھا اور مکان کے اندر روشنی نظر آ رہی تھی، یقیناً یہاں کوئی رہتا ہے میں نے سوچا، یا شاید یہ میرا وہم ہو کیونکہ اندر جھانکنے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا تو پھر کسی مکین کا کیسے پتہ چلتا، مگر روشنی کہیں نہ کہیں سے ضرور چھن رہی تھی ورنہ اس قدر گھپ اندھیرے میں تو کچھ بھی دکھائی نہ دیتا۔ میں نے دوبارہ گھوم کر دیکھا لیکن کہیں کسی ذی روح کا نشان نہیں ملا، پھر بھی مجھے لگ رہا تھا جیسے اندر کوئی ہے اور وہ میری ہر حرکت دیکھ رہا ہے، میرے پورے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی اور میں چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ آس پاس کے درختوں کی شاخیں مکان پر جھکی ہوئی تھیں اور یوں لگ رہا تھا جیسے انہوں نے مکان کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہو۔ اِس ویرانے میں کون یہاں رہتا ہوگا، میں نے خود سے پوچھا، شاید کوئی سنکی قسم کا آدمی، ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو شہر سے دور بیابان علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، انہیں شہر کے ہنگاموں سے کوفت ہوتی ہے، ایسے

لوگ مردم بیزار ہوتے ہیں یا شاید تنہائی پسند۔ مجھے البتہ ویرانوں سے وحشت ہوتی ہے، میں ہمیشہ پُررونق جگہ رہنا پسند کرتا ہوں، شہر کے بیچوں بیچ انسانوں کے ہجوم میں۔ لیکن پھر میں یہاں کیسے پہنچ گیا، کون مجھے یہاں لایا، کیا میں خود آیا ہوں، اپنے پیروں پہ چل کے، ہاں شاید ایسا ہی ہے کیونکہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری ٹانگوں میں شدید تھکن ہے، ایسی تھکن جو میلوں چلنے کے بعد ہوتی ہے، لیکن چند لمحے پہلے تک تو میں بالکل ہشاش بشاش تھا پھر اچانک کیسے مجھے تھکاوٹ ہو گئی! میں نے دوبارہ مکان کی طرف دیکھا، یقیناً اس کا کوئی دروازہ ہوگا، اندر جانے کا کوئی راستہ، ورنہ اس مکان کو بنانے کا کیا فائدہ، یا ممکن ہے اس کا مالک ایسا ہی مکان تعمیر کرنا چاہتا ہو جس میں اُس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص داخل ہی نہ ہو سکے، مگر ابھی تو مجھے خود اس عجیب و غریب عمارت کے مکین کی تلاش تھی۔ مجھے کچھ بھوک بھی محسوس ہونے لگی، کب سے میں نے کچھ نہیں کھایا تھا، کیا معلوم مکان میں کھانے پینے کا سامان موجود ہو، میں نے سوچا، اگر یہاں کوئی رہتا ہے تو اس نے خوراک کا ذخیرہ تو کر رکھا ہو گا۔ یہی سوچ کر میں نے مکان کی طرف قدم بڑھائے، اب کی بار مجھے یوں لگا جیسے عمارت کے اندر سے کوئی مجھے بلا رہا ہے، یکایک مجھے اندر داخل ہونے کا راستہ بھی نظر آ گیا جو پہلے میری نظروں سے اوجھل تھا، میرے قدم خود بخود اس طرف اٹھ گئے۔ اچانک میرے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی، نامانوس زبان میں کسی نے میرا نام لیا تھا یا شاید خوش آمدید کہا تھا، میں فیصلہ نہیں کر پایا، یکدم آواز دینے والا سامنے آگیا، یہ پچاس پچپن برس کا آدمی تھا، غیر معمولی طور پر طویل قامت، اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا، ہر قسم کے جذبات اور تاثرات سے عاری، چوکھٹ پر غالباً اسی کی آواز تھی، مجھے لگا وہ کوئی اور زبان تھی جس کے الفاظ میں نے سنے تھے۔ پھر مزید کچھ کہے بغیر اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا، میں دم سادھے اس کے پیچھے چل پڑا، ہم ایک کشادہ سے کمرے میں آ گئے جہاں ایک میز اور دو کرسیاں رکھی تھیں، باقی کمرہ خالی تھا، کمرے کی دیواروں پر آڑھی ترچھی لکیریں کھنچی تھیں جیسے کسی بچے نے دیوار پر نقش و نگار بنائے ہوں۔ یکدم اُس اجنبی نے مجھے مڑ کر دیکھا اور بولا ’’میرا کوئی بچہ نہیں، یہ لکیریں جو تم دیکھ رہے ہو میں نے خود کھینچی ہیں۔‘‘ میرے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا، ہم کمرے کے وسط میں کھڑے تھے، چاروں طرف مکمل سکوت طاری تھا، مجھے یوں لگا جیسے میرا یہاں آنا، اس عمارت کے مکین کو تلاش کرنا، اس اجنبی کا ملنا، سب پہلے سے طے شدہ تھا، مگر میرے ذہن میں اس کی کوئی تفصیل نہیں تھی، دماغ کے کسی کونے میں یادداشت کے کسی خانے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ’’کیا تم مجھے جانتے ہو؟ بتا سکتے ہو کہ میں یہاں کیسے اور کیوں آیا ہوں؟‘‘ میرے منہ سے بالآخر دو جملے نکلے۔ اجنبی کے ہونٹوں پر ایک لمحے کے لئے مسکراہٹ آئی اور پھر اُس کا چہرہ ویسے ہی تاثرات سے عاری ہو گیا، سپاٹ لہجے میں اُس کی آواز آئی:
’’یہ سوال تم اپنے آپ سے پوچھو کہ یہاں کیوں آئے ہو !‘‘
’’میں تو فقط سچ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’سچ تو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے مگر کہنے کی ہمت نہیں رکھتا۔۔۔ سچ تو وہ ہے جس سے تم خوف کھاتے ہو۔۔۔ تمہیں سچ نہیں جاننا، تمہیں دراصل یہ جاننا ہے کہ اپنی پُرآسائش زندگی میں کتنا سچ بولنا چاہئے۔ میں تمہارے حصے کی حقیقت تم سے زیادہ تمہیں نہیں بتا سکتا، اپنی حقیقت اور اپنا سچ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے۔‘‘
’’نہیں مجھے نہیں معلوم۔۔۔ یقین مانو۔۔۔ میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’سب یہی کہتے ہیں مگر اصل میں ہر کوئی اپنی مرضی کا سچ سننا چاہتا ہے۔‘‘
’’تم کون ہو، یہاں اس ویران مکان میں اکیلے کیوں رہتے ہو؟‘‘ نہ جانے میں نے یہ سوال پہلے کیوں نہیں کیا۔
’’کیا تمہیں ان لکیروں کا مطلب سمجھ میں آیا؟‘‘ اجنبی نے میرا سوال نظر انداز کرتے ہوئے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے دیوار پر نظر ڈالی جہاں کچھ دیر پہلے آڑھی ترچھی لکیریں تھیں مگر اب وہ جگہ بالکل صاف تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے تازہ تازہ روغن کیا ہو۔
’’یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے، وہ لکیریں کہاں گئیں؟‘‘
’’وہ لکیریں اب بھی دیوار پر ہیں، فقط تمہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔‘‘
’’کیوں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر دیوار پر لکیریں موجود ہیں تو مجھے کیوں نظر نہیں آ رہیں؟‘‘
’’اس لئے کہ تم وہ لکیریں دیکھنا نہیں چاہتے۔۔۔انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ وہی سنتا ہے جو وہ سننا چاہتا ہے۔۔۔!‘‘
’’مگر کچھ دیر پہلے تک تو لکیریں مجھے صاف دکھائی دے رہی تھیں!‘‘
’’اس وقت تمہارا ذہن میرے بارے میں تشکیک کا شکار نہیں ہوا تھا، اب تمہارے دل میں وسوسے ہیں، بدگمانی ہے، تعصب ہے، تمہیں سب کچھ ویسا ہی دکھائی دے گا جیسا تم نے سوچ رکھا ہے۔ ‘‘
میں نے جھرجھری لے کر دوبارہ دیوار پر نظر ڈالی، لکیریں وہاں نظر آ رہی تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ مکان میں داخل ہونے کا راستہ بھی پہلے مجھے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے خوفزدہ آواز میں پوچھا۔
’’یہ جاننا ضروری نہیں کہ میں کون ہوں۔۔۔ تمہارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ تم کون ہو، کیا تم خود کو پہچانتے ہو، کیا واقعی تم سچ اور حقیقت کو جاننا چاہتے ہو یا فقط اُن باتوں پر سچ کا لبادہ اوڑھنا چاہتے ہو جنہیں تم سچ سمجھ چکے ہو!‘‘
میں خاموش ہو گیا، شاید میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کمرے میں سکوت طاری ہو گیا، کافی دیر یوں ہی گزر گئی۔
’’مجھے یہاں آئے کتنا وقت ہو چکا ہے؟‘‘ میرا سوال کچھ عجیب تھا مگر اجنبی کو حیرت نہیں ہوئی۔
’’تمہاری دنیا کے مطابق بیس برس گزر چکے۔ جن باتوں کو تم سچ مانتے تھے اُن کی حقیقت آشکار ہو چکی۔ باہر جاؤ اور دیکھو تمہاری دنیا کے لوگ اب کیا سوچتے ہیں، وہ کس بات کو سچ مانتے ہیں، اب ان کے نزدیک حقیقت کیا ہے، انہیں سمجھانے کی کوشش کرو کہ سچائی اور حقیقت تک کیسے پہنچا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے تمہارے زمانے میں لوگ تمہیں سمجھانے کی کوشش کرتے تھے اور تم انہیں جھوٹا اور غدار کہہ کر جھڑک دیتے تھے۔‘‘ یہ کہہ کر اجنبی نے اپنے مکان کا دروازہ کھولا اور مجھے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ میں چپ چاپ اس مکان سے باہر نکل آیا۔ پیچھے مڑ کر جب میں نے اس آسیب زدہ عمارت پر نظر ڈالی تو مکان کا دروازہ پھر غائب ہو چکا تھا۔
ایک نئی دنیا میرا انتظار کر رہی تھی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *